g 3

سیروگیسی کیا ہے

1673 views

سیروگیسی کیا ہے

محاورہ پرانا ہے مگر ہمیشہ مستعمل ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے، ایسی ہی ضرورت اس وقت پیش آئی جب ابتداء میں بے اولاد جوڑے اولاد کی خواہش میں ہر ممکن طریقہ اپنانے کے لئے تیار ہوئے۔ طب نے انکی مدد کی اور سیروگیسی جیسا طریقہ تولید متعارف ہوا جو اب دنیا بھر میں کامیاب کاروبار بھی ہے۔

دنیا بھر کے ایسے صاحب ثروت حضرات اورخصوصا شادی شدہ جوڈے جو خود کسی وجہ سے بچے پیدا کرنے سے قاصر ہیں وہ پیسوں کے عوض کسی ضرورت مند خاتون کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور طبی عمل سے گزرنے کے بعد بچہ کے ماں باپ بننے کا سکھ حاصل کرتے ہیں۔

ابتدائی طور پرضرورت کے طور پر کام کرنے والا یہ طریقہ بعد میں فیشن کے طور پر ایسے جوڑوں نے بھی اپنایا جو پہلے سے صاحب اولاد تھے اور دوبارہ بھی والدین بن سکتے تھے لیکن جسمانی خدوخال میں تبدیلی یا کچھ اور وجوہات کی بناء پر سیروگیسی کے ذریعے ماں باپ بنے، اس کی بہت سی مثالیں بھارتی فلم انڈسٹری میں پائی جاتی ہیں۔

سیروگیسی کا طریقہ کار۔

سیروگیسی ایک ایسا متبادل طریقہ تولید یا بچے کی پیدائش کا ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک عورت کسی دوسرے جوڑے کے ایمبریو کو اپنے رحم میں رکھتی، اُس کی نشو نما کرتی اور اُس بچے کو دنیا میں لانے کا سبب بنتی ہے۔

زیادہ تر کیسز میں ایسے والدین جو کسی بائیالوجیکل یا حیاتیاتی نقص کے سبب بچہ پیدا نہیں کر سکتے، اُن کے ایمبریو یا جنین کو سیروگیٹ یا متبادل ماں کے بطن میں رکھا جاتا ہے اور یوں یہ متبادل ماں بچے کو پیدا کرتی ہے اور بچے کے بائیالوجیکل یا حیاتیاتی ماں باپ کے حوالے کر دیتی ہے۔

اس میڈیکل کنڈیشن میں سیروگیسی ماں کا بچے کے باپ سے جسمانی تعلق بالکل ضروری نہیں ہوتا کیونکہ اس میں تمام عمل طبی آلات کی مدد سے مکمل کیا جاتا ہے۔ خواہشمند باپ کے نطفے اور ماں کے بیضے سے لیبارٹری میں جین (بارور بیضہ) تیار کرکے اسے کسی صحت مند عورت کے رحم میں منتقل کردیا جاتا ہے جہاں یہ قدرتی عمل سے گزر کر ایک صحت مند بچہ کی شکل میں اس دنیا میں نارمل طریقے سے پیدا ہوتا ہے۔

سیروگیسی ایک صنعت ۔

سیروگیٹ یا متبادل ماؤں کی فراہمی اب ایک کاروبار بن چکی ہے، بچہ کا خواہش مند  جوڑا بڑی قیمت دے کر بچہ پیدا کرنے والی ماں کی خدمات حاصل کرتا ہے، اس طلب کے کھیل میں لازم تھا کہ رسد کو ممکن بنایا جائے اور رسد کا کام غریب ممالک سے زیادہ کوئی اور بہتر طور پر پورا نہیں کرسکتا تھا۔

سب سے پہلے یہ رجحان بھارت میں آیا جہاں خواتین نے یورپی جوڑوں کو بچے پیدا کرنے کے لیئے کوکھ کرائے پر دینے کا سلسلہ شروع کیا، بعد میں بھارت کے مختلف صوبوں میں اس کام کے لئے باقائدہ اسپتال نما مراکز اور ہاسٹل قائم کئے گئے جہاں طبی عمل سے لے کر پیدائش تک پروفیشنل طور پر سیروگیٹ ماں کو رکھا جاتا ہے۔

بعد میں دیگر ممالک جیسے نیپال اور تھائی لینڈ میں یہ کاروبار فروغ پانے لگا، مسائل اور قانون شکنی کے مختلف پہلو سامنے آنے لگے تو ان ممالک میں سیروگیسی پر پابندی عائد کی گئی جس کے بعد اس صنعت کا فروغ یوکرین کی جانب بڑھ گیا۔

تیسری دنیا کی ایسی غریب عورت جس کے پاس بہتر روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں وہاں سیروگیسی جیسے کام نے اس کے لئے یکمشت بڑی رقم کا انتظام کردیا، صرف ایک بچہ پیدا کرنے پر اسے اچھی خاصی رقم ملنے لگی جس سے اس کی زندگی کے مسائل میں کسی قدر کمی آگئی۔

کچھ لوگوں اسے عورت خاص کر ماں جیسے مقدس رشتے کا استحصال سمجھتے ہیں جبکہ دوسری جانب لوگوں کی رائے یہ بھی ہے کہ دنیا کی بڑی تجارتی کمپنیاں، سیاست اور گلیمر اس سے کہیں زیادہ سخت کاروبار ہیں، جو لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مسائل اور قانونی حیثیت

سیروگیٹ ماں بچے کو پیدا کرتی ہے اور بچے کے بائیالوجیکل یا حیاتیاتی ماں باپ کے حوالے کر دیتی ہے۔

سننے میں یہ بات نامناسب خیال ہوتی ہے کہ کسی ماں سے اس کا بچہ پیدائش کے فورا بعد لے لیا جائے یہاں تک کہ کبھی کبھی اسے ایک جھلک دیکھنے کی اجازت بھی نہ دی جائے، مگر چونکہ اس میں فریقین کی رضامندی شامل ہوتی ہے اسلئے انسانی حقوق کی پامالی جیسے مسائل کا شائبہ کم نضر آتا ہے مگر اسکے باوجود بھی کچھ ایسے پہلو مختلف کیسوں میں سامنےآئے جہاں قانون سازی کی ضرورت پیش آئی ۔

جیسے بیمار یا معذور بچے کی پیدائش کے بعد اسے اصل والدین نے لینے سے انکار کردیا، یا جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد ایک بچے کو وصول کرکے دوسرے بچے کو سیروگیسی ماں کے رحم و کرم پر چھور دیا گیا۔ پیسوں کے لین دین یا کمیشن ایجنٹ کی بلیک میلنگ وغیرہ اور دیگر معاملات جب عالمی توجہ کا مرکز بنے تو

کمرشل سیروگیسی یا تجارتی مقصد کے لیے متبادل ماؤں کا کاروبار کرنے والی صنعت پر گہری تنقید کی جانے لگی جس میں قوانین و ضوابط کا سخت فقدان پایا جاتا ہے۔ متبادل ماں کے ذریعے بچے پیدا کرنے کے بارے میں امیر اور ترقی پذیر ممالک نے قوانین بہت سخت کر دیے ہیں۔

یوکرین کے قانون کے مطابق صرف وہی عورت اپنی کوکھ کرائے پر دے سکتی ہے جس کی کم از کم اپنی ایک اولاد ہو۔ اس کی یہ وجہ بتائی جاتی ہے ہ عورتیں بچے کی پیدائش پر جذباتی نہ ہو جائیں۔

سروگیٹ ماؤں کا پیدا ہونے والے بچوں پر نہ تو کوئی حق ہوتا ہے اور نہ ہی ذمہ داریاں، لہٰذا انڈیا میں یہ کام بہت آسان ہے۔ اس کے برخلاف مغربی دنیا میں بچہ پیدا کرنے والی خاتون کو ہی بچے کی اصل ماں سمجھا جاتا ہے اور پیدائشی سرٹیفیکیٹ بھی اسی سروگیٹ ماں کے نام ہوتا ہے’۔

بچوں کی پیدائش کے اس طریقہ کار کے بارے میں قوانین عدم مطابقت کا شکار ہیں۔ مختلف ممالک نے اس بارے میں مختلف قوانین و ضوابط بنا رکھے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت، یوکرائن اور تھائی لینڈ میں سیروگیسی یا بچے کی متبادل پیدائش سے متعلق قوانین بہت نرم ہیں اور اس لیے امیر ممالک کے ایسے والدین میں بہت مقبول ہیں جو کسی طبعیاتی نقص کے سبب بچے پیدا نہیں کر سکتے اور اپنی یہ خواہش پورا کرنے کے لیے سستے داموں متبادل ماؤں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

سیروگیسی ایک متنازع عمل

مذہبی نقطہ نظر جہاں اس طرح کی کسی چیز کی اجازت ملنا بعید از قیاس ہے وہیں معاشرتی حوالے سے بھی یہ ایک ناپسندیدہ عمل خیال کیا جاتا ہے۔

اس معاملے میں دونوں فریقین کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے لوگوں بہت سے افراد کی نظر میں یہ ایک متنازعہ عمل ہے۔

 لوگ ایسے مراکز یا افراد کو الزام لگاتے ہیں کہ یہ ایک کاروبار ہے، یہاں بچے فروخت ہوتے ہیں، یہ گھر بچے پیدا کرنے کی فیکٹری ہے یا یہ ایک کرایہ پر کوکھ رکھنے والی خاتون ہے جسے ناقدین “بچہ فیکٹری “ بھی کہتے ہیں۔

ضرورت اس عمل کی ہے کہ ضرورت کی اس ایجاد کو ایسے قانونی سانچے میں ڈھالا جائے جہاں فریقین میں سے کسی کا استحصال نہ ہو۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *