جسمانی معذوری محنت سے بچنے کا عذر نہیں

جسمانی معذوری محنت سے بچنے کا عذر نہیں

32 views

پاکستان جیسے ملک میں جہاں کسی کو جینے کا حق نہیں دیا جاتا اور عوام دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہے۔ کسی ایسے موضوع پر آواز اٹھانا جو معذوری سے متعلق ہو اچھنبے کی بات ہے۔ کیونکہ اس موضوع کو اکثر با شعور معاشروں میں بھی نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں معذوروں کی حقوق کی جنگ لڑنے والوں کو ہمارا سلام۔

ہم کہیں یہ فراموش کرچکے ہیں کہ یہ افراد جسمانی طور پر کسی معذوری کا سامنا کر رہے ہیں لیکن صلاحیتوں میں یہ بھی کم نہیں۔ ہمارے اس رویے نے جسمانی کمی کا شکار افراد کو بھی یہ سمجھ لینے پر مجبور کردیا کہ وہ کسی قابل نہیں اور وہ خود بھی کسی کی مدد یا سہارے کے منتظر رہتے ہیں۔

نیٹ ورک آف آرگنائزیشنز ورکنگ ود پیپل ود ڈس ایبیلیٹیز پاکستان ہمیں اور آپ کو بس یہی یاد دلانے کی کوشش میں ہے کہ مواقع کسی کی جاگیر نہیں اور مواقع سب کو یکساں ملنے چاہیئیں اور کسی بھی قسم کی جسمانی کمی کو آپ محنت سے بچنے کا عذر نہیں بنا سکتے۔ ان کی کوشش ہے کہ معذور افراد کو ایسا موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرسکیں۔

اسی سلسلے میں نیٹ ورک آف آرگنائزیشنز ورکنگ ود پیپل ود ڈس ایبیلیٹیز پاکستان نے ایکسپولرنگ انٹرپرنیورل اوپرٹینیٹیز فار پرسنز ود ڈس ایبیلیٹیز ود ندیم حسین کے عنوان کے تحت ایک سیشن کا انعقاد کیا۔ اس ادارے کا مقصد معذوروں کی تعلیمی اور معاشی میدان میں رہنمائی کرنا ہے۔ دستور اور یقین ان ہی کاوشوں کی کڑیاں ہیں۔

ندیم حسین پلانٹ این کے بانی ہیں اور تعمیر مائیکرو فائنینس بینک کے سابق سی ای او رہ چکے ہیں۔ ندیم حسین نے سیشن کے دوران معذروں کے لئے اپنا کاروبار کرنے کے حوالے سے حقائق پر روشنی ڈالی۔

سیشن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی جنہیں ندیم حسین نے حوصلہ دیا کہ “میں آج یہاں آپ کی اپنا کاروبار شروع کرنے کے حوالے سے حوصلہ افزائی کرنے آیا ہوں”۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں نوجوان موجود ہیں اور نوکریوں کے مواقع اتنی تعداد میں موجود نہیں تو اپنا کاروبار کرنے کا یہ ایک بہترین وقت ہے۔

ان کی جانب سے پہلے دس آئیڈیاز کو اپنے ادارے پلانٹ این کی طرف سے مالی معاونت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

 

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *