ستاروں کے آگے جہاں اور بھی ہیں

193
x
Published on February 22, 2017 by admin6

انسان نے جب سے زمیں پر ہوش سنبھالا ہے تب سے اپنے اردگرد کے بارے جستجو اور تحقیق اس کی طبیعت کا خاصہ رہی ہے چاہے وہ زمیں کے کوئی پوشیدہ راز ہوں یا خلا کی وسعتوں میں پہناں کوئی بات ہو، انسانی سوچ ہمیشہ اس کو مسخر کرنے پر تلی ہے۔
جیسے خلا کی اپنی وسعتوں کی انتہا نہیں ویسے ہی انسان کی کھوج اور تحقیق اس کے کسی ایک نقطہ تک محدود نہیں ہے۔ یہ انسان کی جستجو اور مسلسل تحقیق کا ہی نتیجہ ہے کہ آج زمین پر بیٹھ کر وہ خلا کی وسعتوں میں اربوں میل دور نئی دنیا دریافت کرنے کے قریب ہے۔

علامہ اقبال کی نظم کے چند وہ اشعار جو انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی

Category Tag

Add your comment

Your email address will not be published.