روزہ طبّی سائنس کی روشنی میں

روزہ طبّی سائنس کی روشنی میں

30 views

جب بھی رمضان المبارک کا مہینہ آئے، تو دنیا بھر میں مسلمان ذوق و شوق سے روزے رکھتے ہیں۔ دن بھر کھانے، پانی، جھوٹ، غصّہ، گالم گلوچ وغیرہ سے پرہیز ہوتا ہے۔

روزہ رکھنا محض مذہبی فریضہ نہیں یہ مسلمان کو جسمانی و روحانی فوائد بھی عطا کرتا ہے۔ روزہ خصوصاً انسان کو تندرستی دینے

کی ایسی زبردست حکمت عملی ہے جسے اللہ تعالی نے بطور تحفہ اپنے بندوں کو عطا فرمایا۔ جدید طبی سائنس اب

اسی حکمت عملی میں پوشیدہ سائنسی حقائق دریافت کررہی ہے۔

اسی تحقیق کا نتیجہ ہے، یورپ اور امریکا کے کروڑوں لوگوں میں فاقہ کشی کرنے کے مختلف طریقے مقبول ٹرینڈ یا رجحان بن چکے

اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال قبل مسلمانان عالم کو رمضان المبارک کا تحفہ عطا کیا تھا۔ تب طبی سائنس گھٹنوں کے بل چل رہی تھی۔

مگر خدائے برتر و بزرگ کو علم تھا کہ روزے کے عمل میں انسان کے لیے جسمانی و روحانی فوائد پوشیدہ ہیں۔ اسی باعث روزہ رکھنا ایمان کا حصہ بنا دیا گیا ۔

یہ خدائے پاک کی بنی نوع انسان سے محبت اور اس کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جدید طبی سائنس چودہ سو برس بعد

اس حقانیت سے واقف ہورہی ہے۔عام مشاہدہ ہے کہ اگر طبی طور پہ درست طریقے سے روزے رکھے جائیں

تو محض تیس دن میں انسان صحت کی دولت پا لیتا ہے ۔وزن کم ہوتا ہے،بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے اور انسان زیادہ چاق وچوبند ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ معجزہ جنم لینے کی وجوہ کیا ہیں؟بنیادی وجہ یہ ہے کہ روزے رکھنے کا عمل انسانی جسم میں نہایت

چھوٹی یعنی خلویاتی سطح پر ایسی حیرت انگیز تبدیلیاں لاتا ہے جو انسان کو تندرستی کی راہ پہ گامزن کر دیتی ہیں۔

طبی سائنس سے منسلک ماہرین نے پچھلے چند برس کے دوران خلویاتی سطح پر تحقیق و تجربات کرنے سے ہی جانا ہے

کہ روزے رکھ کر دن بھر بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کی صحت کیونکر بہتر ہوتی ہے۔

اسی لیے دنیائے مغرب میں کروڑوں مرد و زن مسلمانوں کی دیکھا دیکھی سال کے مخصوص مہینے یا مہینوں کے مخصوص دنوں میں فاقہ کرنے لگے ہیں۔

امریکا اور یورپی ممالک میں ڈاکٹر فاقہ کشی کرنے کے اپنے خصوصی غذائی پروگرام ترتیب دے چکے

جنہیں مقبولیت مل رہی ہے۔ ان کی بدولت ڈاکٹر سالانہ کروڑوں ڈالر کمارہے ہیں۔ اسی طرح کئی کمپنیاں فاقہ کشی سے

متعلق مخصوص غذائیں تیار کررہی ہیں۔ دنیائے مغرب میں فاقہ کشی کی صنعت اربوں ڈالر مالیت کی ہوچکی۔

طبی سائنس نے پچھلے چند برس کے دوران روزہ رکھنے (یا دن بھر فاقہ کرنے) کے جو فوائد دریافت کیے  ان کا بیان درج ذیل ہے۔

چربی کا خاتمہ

امریکا کی یونیورسٹی آف فلوریڈا میں تین ماہرین غذائیات… ڈگلس بین ‘ مارٹن ویگمن اور مائیکل گاؤ پچھلے دو برس سے

اس امر پر تحقیق کر رہے ہیں کہ جب انسان کئی دن کھانے پینے سے دور رہتا اور فاقے کرتا ہے تو انسانی جسم پر کس قسم کے اثرات پیدا ہوتے ہیں؟

رمضان المبارک کے مہینے سے متاثر ہو کر ہی ان کی تحقیق کا آغاز ہوا۔ان ماہرین غذائیات کا کہنا ہے کہ قدیم انسان بھی فاقے کرتے تھے۔

جب ان کے علاقے میں غذا کثرت سے ہوتی، تو وہ خوب کھانا کھاتے۔ مگر جب غذا نایاب ہو جاتی ‘ تو قدیم انسان کئی دن فاقے کرتے۔

یہی وجہ ہے‘ انسانی بدن کے خلیے بھوک اور قحط کا عمدگی سے مقابلہ کر لیتے ہیں۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ روزے رکھنے سے جب بدن میں شکرِ خون  (بلڈ شوگر) یا گلوکوز کی مقدار کم ہو جائے‘ تو اس عمل سے انسان کو طبی فوائد ملتے ہیں۔

یاد رہے‘ جب ہم کھانا کھائیں‘ تو ہمارا جسم غذا  سے شکر حاصل کرتا ہے۔ یہ شکر بھی جسم کا ایندھن ہے۔ خون ہر عضو تک یہ ایندھن پہنچانے

کا ذمے دار ہے۔انسانی جسم میں جگر‘ پتہ اور آنتیں شکر کی مقدار متوازن رکھتی ہے۔ اگر زیادہ کھانا کھانے سے

جسم میں شکر کی مقدار بڑھ جائے‘ تو پتہ ایک ہارمون ‘ انسولین خارج کرتا ہے۔

یہ ہارمون زائد شکر کو گلائیکو جن (glycogen) مادے کی صورت جگر میں جمع کر دیتا ہے۔

انسانی جسم میں شکر کی مقدار کم ہو جائے تو جگر ایک ہارمون ‘ گلوکوجن خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون جسم میں جمع گلائیکو جن کو دوبارہ شکر

میں تبدیل کر کے اسے خون میں چھوڑ دیتا ہے تاکہ انسانی بدن کو روزمرہ کام کاج کرنے کی خاطر توانائی ملتی رہے۔

اگر جگر میں جمع گلائیکوجن ختم ہونے لگے‘ تو وہ اس کی بچی کچھی مقدار بچا لیتا ہے۔

یہ گلائیکوجن اب شکر کی صورت اہم انسانی اعضا مثلاً دماغ ،دل اور گردوں کو ایندھن یا توانائی فراہم کرے گا۔

جگر پھر بقیہ انسانی اعضا کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے

انسان کے بدن میں موجود چربی کو ’’کیٹونیس‘‘   کیمیائی مادوں میں بدل دیتا ہے۔ یہ کیٹونیس مادے بقیہ اعضا

کے خلیوں کو توانائی فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا کام درست طریقے سے انجام دے سکیں۔

ایک نارمل انسان کے بدن کو کیٹونیس مادہ نقصان نہیں پہنچاتا ۔ لیکن انسان  ذیابیطس  میں مبتلا ہے تو خون میں کیٹونیس مادے کی زیادتی

اسے کئی مسائل میں گرفتار کر وا سکتی ہے۔ مثلاًقے آنا‘ سانس لینے میں مشکل ‘ دل تیزی سے دھڑکنا‘ گھبراہٹ‘ وغیرہ۔

اگر فوری علاج نہ ہو تو انسان مر بھی سکتا ہے ۔ اسی لیے ذیابیطس کا شکار مریضوں کو

دیکھ بھال کر روزہ رکھنا چاہیے۔بہر حال نارمل انسان میں چربی ختم ہونے سے اسے سمارٹ اور تندرست بننے میں مدد ملتی ہے۔

موٹاپے کا شکار ذیابیطس میں مبتلا مرد و زن بھی روزے رکھ کر چربی سے نجات پا سکتے ہیں۔

لیکن ضروری ہے کہ وہ اپنے خون میں کیٹونیس مادہ بڑھنے نہ دیں اور اس کی مقدار اعتدال میں رکھیں۔

وزن میں کمی دراصل طوالت عمر کی کنجی اور بڑھاپا روک حکمت عملی ہے۔

جانوروں اور انسانوں پر کیے گئے طبی تجربات سے ثابت ہو چکا کہ کم وزن رکھنے والے جان دار فربہ جانداروں کی نسبت زیادہ عرصے زندہ رہتے ہیں۔

مضر صحت آزاد اصلیے

انسان اربوں خلیوں کا مجموعہ ہے۔ یہی خلیے شکر کے ذریعے جسم کو درکار توانائی پیدا کرتے ہیں۔

اس عمل کے دوران ایک خطرناک ضمنی پیداوار (بائی پروڈکٹ ) ’’آزاد اصلیے‘‘ بھی جنم لیتی ہے۔

یہ ایسے  سالمات (مالیکیول) ہیں جن میں الیکٹرون نہیں ہوتا لہذا وہ شتر بے مہار غنڈے بن جاتے ہیں ۔

وہ  خلیوں پر حملے کر کے ان کا الیکٹرون چراتے اور انھیں  ناکارہ بناتے ہیں۔قدرت الٰہی نے

مگر آزاد اصلیے ختم کرنے کی خاطر انسان سمیت تمام جانداروں میں ’’ضد تکسیدی مادے‘‘ پیدا کر دیئے ۔یہ مادے مسلسل آزاد اصلیوں

کو الیکٹرون دے کر انھیں غیر مضر سالمات یا شرفا میں بدلتے رہتے ہیں۔ یوں انسانی جسم میں آزاد اصلیوں کی تعداد بڑھنے نہیں پاتی اور انسان تندرست رہتا ہے۔

انسان مگر مضر صحت غذا کھائے‘ تمباکو نوشی کرے‘ کیڑے مار ادویہ سے لت پت کھانے ہڑپ کرے‘ تو یہ اشیا جسم میں آزاد اصلیے

زیادہ تعداد میں پیدا کرتی ہیں جنھیں ضد تکسیدی مادے ختم نہیں کر پاتے۔ چنانچہ آزاد صلیے پھر خلیوں پر حملے کر کے

انسان کو موذی امراض مثلا کینسر‘ امراض قلب ‘ ذیابیطس ‘ ہائی بلڈ پریشر ا ور دیگر بیماریوں کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔

یہی بیماریاں پھر انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر تیں اور آخر کار اسے قبر میں پہنچا دیتی ہیں۔ہر خلیے کا

ایک مخصوص حصہ شکر سے توانائی بناتا ہے۔ یہ حصہ ’’مائٹوچونڈریا‘‘  کہلاتا ہے جسے آپ خلیے کا بجلی گھر سمجھ لیجیے۔

سائنس داں جان چکے کہ جب مائٹو چونڈریا میں کوئی نقص پیدا ہو  تو خلیہ زیادہ آزاد اصلیے بنانے لگتا ہے۔

جدید طبی سائنس نے اسی مائٹوچونڈریا کے حوالے سے روزے رکھنے کا ایک بہت بڑا فائدہ دریافت کیا ہے۔

مائٹوچونڈریا ختم ہوتے ہیں

انسان جب ماہ رمضان میں متواتر روزے رکھے تو خلیوں کو دن بھر وافر شکر نہیں ملتی۔

تب انسانی خلیوں کو چربی اور انسانی جسم میں محفوظ دیگر غذائی مادے استعمال کر کے توانائی بنانا پڑتی ہے۔

اس حالت میں خلیے مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے خراب مائٹوچونڈریا سے نجات پا کر نئے تشکیل دے ڈالیں ۔

یوں ماہ رمضان کے دوران جو انسان باقاعدگی سے روزے رکھے اور صحت بخش غذا کھائے،

اس کے لاکھوں کروڑوں خلیے اپنے ناقص مائٹوچونڈریا ختم کر ڈالتے ہیں۔یہ روزوں کا بہت بڑا طبی فائدہ ہے

جو جدید سائنسی تحقیق سے سامنے آیا۔ وجہ یہ کہ روزے دار اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کر کے اپنے خراب مائٹو چونڈریا سے چھٹکارا پا لیتا ہے۔

اس طرح روزے دار کے جسم میں آزاد اصلیوں کی تعداد مسلسل کم ہونے لگتی ہے۔ یوں وہ  صحت و تندرستی کے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔

آزاد اصلیے کم ہونے سے اکثر اوقات موذی بیماریوں کی شدت بھی گھٹ جاتی ہے اور انسان افاقہ محسوس کرتا ہے۔

اس عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ آزاد اصلیے گھٹنے سے روزے دار کی عمر بڑھ جاتی ہے۔

گویا روزے رکھنا عمر میں اضافے کا ایک آسمانی تحفہ اور سہل ذریعہ ہے۔

یاد رہے، جب انسانی بدن میں آزاد اصلیوں کی تعداد بڑھ جائے، تو یہ حالت سائنسی اصطلاح میں ’’آکسیڈیٹوسٹریس‘‘  یا تکسیدی دباؤکہلاتی ہے۔

یہ انسانی صحت کے لیے خطرناک حالت ہے۔ اس کیفیت میں میں انسان اندرونی سورش  کا شکار ہوجاتا ہے۔

یہ حالت پھر خلیوں، پروٹین مادوں اور ڈی این اے کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اسی نقصان  کے باعث موزی امراض چمٹ جانے اور اعضا کی شکست وریخت سے انسان بوڑھا ہونے لگتا ہے۔

یہ بات مگر دلچسپ ہے کہ جب ہم ورزش یا محنت مشقت والا کام انجام دیں، تو تب بھی بڑی تعداد میں آزاد اصیلے جنم لیتے ہیں۔

یہ سرگرمی بھی ہمارے بدن میںتکسیدی دباؤ بڑھا دیتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی کاریگری کا کرشمہ دیکھیے کہ

ورزش سے جنم لینے والا یہ دباؤ انسانی جسم کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ مفید ہے۔یہ ہماری بافتوں (ٹشوز) کی نشوونما کرتا

اور ہمارے بدن کے محافظوں، ضد تکسیدی مادوں کو جنم دیتا ہے۔ تاہم یہ  دباؤ مختصر وقت تک ہی رہتا اور پھر ختم ہوجاتا ہے۔

اگر یہ طویل عرصہ رہے تبھی انسانی جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔

جسمانی چربی کو جانیے

اس موقع پر چربی کا بھی تذکرہ ہوجائے۔ چربی کی مختلف اقسام ہیں مثلاً سیچورٹیڈ، ٹرانس فیٹس، مونو سیچورٹیڈ اور پولی ان سیچورٹیڈ۔

عام خیال ہے کہ چربی انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ مگر یہ خطرناک اس وقت بنتی ہے

جب انسان روزانہ کثیر مقدار میں چربی سے لیس اشیا کھانے لگے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کو روزانہ 40 تا 70 گرام چربی کی ضرورت ہوتی ہے

تاکہ وہ اپنی تندرستی برقرار رکھ سکے۔ وجہ یہ کہ انسانی جسم میں چربی توانائی کے ’’بیک اپ‘‘ یا محفوظ ایندھن کی حیثیت رکھتی ہے۔

ہمارے جسم کا بنیادی ایندھن نشاستہ (کاربوہائیڈریٹ) ہے جس سے کہ شکر بنتی ہے۔

مگر جب وافر شکر میسر نہ ہو تو جیسا کہ بتایا گیا، انسانی جسم چربی کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔

انسانی جسم نشاستے اور چربی کے علاوہ پروٹین سے بھی توانائی پاتا ہے۔ یہ تینوں غذائی مادے انسان کے بنیادی ذرائع ایندھن ہیں۔

درج بالا تینوں ذرائع ایندھن میں چربی ہی سب سے زیادہ کیلوریز یا حرارے رکھتی ہے۔

نشاستے اور پروٹین کے ہر ایک گرام میں 4 حرارے ہوتے ہیں جبکہ چربی کا ایک گرام 9 حرارے رکھتا ہے۔

اسی لیے انسان کی کوشش ہونی چاہیے کہ روزانہ اپنے حراروں کے کوٹے کا 25 تا 35 فیصد حصہ ہی چربی سے پورا کرے۔

زیادہ چربی کھانے سے صحت کو نقصان ہی پہنچے گا۔ وٹامن اے، ڈی، ای اور کے اسی وقت انسانی جسم میں جذب ہوتے ہیں

جب ہمارے بدن میں چربی کی مطلوبہ مقدار موجود ہو۔ یہ وٹامن ہماری تندرستی کے ضامن ہیں

مثلاً وٹامن اے ہماری آنکھیں تندرست رکھتا اور بصارت تیز کرتا ہے۔ وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم جذب کرکے ہمارے ہڈیاں مضبوط بناتا ہے۔

وٹامن ای آزاد اصیلے ختم کرنے میں جسم کی مدد کرتا اور یوں خلیوں کو تحفظ دیتا ہے۔ وٹامن کے خون میں لوتھڑے نہیں بننے دیتا۔

غرض انسانی جسم میں چربی کی معقول مقدار نہ ہو، تو انسان ان تمام اہم وٹامن سے محروم ہوکر بیمار پڑنے لگتا ہے۔

مزید براں چربی ہماری جلد کے خلیوں میں جمع ہوکر ہمارے جسم کا درجہ حرارت بھی متوازن رکھتی ہے۔

نیز ہمارے اہم جسمانی اعضا کے گرد بھی چربی پائی جاتی ہے۔ یہ چربی انہیں صدمات سے بچاتی ہے۔

یہ واضح رہے کہ ماہرین غذائیات چربی کی دو اقسام، مونو سیچورٹیڈ اور پولی ان سیچورٹیڈ کو انسانی صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں

جبکہ سیچورٹیڈ اور سٹرائس فیٹس کی اقسام نقصان دہ تصّور ہوتی ہیں۔ لہٰذا انسان کوشش کرے کہ چربی کی مفید اقسام رکھنے والی غذائیں ہی تناول کرے۔

خاص طر پر رمضان المبارک کے دوران روزے دار چربی والی غذائیںاعتدال سے کھائے تاکہ اس بابرکت مہینے کے طبی فوائد بھرپور انداز میں حاصل کرسکے۔

مونو سیچورٹیڈ اور پولی ان سیچورٹیڈ چربی یا چکنائی نباتی (ویجٹیبل) تیل، مغزیات اور سرد پانی کی مچھلیوں

مثلاً ٹونا اور سالمن میں ملتی ہے جبکہ مضر صحت چربی سرخ گوشت، عام مچھلیوں اور ڈیری مصنوعات میں ملتی ہے۔

لہٰذا یہ غذائیں معتدل مقدار میں کھائیے۔ انسانی جسم میں مضر صحت چربی کی زیادتی انسان کو امراض قلب اور فالج میں مبتلا کرسکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *