گلگت بلتستان میں دہشتگردی کیلئے ”را“ کا شرمناک منصوبہ بے نقاب

گلگت بلتستان میں دہشتگردی کیلئے ”را“ کا شرمناک منصوبہ بے نقاب

24 views

 گلگت بلتستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لیے انڈین خفیہ ایجنسی ”را“ کا منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کا گلگت بلتستان میں تخریب کاری کا بڑا منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

قوم پرست تنظیم بالاورستان نیشنل فرنٹ (حمید گروپ) کا مقامی گروہ پکڑا گیا۔

جبکہ 14 کارندے گرفتار کر کے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق   اس نیٹ ورک نے گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی کر رکھی تھی

تاہم خفیہ اداروں نے اسے  بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا

جبکہ  ’را‘ کے پاکستان دشمن نیٹ ورک کی سنسنی خیز تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیر سرپرستی گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم ’بلاورستان نیشنل فرنٹ‘ حمید گروپ کی آبیاری کی گئی

را کا ہدف جامعات کے طلبا اور گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرکے دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا تھا۔

حمید خان کوعالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر کرنے اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کرنے کی سرگرمیوں پر لگایا گیا

را کے اشاروں  پر ہی حمید خان نےعالمی مالیاتی اداروں کو خطوط کے ذریعے گلگت بلتستان و دیگر جگہوں پر 6 مجوزہ ڈیموں کے

لیے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں

ذیلی قوم پرست تنظیم ’بلاورستان‘ ٹائمز میگزین کے ذریعے علیحدگی پسند سوچ کو ہوا دے رہی تھی۔

چیئرمین بی این ایف (حمید گروپ) عبدالحمید خان آف غذر کو ’را‘ کی جانب سے 1999 میں نیپال لے جایا گیا

جہاں سے اسے بھارت منتقل کردیا گیا، بھارت میں ’را‘ کے ایجنٹ کرنل ارجن اور جوشی نے اسے تربیت دی

اور اس دوران  اسے دہلی میں تھری اسٹار اپارٹمنٹ میں رکھا گیا

اور کچھ عرصے بعد حمید خان کے تین بچوں سمیت پورے خاندان کو بھی بھارت ہی منتقل کردیا گیا

جہاں اس کے بچوں کو مختلف اسکولوں، کالجز میں مہنگی تعلیم دلوائی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 1999  سے 2007 اور 2015 سے 2018 تک ’را‘ نے حمید خان پر 11 سالوں میں بھاری سرمایہ کاری کی

اور اسے گلگت بلتستان میں سرگرمیوں کے لیے ایک ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم بھی فراہم کی گئی

جب کہ اس کے بیٹوں کی تعلیم کو بھارت کے ساتھ یورپ میں بھی اسپانسر کیا گیا۔

تاہم 2007 کے بعد حمید خان کو برسلز منتقل کرایا گیا تاکہ وہ مختلف عالمی فورمز پر پاکستان مخالف تقاریر کر سکے۔

’را گلگت بلتستان کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں بھی طلباء کو حمید خان کے ذریعے معاونت کر رہی تھی

ان سرگرمیوں میں بی این ایف کا اسٹوڈنٹ ونگ ’بلاورستان نیشنل اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن‘ شیر نادر شاہی کی قیادت میں ملوث تھا

شیر نادر شاہی ’بلاورستان ٹائمز‘ شائع کرتا تھا، اور  ’را‘ اور حمید خان سے ہدایات لے کر راولپنڈی اور غذر میں  شرپسندی کے لئے مرکزی کردار ادا کررہا تھا

پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی بھرپور کوششوں کے ذریعے عبدالحمید خان نے 8 فروری 2019 کو غیر مشروط سرنڈر کیا

جب کہ 29 مارچ کو شیر نادر شاہ نے بھی سرنڈر کر دیا

تاہم شیر نادر شاہ کو دبئی میں موجود ’را‘ کی لیڈی ایجنٹ نے شکار کیا اور اسے  نیپال لے جایا گیا

تاہم نیپال سے بھارت جانے سے قبل ہی پاکستانی ایجنسیاں کامیابی سے اسے پاکستان واپس لے آئیں۔

ذرائع کے مطابق ’را‘ کے سالہا سال سے تشکیل دیئے گئے نیٹ ورک کو ناکام بنانے کے لیے

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی نے طویل اور صبر آزما منصوبہ بندی کی اور را کے منصوبے کو ناکام بنایا

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *