غلام فرید صابری کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے

غلام فرید صابری کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے

23 views

قوالی کو نئی جہت دینے والے معروف قوال غلام فرید صابری کو بچھڑے پچیس برس بیت گئے۔

‘تاجدارِ حرم’ اور اس جیسی دیگر کئی مقبول قوالیوں سے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کر دینے والے

غلام فرید صابری نہ صرف پاکستان کے مقبول ترین قوال تھے بلکہ دنیا بھر میں قوالی کے

کروڑوں چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔

غلام فرید صابری 1930 میں بھارتی صوبے مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے،

انھیں بچپن سے ہی قوالی گانے کا شوق تھا، انہوں نے قوالی کی باقاعدہ تربیت اپنے والد عنایت صابری

سے حاصل کی۔ 70 اور 80 کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا

انھوں نے “بھر دو جھولی میری یا محمد” جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منویا۔

قوالی کے فن ميں يکتا حاجی غلام فريد صابری نے 1946ميں پہلی دفعہ مبارک شاہ کے

عرس پر ہزاروں لوگوں کے سامنے قوالی گائی، جہاں ان کے انداز کوبے پناہ سراہا گيا۔

ان کا پہلا البم 1958 میں ریلیز ہوا، جس کی قوالی ‘میرا کوئی نہیں تیرے سوا’ نے مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے۔

ان کی متعدد قوالیوں کو فلموں میں بھی استعمال کیا گیا، جن میں ‘محبت کرنے والوں’ اور ‘آفتاب رسالت’ بہت مقبول ہوئیں۔

پانچ اپریل 1994 کو کراچی میں غلام فرید صابری کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *