اسٹیٹ بینک کاروبار کے قیام اور نمو کے لیے ایس ایم ایز کی معاونت کررہا ہے

اسٹیٹ بینک کاروبار کے قیام اور نمو کے لیے ایس ایم ایز کی معاونت کررہا ہے

2 views

اسٹیٹ بینک کاروبار کے قیام اور نمو کے لیے ایس ایم ایز کی معاونت کررہا ہے

بینک دولت پاکستان نے اپنی ایس ایم ای فنانس پالیسی اور ری فنانس پالیسی اسکیموں کے بارے میں آگاہی کو بہتر بنانے کے لیے گجرانوالہ کے

کٹلری، اسٹین لیس اسٹیل برتنوں، واٹر پمپس اور سرامکس بنانے والوں اور برآمدکنندگان کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام کیا۔

اسٹیٹ بینک کی نمائندگی کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید ثمر حسنین نے کہا کہ ایس ایم ایز متعدد مالی خدمات حاصل کرسکتی ہیں

جیسے کاروبار کے قیام اور توسیع اور مخصوص شعبوں کے لیے ورکنگ کیپٹل فنانس۔

انہوں نے کہا کہ تمام ری فنانس سہولتیں 6 فیصد سالانہ کی مقررہ شرح سے دستیاب ہیں اور بینکوں کو بھی ایس ایم ایز کو قرضے فراہم کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔

انہوں نے حالیہ اقدامات جیسے مائیکروفنانس بینکوں سے قرضے کی زیادہ سے زیادہ حد میں اضافہ کرکے اسے دس لاکھ روپے کرنا

، قرضہ درخواست فارم کو آسان بنانا اور  جواب دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت مقرر کرنا کے بارے میں تفصیل سے بتایا

جن کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ایز کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کی خاطر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس نے

، جو اسٹیٹ بینک کا ذیلی ادارہ ہے اور مکمل اس کی ملکیت میں ہے، پچھلے سال لگ بھگ 2500 بینکاروں کو تربیت دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس ایم ای فنانس کی پالیسی کے ساتھ ایس ایم ایز کے لیے کئی ری فنانس پالیسیاں نجی شعبے کے مجموعی قرضے میں

ایس ایم ای فنانس کا حصہ موجودہ 8.5 فیصد سے بڑھا کر 2023ء تک 17 فیصد کرنے کی راہ ہموار کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرض لینے والوں کی تعداد بھی موجودہ 180000 سے بڑھ کر 2023ء تک 700000 ہوجانے کی توقع ہے۔

انہوں نے شرکا کو آگاہ کیا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے بینکوں کو قومی اور صوبائی سطحوں پر اہداف دیے گئے ہیں۔

انہوں نے بینکوں اور ایس ایم ای تنظیموں پر زور دیا کہ علاقائی اور قومی سطح پر آگاہی کی  مہمیں چلائیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *