بچے کتاب

آپ کے بچے کتابوں سے قریب رہیں، یہ خواب نہیں حقیقت ہے 

802 views

آپ کے بچے کتابوں سے قریب رہیں، یہ خواب نہیں حقیقت ہے

دور بدل رہا ہے اور تقاضے بھی، ٹیکنالوجی کی ترقی اور آسان رسائی نے اقدار میں تبدیلی کی ہے مگر کچھ

بنیادیں چیزیں نہ ہی بدلی جائیں تو ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بہتر معلوم ہوگا۔

بچوں میں مطالعے کے شوق یعنی کتب بینی کو نہ صرف تعلیمی میدان بلکہ زندگی کے دیگر شعبوں میں

بھی کامیابی سے جوڑا جاتا ہے۔ بچوں کو کتابیں پڑھانا تو اتنا مشکل کام نہیں، لیکن کتابوں سے محبت سکھانا

ایک والدین اور اساتذہ کے لئے محنت طلب کام ضرور ہے۔ اپنے بچوں کو کتاب دوستی کیسے سکھائیں آئیے جانتے ہیں۔

بچوں کی نظر کے سامنے۔ ۔ ۔

گھر چھوٹا ہو یا بڑا ایک گوشہ کتابوں کے لئے مخصوص ہونا ضروری ہے۔یہ بچوں میں کتابوں کی ہر وقت

موجودگی، ہروقت انکے لئے دستیابی میں ہونے کی وجہ سے ایک رشتہ قائم کرے گا۔

 یہ بچوں کومطالعے کا شوقین بنانے میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھر میں

موجود کتابوں کی تعداد اور بچوں کی مجموعی تعلیمی قابلیت کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے۔ وہ والدین جو گھر

میں زیادہ تعداد میں کتابیں رکھتے ہیں اس حوالے سے زیادہ فائدے میں رہتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے روزانہ کی

بنیاد پر کتابوں سے تعلق انہیں اس کا عادی بنا دیتا ہے۔

بچوں کو کر کے دکھائیں،وہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

بچے دیکھ کر سیکھتے ہیں نا کہ وہ جو انہیں بول کر کرنے کے لئے کہا جائے۔ بچوں میں مطالعے کا شوق پروان چڑھانے

کا بہترین طریقہ بچوں کے سامنے خود کتابیں پڑھنا ہے۔ ایسا چھپ کر نہ کریں بلکہ ایسی جگہ بیٹھ کر کتابیں پڑھیں جہاں

آپ کے بچے آپ کو کتابیں پڑھتے دیکھ سکیں۔ اگر آپ کے بچے سمجھتے ہیں کہ پڑھنا ایسا کام ہے جو بڑے نہیں کرتے

تو ہوسکتا ہے کہ وہ بھی بڑے ہونے پر کتابوں سےلا تعلقی اختیار کرلیں۔

پڑھ کر سنائیں ۔ ۔ ۔

کتابیں پڑھ کر سنانے سے والدین کی جانب سے بچوں کوایک غیر شعوری اہمیت کا احساس ہوگا جس کے اثر سے

وہ کبھی نکل نہ پائیں گے۔ بچے اس سے کتابوں سے محبت سیکھتے ہیں بلکہ یہ کام وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر

کرتے ہیں جن سے وہ محبت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ گروپ میں اگر باآواز کتاب پڑھی جائے تو بچے الفاظ کا

صحیح تلفظ بھی سیکھتے ہیں اور اس سے ان کی پڑھنے کی روانی بھی بہتر ہوتی ہے۔جب وہ تھوڑے بڑے ہوجائیں

تو ان سے کہیں کہ وہ آپ کو کتابیں پڑھ کر سنائیں اور ایسا کرتے ہوئے اگر وہ الفاظ کی کوئی غلطی کردیں تو انہیں

ڈانٹنے کے بجائے نہایت تحمل سے ان کی درستگی کریں، کہیں وہ اپنا اعتماد نہ کھو بیٹھیں۔ اس سرگرمی سے بچوں

کے تلفط اور ریڈنگ میں بہتری بھی آتی رہے گی۔

کتاب کو تفریح کے طور پر پیش کرنا بھی ضروری ہے

اگر آپ اپنے بچے کو مطالعے کے عادی بنا رہے ہیں تو انہیں کتابیں کافی مزیدار محسوس ہونے لگیں گی۔

مگر پھر بھی انہیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ دنیا میں کس کس طرح کے موضوعات پر کتابیں پائی جاتی ہیں۔

چنانچہ جب کبھی بھی آپ باہر جائیں اور آپ کا بچہ آپ سے چیزوں کے بارے میں سوال کرے تو آپ ان سوالات کو نوٹ کرلیں۔

اس کے بعد آپ 2 کام کرسکتے ہیں۔ آسان طریقہ تو یہ ہے کہ خود پڑھ کر اس سوال کا جواب بچوں کو دے

دیا جائے، مگر زیادہ اثرانگیز طریقہ جو بچوں کو کتاب سے محبت سکھائے گا وہ یہ ہے کہ بچوں کے پسندیدہ

موضوعات سے تعلق رکھنے والی کتابوں کا تحفہ مہینے میں ایک بار ضرور دیجئے ۔

مطالعے کی مستقل عادت بنانا بھی ضروری ہے

دیگر کئی صحت بخش چیزوں اور کھیل کی سرگرمیوں کی طرح کُتب بینی کا شوق بھی بچوں کی عادت میں

شامل کیا جاسکتا ہے۔ والدین کے طور پر آپ روزانہ مطالعے کے لیے وقت مخصوص کرسکتے ہیں۔

کیونکہ کسی بھی چیز کی عادت اسی وقت ہوتی ہے جب اسے روزانہ اور لگاتار کیا جائے، چنانچہ کوشش کریں

کہ آپ کسی بھی دن بلا ناغہ چاہے آپ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں اس کو عادت کو بچوںمیں پروان چڑھائیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *