شیخ رشید کے وزیر ریلوے بننے کے بعد سے 79 ٹرین حادثات اسعتفی کا مطالبہ

شیخ رشید کے وزیر ریلوے بننے کے بعد سے 79 ٹرین حادثات اسعتفی کا مطالبہ

80 views

وزیر ریلوے شیخ رشید کے وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالنے کے بعد سے ریلوے ٹرین حادثات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب تک 79 حادثات ہوچکے ہیں۔

تفصیلات  کے مطابق اگست 2018ء سے جولائی 2019ء تک ٹرینوں کے 79 چھوٹے بڑے حادثے ہوچکے ہیں

جس میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثات کی سب سے بڑی وجہ ناتجربہ کار جنرل مینیجر ریلوے آپریشن آفتاب اکبر کی اہم پوسٹ پر تعیناتی ہے۔

ٹرین حادثات پر ایک نظر

ٹرین حادثات سب سے زیادہ جون میں ہوئے ان کی تعداد  20 ہے

تفصیلات کچھ اس طرح  سے ہیں

یکم جون کو لاہور یارڈ میں ٹرین ڈی ریل ہوگئی۔

تین جون کو عید اسپیشل ٹرین لالہ موسی اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی۔

پانچ جون کو فیصل آباد اسٹیشن کے قریب شاہ حسین ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔

 پانچ جون کو ہی کراچی ڈویژن میں کینٹر ٹرین کو حادثہ ہوا

 تھل ایکسپریس ٹرین کی پانچ بوگیاں بھی کندھ کوٹ کے قریب پٹری سے اترگئیں۔

چھ جون کو قراقرم ایکسپریس ٹرین کی بوگیاں فیصل آباد اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتری گئیں۔

سات جون کو اسلام آباد ایکسپریس ٹرین گجرات کے قریب موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔

آٹھ جون کو کراچی ڈویژن میں بولان ایکسپریس ٹرین کو حادثہ پیش آیا۔

15 پندرہ جون کو سندھ ایکسپریس ٹرین سکھر یارڈ میں پٹری سے اترگئی۔

سولہ جون کو مال بردار ٹرین روہڑی اسٹیشن کے قریب پٹری سے اترگئی۔

اٹھارہ جون کو ملتان ڈویژن میں ہڑپہ اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کی

ڈائننگ کار کو آگ لگ گئی۔

اٹھارہ جون کو ہی کوئٹہ ڈویژن میں مال بردار ٹرین پٹری سے اترگئی۔

انیس جون کو کراچی ڈویژن میں رحمٰن بابا ایکسپریس ٹرین کی زد میں گاڑی آگئی

جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔

بیس جون کو حیدرآباد اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین مال بردار ریل گاڑی سے ٹکراگئی

جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔

 اکیس جون کو ہری پور کے قریب راولپنڈی ایکسپریس کی زد میں کار آگئی۔

بائیس جون کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے یارڈ میں کراچی جانے والی تیزگام کی بوگیاں

پٹری سے اترگئیں۔

 تئیس جون کو لانڈھی اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کو حادثہ پیش آیا۔

چوبیس جون کو راولپنڈی ڈویژن میں کوہاٹ ایکسپریس کی زد میں موٹر سائیکل آگئی۔

ستائیس  جون کو بدر ایکسپریس مسکالر اسٹیشن کے قریب ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی۔

اٹھائیس جون کو فرید ایکسپریس اور دوسری ٹرین کے انجن میں تصادم ہوا

انتیس جون کو راولپنڈی ایکسپریس کی زد میں موٹر سائیکل آگئی۔

دوسری جانب پے درپے   ٹرین حادثات کے بعد نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی وزیر ریلوے شیخ رشید سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ٹرین حادثے پر شیخ رشید سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ

ٹرین حادثوں پر وزیر کے مستعفی ہونے کی مثالیں دینے والے عمران خان اپنے وزیر سے

استعفی مانگیں گے، ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں بھی شیخ رشید نے ریلوے کا محکمہ تباہ کیا

جس کا خمیازہ جمہوری حکومتوں کو بھگتنا پڑا جب کہ عمران خان نے بڑے فخر سے شیخ رشید کو

ریلوے کی وزارت دی اور آج خان صاحب کا یہ فیصلہ بھی غلط نکلا۔

صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے ٹرین حادثے میں 12 قیمتی انسانی جانوں کے نقصان

اور 67 سے زائد کے زخمی ہونے پر رنج و غم اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ

ٹرینوں کے پے درپے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں، کمزور ریلوے ٹریک اور ناقص منصوبہ بندی

حادثات کا باعث بن رہے ہیں، حادثے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر بھی ٹرین حادثے کے بعد ’شیخ رشید استعفیٰ دو‘ کا ٹرینڈ ٹاپ پر ہے

جس میں صارفین کی جانب سے وزیر ریلوے شیخ رشید سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *