48860674

اورلینڈو حملہ آور عمر متین کی اہلیہ بھی گرفتار

44 views

واشنگٹن: امریکی ریاست فلوریڈا کے جنوبی شہر اورلینڈو کے نائٹ کلب پر حملہ کرکے 50 افراد کو ہلاک کرنے والے عمر متین کی اہلیہ کو وفاقی تحقیقاتی بیورو (ایف بی آئی) نے حراست میں لے لیا۔

امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار نے خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ عمر متین کی اہلیہ نور سلمان کو پیر کے روز سان فرانسیسکو سے حراست میں لے لیا گیا اور انہیں کیلیفورنیا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نور سلمان پر فراہمی انصاف میں رکاوٹ بننے کے الزامات ہیں۔

واضح رہے کہ نور سلمان اپنے شوہر عمر متین کی ہلاکت کے بعد سان فرانسیسکو منتقل ہوگئی تھیں۔

12 جون 2016 کو پیش آنے والے واقعے میں عمر متین نے ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب میں حملہ کرکے 50 افراد کو ہلاک کردیا تھا جبکہ بعد میں پولیس کی کارروائی میں وہ خود بھی مارا گیا تھا۔

عمر متین نے حملے کے دوران شدت پسند تنظیم داعش کی اطاعت کا اعلان کیا تھا تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ یہ عمر متین کا انفرادی فعل تھا یا اس کے پیچھے داعش کا ہاتھ تھا۔

حملے کے بعد عمر متین کی سابق اہلیہ ستارہ یوسفی کا کہنا تھا کہ عمر متین ایک جذباتی، ذہنی طور پر پریشان اور پرتشدد مزاج کا حامل شخص تھا جو پولیس افسر بننا چاہتا تھا۔

ستارا یوسفی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کی طوفانی شادی کے محض 4 ماہ بعد ان کے اہلخانہ نے انھیں ان کے سابق شوہر سے ‘بچایا’ تھا، جس کا اختتام بعدازاں طلاق پر ہوا۔

امریکا کے کئی دیگر نوجوانوں کی طرح عمر متین نے بھی اپنے ہائی اسکول میں تعلیم کے دوران اور بعد میں پبلکس گراسری اسٹور، سرکٹ سٹی، چِک فل اے اور وال گرینس سمیت کئی نوکریاں کیں۔

عمر متین نے 2003 میں اپنی گریجویشن مکمل کی جس کے بعد وہ ریاستی جیل میں بھی 6 ماہ ملازم رہا۔

کئی نوکریاں تبدیل کرنے کے بعد بالآخر اسے جنوبی فلوریڈا میں بطور سیکیورٹی گارڈ نوکری میں مزہ آنے لگا اور نائٹ کلب میں حملے سے قبل بھی وہ وہیں نوکری کرتا تھا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *