rape

اسلام آباد میں 10 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی اور قتل کیس میں پیش رفت

16 views

پولیس نے شہزاد ٹاؤن میں 10 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی اور قتل کے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

 ذرائع کے مطابق 15 مئی کو لاپتہ ہونے والی خیبرپختون خوا کے قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی 10 سالہ بچی اسلام آباد کے علاقے

شہزاد ٹاؤن میں اپنے والدین کے ساتھ مقیم تھی

 پولیس نے گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے میں 4 دن لگائے۔

دس سال کی بچی فرشتہ کی لاش گزشتہ روز جنگل سے ملی جسے پوسٹ مارٹم کےلیے پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جس میں مرکزی ملزم بھی شامل ہے،

گرفتار ملزمان کا تعلق افغانستان سے ہے۔

مبینہ زیادتی اور قتل کے خلاف مقتول بچی کے لواحقین لاش ترامڑی چوک پر رکھ کر احتجاج کیا

اور الزام عائد کیا کہ بچی سے زیادتی اور قتل کی ذمہ دار پولیس ہے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس نے 5 دن تک بچی کو مرضی سے فرار ہونے کا الزام لگا کر رپورٹ درج نہیں کی۔

مقتولہ کے بھائی کا کہنا تھا کہ گمشدگی کی رپورٹ تھانے میں درج کروانے گئے تو ہم سے تھانے میں کام لیا جاتا تھا،

ایس ایچ او اور تھانے کا مکمل عملہ معطل ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔

مظاہرین سے مذاکرات کے لیے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، معاون خصوصی علی اعوان مظاہرین سے مذاکرت کر رہے تھے

جو کامیاب ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ غفلت برتنے پر ایس ایچ او تھانا شہزاد ٹاؤن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا،

احتجاج ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاون اور دیگر اہلکاروں کے خلاف اندراج مقدمہ کی یقین دہانی پر ختم کیا گیا۔

بعد ازاں دس سال کی بچی فرشتہ کی نماز جنازہ ترامڑی چوک پر ادا کر دی گئی۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بچی کے لواحقین سے ملاقات کی،

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسد قیصر کہنا تھا کہ واقعے کی ہر سطح پر تحقیقات ہوں گی

اور جلد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کل تمام متعلقہ حکام کو بلایا ہے، بچی کے والدین کو بھی بلائیں گے

والدین کے تمام تحفظات دور کریں گے اور بچی کو ہر صورت انصاف دینا ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *