پاکستانی ماہرین کا کارنامہ: شوگر کے زخم مندمل کرنے والی انقلابی پٹی تیار

پاکستانی ماہرین کا کارنامہ: شوگر کے زخم مندمل کرنے والی انقلابی پٹی تیار

284 views

 پاکستانی اور برطانوی ماہرین نے شکر سے ہی بنی ایسی ڈریسنگ بنائی ہے جو ذیابیطس کے مریضوں میں مندمل نہ ہونے والے زخموں کو ناسور کو ٹھیک کرکے ممکنہ طور پر انہیں اعضا کی محرومی سے بچاسکتی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے لاہور کیمپس میں واقع بین الموضوعاتی تحقیقی

مرکز برائے حیاتیاتی و طبی مٹیریل ( آئی آر سی بی ایم) نے برطانیہ کی شیفلڈ یونیورسٹی کے

تعاون سے  اس نئی ٹیکنالوجی کی چوہوں پر کامیاب آزمائش کی

اس کے نتائج ایک اہم طبی تحقیقی جریدے میں شائع کئے ہیں۔

محققین نے پہلے دنیا بھر میں ذیابیطس کے زخموں پر عام استعمال کی جانے والی ایلجینیٹ ڈریسنگ استعمال کی۔

اس کے بعد ماہرین نے ٹو ڈی آکسی رائبوس (ٹو ڈی ڈی آر) کو اس پٹی کے پھائے پر لگایا۔

واضح رہے کہ ٹو ڈی ڈی آر ایک قسم کی شکر ہے جو زخم بھرنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔

ماہرین نے پہلے چوہوں کو شوگر کا مریض بنایا اور اس کے بعد ان میں گہرائی تک زخم لگائے۔

اگلے مرحلے میں ٹوڈی ڈی آر والی ایلجینیٹ پٹی ان کے زخموں پر لگائی گئی۔

اس عمل سے ذیابطیس کے ناسور نہ صرف تیزی سے بھرے بلکہ ان میں خون کی نئی نالیاں

بھی بننے لگیں جو زخم مندمل کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

رگوں کے دوبارہ بننے کا یہ عمل طبی زبان میں ’اینجیوجنیسِس‘ کہلاتا ہے۔

 تحقیق کے دوران ماہرین نے  زخموں کی جلد سے ٹشوز کے بعض ٹکڑے لیے

ان پر ایک خاص قسم کی ڈائی ڈالی اوراس کی روشنی میں دیکھا گیا تو ان پر حیرت انگیز انکشاف ہوا

وہ یہ کہ زخموں میں خون کی نئی شریانیں بنیں جس کی بدولت زخم تیزی سے مندمل ہونے لگے۔

اس طرح یہ ٹیکنالوجی ذیابیطس کے مریضوں کے زخم کو نہ صرف تیزی سے مندمل کرسکتی ہے

بلکہ نئی جلد بناتی ہیں جو اس ٹیکنالوجی کی ایک اہم کامیابی بھی ہے۔

اس طرح ہزاروں مریضوں کے اعضا کٹنے سے بچائے جاسکتے ہیں۔

لیکن اس ٹیکنالوجی کی انسانوں پر آزمائش ضروری ہے۔

شکر والی ڈریسنگ کے ضمن میں پاکستان، برطانیہ اور عالمی سطح پر حقِ ملکیت کی درخواست دائر

کی جاچکی ہیں اور جلد ہی انسانی آزمائش شروع کی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *