ایک بیماری ۔ ۔ ایک کان سے بھی مرد کی آواز نہیں سنتی

ایک بیماری ۔ ۔ ایک کان سے بھی مرد کی آواز نہیں سنتی

6 views

ایک بیماری ۔ ۔ ایک کان سے بھی مرد کی آواز نہیں سنتی

یہ خاتون مردوں کی آواز ایک کان  سے سن کر دوسرے سے نکالتی نہیں بلکہ سچ مچ ایک بیماری

کے باعث صرف مردوں کی آواز سننے کی صلاحیت کھو چکی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چین سے ایک حیرت انگیز خبر آئی ہے کہ ایک خاتون ایسی کیفیت کی شکار ہوگئی ہیں

کہ وہ خواتین کی آواز تو سن پاتی ہیں مگر مردحضرات کی آواز انہیں سنائی نہیں دیتیں یہاں تک کے وہ اپنے

مرد دوست کی آواز بھی نہیں سن سکتیں۔

ذرائع ابلاغ نے خاتون کا نام مِس چین بتایا ہے جنہیں ایک رات قے اور کانوں میں سیٹیاں بجنے کی شکایت تھی

اور جب وہ صبح بیدار ہوئیں تو مردوں کی آواز ان کے لیے ناقابلِ سماعت تھی یہاں تک کہ وہ اپنے دوست کی

آواز بھی نہیں سن پارہی تھیں۔

جنوب مشرقی چینی علاقے ژیامن میں رہنے والی خاتون اس کے بعد ہسپتال گئیں تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ’ریورس سلوپ‘ کے

مرض میں مبتلا ہیں جس میں انسان کم فری کوئنسی کی آواز نہیں سن پاتا۔ یہ کیفیت پوری دنیا میں صرف 3 ہزار افراد میں ہی

رپورٹ ہوئی ہے۔ اس کے شکار مریض مردوں کی آواز نہیں سن پاتے ہیں کیونکہ مرد دھیمی فری کوئنسی میں بات کرتے ہیں

اور خواتین کی آواز میں لوچ کی وجہ سے ان کی فری کوئنسی بلند ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سماعت سے محرومی کی عام بیماری کے شکار افراد بلند فری کوئنسی سننے سے قاصر رہتے ہیں

اور اس میں کیفیت الٹ ہوجاتی ہے یعنی وہ بچوں اور خواتین کی آواز نہیں سن پاتے ۔

ہسپتال میں جب ان خاتون کو لایا گیا تو ہر عورت کا ایک ایک لفظ سننے کے قابل تھیں لیکن مردوں کی آواز ان

کی سماعت سے باہر تھی۔ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں جن میں جینیاتی کیفیات، وولفرم

سنڈروم اور مونڈینی ڈسپلیسیا قابلِ ذکر ہیں۔

ماہرین کے مطابق خاتون شدید ذہنی تناؤ اور نیند کی شدید کمی کی شکار تھیں جس کی وجہ سے یہ عارضہ پیدا ہوا

اور اسے جلد دور کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق خاتون کا علاج جاری ہے اور وہ تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *