d

پھیپھڑوں کے کینسر سے آگاہی کا مہینہ

428 views

پھیپھڑوں کے کینسر سے آگاہی کا مہینہ

اہم باتیں جان لیں

نومبر کا مہینہ لنگز کینسر سے آگاہی کا مہینہ ہے۔ جس کے لئے کچھ اہم باتیں جان لینا ضروری ہے۔

عام کینسروں کے مقابلے میں لنگز کینسر میں زندگی کی معیاد سب سے کم یعنی 5 سال ہے جو صرف %18ہے

لنگز کینسرموذی مرض ہے جو مریض کو جینے کا زیادہ موقع نہیں دیتا۔ پھیپھڑوں میں موجود ٹیومر بہت اندر ہونے

کی وجہ سے ناصرف سرجری کرکے نکالنا مشکل ہوتا ہے بلکہ اس کی بائیوپسی کرنا بھی مشکل ہوجاتی ہے۔

سالانہ21000 لوگ ریڈن کی وجہ سے پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہوکر مر تے ہیں۔ یہ پھیپھڑوں کے کینسر

سے ہونے والی اموات کی دوسری اہم وجہ ہے

لنگز کینسر کو ہمیشہ سگریٹ نوشی سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن اس کی دوسری بھی کئی وجوہات ہیں جیسے

ریڈن جس کا ذکر کم ہی کیا یا سنا جاتا ہے۔ریڈن ایک قدرتی طور پر پائی جانے والی ریڈیو ایکٹو گیس ہے جو مٹی

،پتھر اورپانی میں ہوتی ہے۔کھلی فضا میں تو اس کے مضر اثرات نہیں ہوتے لیکن اگر یہ کسی بند عمارت میں لیک ہوجائے

تو اس کے ذرات عمارت میں رہنے والے لوگوں کے پھیپھڑوں میں جمع ہوکر لنگز کینسر کا باعث بن سکتے ہیں ۔

اکثر لوگ گھر کی فضا میں اس کی آمیزش سے ناواقف ہوتے ہیں۔

۳متاثرہ علاقوں میں لو ڈوز سی ٹی اسکین کے ذریعے ابتدا میں ہی اس مرض کی پکڑ ہوجانے سے شرح اموات

میں 14سے 20فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔

صحت مند لوگوں کی بھی باقاعدہ اسکریننگ ہونے سے ابتداء ہی میں بیماری کا پتہ چل جاتا ہے دنیا بھر میںاسکریننگ

کے طریقے کو بریسٹ کینسر،پروسٹیٹ کینسر اورکولو ریکٹر کینسر کو کم کرنے کا کارآمد طریقہ مانا جا رہا ہے۔

لو ڈوز سی ٹی اسکریننگ لنگز کینسر کی شرح اموات کوبھی کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگ

اس کے بہت زیادہ مہنگا ہونے اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

صرف 16فیصد مریضوں کی ابتدا ء میں تشخیص ہو پاتی ہے، جب کہ مرض کا علاج ممکن ہوتا ہے۔

لنگز کینسر کے مریضوں کی زندگی کم ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ابتدا ءمیں مرض کی کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوپاتیں۔

عام طور پر سینے کے معمولی انفیکشن کی وجہ سے بھی شدید کھانسی،کمزوری اور وزن میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

اور لوگ اس پر زیادہ توجہ نہیں دیتے نہ ہی ڈاکٹر سے رابطے کو ضروری سمجھتے ہیں ۔اگر وہ ڈاکٹر کے پاس چلے

بھی جاتے ہیں تو عام ایکسرے میں چھوٹے چھوٹے نشان نظر نہیں آتے اور ڈاکٹر مریض کو صرف اینٹی بائیوٹک دے کر

گھر بھیج دیتا ہے ۔بدقسمتی سے سی ٹی اسکین اس وقت ہی کیا جاتا ہے جب علامات کسی بڑی بیماری کی نشاندہی کررہی

ہوتی ہیں اور کینسر کی تشخیص ہوتے ہوتے مرض ہڈیوں یا دماغ تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔

سگریٹ نوشی کرنے والے ملازمین سگریٹ نوشی نہ کرنے والوںکے مقابلے میں اپنے مالکان کا 6000ڈالرسالانہ

زائد خرچہ کراتے ہیں

ہوائی آلودگی اور ریڈن کے اثرات سے لوگوں کو انفرادی طور پر تو نہیں بچایا جاسکتا لیکن اس سلسلے میں سگریٹ

نوشی کو ناپسند ضرور کیا جاتا ہے۔کچھ ممالک میں سگریٹ نوشی کرنے والے لوگوں کو اس لئے ملازم نہیں رکھا جا تا

کیونکہ وہ اپنے صحت کے مسائل کی بناء پر ادارے کے اخراجات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

دنیا بھر میںبڑھتی ہوئی ہوائی آلودگی سے مستقبل قریب میں پھیپھڑوں کے کینسرکی وجہ سے شرع اموات میں

اضافہ ہوسکتاہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *