وفاقی بجٹ پیش؛ چینی، تیل، گھی، سی این جی، مشروبات، سگریٹ، خشک دودھ مہنگا

وفاقی بجٹ پیش؛ چینی، تیل، گھی، سی این جی، مشروبات، سگریٹ، خشک دودھ مہنگا

159 views

 پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 2019-20 کا بجٹ پیش کردیا جس کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ  گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے

جب کہ وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کیا

اس دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی ۔

حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو  مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا

جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا

مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے

ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں

میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔

بجٹ 20۔2019 کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے

جو کہ  گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے

جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے

مالی خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے۔

کولڈڈرنکس پرڈیوٹی 11.5سےبڑھاکر 13 فیصد

جب کہ مشروبات پر ڈیوٹی 11.25سے بڑھا کر 14فیصد کردی گئی

چینی پرسیلزٹیکس 8سےبڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے  چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپےفی کلوبڑھےگی

خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے

سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانےکافیصلہ کیا گیا ہے۔

بجٹ میں سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے

سیمی پراسس اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے

کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے

جاری تنخواہ پر ہوگا۔

ایک ہزار ایک سی سی سے 2  ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد

جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے سات فیصد عائد کی گئی ہے۔

بجٹ میں تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ اور

تنخواہ دار ملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے

کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے

قابل ٹیکس آمدنی کہ حد کم کرکے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے

غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ چار لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا۔

حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالرکےمعاہدہ ہوگیا ہے

چین سے313 اشیاکا ڈیوٹی فری برآمدات کافیصلہ کیاگیا

جب کہ 95 منصوبے شروع کرنے کیلئے فنڈزجاری کئے گئے۔

وزیرمملکت نے بتایا کہ دفاع اورقومی خودمختاری ہرچیزسےمقدم ہے

سول اور عسکری حکام نے اپنے بجٹ میں مثالی کمی کی ہے

تاہم  دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پربرقرار رہے گا

حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں

ملک میں صرف380کمپنیاں کل ٹیکس کااسی فیصد دیتے ہیں

جب کہ 31لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں

اس لیے ہمیں تنخواہوں کیلئے بھی قرض لیناپڑتاہے

قرضوں اور ایڈوانسز کی بازیابی کا نظر ثانی میزانیہ 183.520ہدف رکھاگیا۔

بجٹ تقریر کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام کیلیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں

جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 894 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے

بیرونی ذرائع سے حاصل ہونیوالی وصولیوں کا ہدف 1828 ارب 80کروڑ روپے

جب کہ  نجکاری پروگرام سے 150ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

اس طرح کل دستیاب وسائل کا تخمینہ 7036ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے45.5ارب روپے رکھے جارہے ہیں

جب کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4ارب روپے رکھے جارہے ہیں

سکھر ،ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے مختص کیے گئے ہیں

توانائی کے لیے 80ارب روپے اور انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں ہائرایجوکیشن کمیشن کے لیے 59 ارب 10 کروڑ

جب کہ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 13 ارب 70 کروڑ 90 لاکھ مختص

کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،

مقبوضہ کشمیر کے طلباء کے لیے اسکالرشپ کی مد میں 10 کروڑ 56 لاکھ روپے

اور کمیونٹی اسکولز 20 کروڑ35 لاکھ مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔

وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 4ارب،79کروڑ67لاکھ کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے،

نیشنل کمیشن فارہیومین ڈویلپمنٹ کے لیے بجٹ میں 11کروڑ10لاکھ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزیر مملکت نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آبی وسائل کیلیے70 ارب روپے مختص کیے جارہےہیں،

غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے،

پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،

سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں

اور آیندہ سال کے دوران سبسڈی کیلیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرمملکت نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف منظم مہم شروع کی ہے،

بجلی اور گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے

جب کہ گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ہےاور اگلے 24ماہ میں

گردشی قرضوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 44.8ارب روپے گندم اور چاول کی پیدوار بڑھانے کے لیے مختص کیے گئے

اور فاٹا کے  علاقوں کے لیے 152ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرمملکت نے وفاقی سرکاری ملازمیں کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے

بتایا کہ گریڈ 17 تک کے ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، گریڈ17سے21 تک

کےملازمیں کیلئےپانچ فیصد اضافہ کیاگیا ہے

جب کہ وفاقی کابینہ کے وزرانے اپنی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

کاغذ کی پیداوار کے لیے خام مال کوکسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ، ادویات کی پیداوارکے

خام مال کی 19 بنیادی اشیا کو 3 فیصد امپورٹ ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے،

اسی طرح ریسٹورنٹ اوربیکری کیلیےچیزوں میں سیلزٹیکس 17 سے کم

کرکے 7.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

نان فائلرز پر 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے پر عائد پابندی بھی ختم کردی گئی

اب نان فائلرز بھی بھاری مالیت کی جائیداد خرید سکے گا۔

اسی طرح نان فائلرز پر گاڑی خریدنے پر بھی کوئی پابندی نہیں

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *