oo

جسم مشین کی مانند، تھکن ایک علامت ہے۔

1044 views

جسم مشین کی مانند، تھکن ایک علامت ہے۔

انسانی جسم ایک مشین کی طرح کام کرتا ہے جس کے ایک پرزے یا کلیئے میں گڑ بڑ پوری مشین کو ڈھیر کرسکتی، ناکارہ بنا سکتی ہے یا اسکے افعال میں رکاوٹ پیدا کردیتی ہے۔

ہر جسم اپنی ساخت اور عادت کے مطابق کام کرتا ہے اور مصروفیت کے بعد جسم، ذہن کو یہ اطلاع فراہم کردیتا ہے کہ اب آرام کے لئے تھوڑا وقت درکار ہے، اسے ہی تھکاوٹ کہا جاتا ہے۔

لیکن جناب اگر کسی مشقت کے بغیر ہی یہ احساس طاری رہے تو اسکی پیچھے آپ کی کچھ غیر صحت مندانہ عادات ہوسکتی ہیں،

کسی بیماری کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے یا جسم کسی خاص کمی کا شکار ہے جس کی علامات میں سے ایک تھکاوٹ بھی ہے۔

آیئے جانتے ہیں اس ضمن میں کچھ خاص باتیں۔

آئرن، وٹامن بی 12 کی کمی۔

جسم میں آئرن کی کمی آپ کو کمزور، سست اور چڑچڑا بنادیتی ہے، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آئرن کی کمی سے خلیات اور مسلز کو آکسیجن کو کم ملتی ہے جو تھکاوٹ کا سبب بنتے ہیں،

اور اس کی مستقل کمی مختلف سنگین امراض کا سبب بن سکتی ہے، تاہم سبز پتوں والی سبزیاں، انڈوں، نٹس اور وٹامن سی سے بھرپور اشیاءکے استعمال سے اس سے بچا جاسکتا ہے۔

بالکل اسی طرح وتامن بی12 کی کمی گوشت، مچھلی، چکن، انڈوں اور دودھ میں پائے جانے والا اہم وٹامن ہے، جو کہ دماغ، اعصاب، خون کے خلیات اور جسم کے

دیگر اعضاءکے افعال کو درست رکھنے اور نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہارمونز کی سطح میں کمی یا زیادتی

مردوں میں ٹسٹوسیٹرون نامی ہارمون کی سطح میں کمی جسمانی تھکاوٹ کا احساس بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح مردوں و خواتین میں کورٹیسول کی سطح میں کمی کا نتیجہ بھی تھکاوٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔

خواتین میں ایسٹروجن کی سطح بڑھنا اور پروجسٹرون کی ناکافی مقدار تھکا ہوا اور چڑچڑا بنا دیتی ہے۔ اگر مسلسل ایسا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے جو کہ ٹیسٹ کی مدد سے اس کی وجہ بتاسکے گا۔

شوگر

جب خون میں گلوکوز کی شرح بڑھ جائے تو دوران خون متاثر ہوتا ہے جس کے باعث خلیات کو آکسیجن اور غذائیت نہیں ملتی اور آپ تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔

بلڈ شوگر لیول کم ہونے کی صورت میں چکر آنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔ اگر تھکاوٹ کے ساتھ پیاس زیادہ لگنے لگے، پیشاب زیادہ آنے لگے،

بھوک کا احساس بڑھ جائے، نظر دھندلانے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرالینا بہتر ہوتا ہے۔

تھائی رائیڈ ہارمونز

تھائی رائیڈ گلے میں ایسا گلینڈ ہے جو میٹابولزم کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ہارمونز پیدا کرتا ہے،

اگر تھائی رائیڈ ہارمون کی سطح کم ہو تو تھکاوٹ کا تجربہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹھنڈ کا احساس، قبض،

جلد کی خشکی، ناخن بھربھرے ہوجانا اور بالوں کا گرنا تھائی رائیڈ میں مسائل کی دیگر نشانیاں ہیں۔

خون کے ایک سادہ ٹیسٹ سے اس بات کا پتا چلایا جاسکتا ہے جس کے بعد ڈاکٹر علاج تجویز کرسکتا ہے۔

کہیں ڈپریشن کا مرض تو نہیں

تھکاوٹ کے ساتھ نیند کے معمولات میں تبدیلیاں عام طور پر ڈپریشن کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہوتی ہے۔

اس کی دیگرعلامات میں کسی کام کے لیے عزم کی کمی، اپنے پسندیدہ مشغلوں کو بیزارکن محسوس کرنا اور بے بسی کا احساس ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

اگر کبھی اس مرض کا شبہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے جس کے لیے وہ مناسب طریقہ علاج تجویز کرسکے گا۔

نیند پوری نہ ہونا

ناکافی اور غیر معیاری یعنی بےچین نیند تھکاوٹ کی اہم ترین وجہ ہوسکتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 7 سے 8 گھنٹے کی نیند عام طور پر ہر بالغ فرد کی ضرورت ہوتی ہے،

تاہم اتنے دورانیے تک سونے کے باوجود تھکاوٹ دور نہیں ہوتی، تو اس کی وجہ نیند کا معیار ہوسکتا ہے۔

ماحولیاتی مسائل جیسے ڈیوائسز کی اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی، آوازیں، سرد یا گرم موسم، غیر آرام دہ بستر وغیرہ اس کی وجہ ہوسکتے ہیں۔

اس سے بچاﺅ کا طریقہ بھی آسان ہے، نیند کا ایک شیڈول طے کرکے اس پر عمل کریں۔ سونے سے قبل گرم مشروبات سے دور رہیں اور بستر پر ڈیوائسز کے استعمال سے گریز کریں۔

ورزش بھی اہم ہے

ایک تحقیق کے مطابق صحت مند مگر سست طرز زندگی کے عادی بالغ افراد اگر ہفتہ بھر میں تین بار صرف بیس منٹ کی ورزش کو معلوم بنالیں تو وہ خود کو توانائی زیادہ بھرپور اور تھکاوٹ

کا کم شکار ہوتے ہیں، معمول کی ورزش جسمانی مضبوطی بڑھاتی ہے جبکہ آپ کا نظام قلب زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے لگتا ہے اور یہ صحت مند تھکاوٹ آپ کو چست اور توانا بنا سکتی ہے۔

چائے کافی کا زیادہ استعمال

اپنے دن کا آغاز کافی یا چائے سے کرنا کافی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، درحقیقت دن میں تین کپ کافی آپ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے

مگرکیفین کا بہت زیادہ استعمال نیند اور جاگنے کے سائیکل کو بری طرح متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں دن بھر تھکاوٹ کا احساس غالب رہتا ہے۔

کھانے کے اوقات

دن بھر میں کھانے اور ناشتے کے اوقات اور صحت مند غذا نہ کھانا تھکاوت کا سبب بنتا ہے خاص کر رات کو کھانے کے بعد سونے کے دوران آپ کا جسم اس سے حاصل ہونے والی

توانائی کو خون کی پمپنگ اور آکسیجن کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتا رہتا ہے، تو جب آپ اٹھتے ہیں آپ کو ناشتے کی شکل میں اپنی توانائی کے ایندھن کو دوبارہ بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے،

جسے چھوڑ دینا آپ کو کاہلی یا سستی کا شکار کردیتا ہے۔

بستر پر موبائل کا استعمال

سونے کی جگہ پر ایک ٹیبلیٹ، اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کی روشنی آپ کے جسم کے قدرتی شب روزہ تبدیلی کے لیے مضر ثابت ہوتی ہے کیونکہ

اس سے وہ ہارمون متاثر ہوتا ہے جو نیند کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہے، جس کے نتیجے میں نیند متاثر ہوتی ہے اور دن کا آغاز تھکاوٹ کے احساس کے ساتھ ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *