ستاروں کے آگے جہاں اور بھی ہیں

2

انسان نے جب سے زمیں پر ہوش سنبھالا ہے تب سے اپنے اردگرد کے بارے جستجو اور تحقیق اس کی طبیعت کا خاصہ رہی ہے چاہے وہ زمیں کے کوئی پوشیدہ راز ہوں یا خلا کی وسعتوں میں پہناں کوئی بات ہو، انسانی سوچ ہمیشہ اس کو مسخر کرنے پر تلی ہے۔
جیسے خلا کی اپنی وسعتوں کی انتہا نہیں ویسے ہی انسان کی کھوج اور تحقیق اس کے کسی ایک نقطہ تک محدود نہیں ہے۔ یہ انسان کی جستجو اور مسلسل تحقیق کا ہی نتیجہ ہے کہ آج زمین پر بیٹھ کر وہ خلا کی وسعتوں میں اربوں میل دور نئی دنیا دریافت کرنے کے قریب ہے۔

علامہ اقبال کی نظم کے چند وہ اشعار جو انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی

About author
Profile photo of admin6

Your email address will not be published. Required fields are marked *