ملک کے اندر افسر شاہی نہیں چلنے دیں گے: سپریم کورٹ

ملک کے اندر افسر شاہی نہیں چلنے دیں گے: سپریم کورٹ

4 views

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی اکثریت عوامی خدمت نہیں کرتی اور ملک کے اندر افسر شاہی نہیں چلنے دیں گے۔

سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا کے محکمہ نکاسی آب کے ملازم پرویز خان کے کیس کی سماعت ہوئی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا کہ پرویز خان نے جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری کی

جبکہ 2 ڈومیسائل رکھے اور دو مختلف سرکاری محکموں سے بیک وقت تنخواہ لی

اس کے ساتھ ساتھ امریکی کمپنی میں بھی ملازمت اختیار کی اور تنخواہ لیتا رہا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ شخص تو تین محکموں سے بیک وقت تنخواہ لے رہا تھا

خیبرپختونخوا میں بہت سے لوگ چار چار محکموں سے بھی تنخواہ لے رہے ہیں

یہ کیا حکومت ہے آپ کی۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پہلے ایسے افسران تھے جو دل سے پبلک سروس دیتے تھے

آج جو لوگ عہدوں پر بیٹھے ہیں ان میں اکثریت لوگوں کو پبلک سروس نہیں دیتی

لوگوں کی خدمت کرنے والے افسران کہاں چلے گئے، اس ملک میں سول سروس کو کیا ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد پرویز خان کی کیس ملتوی کرنے کی درخواست خارج کردی۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں ریلوے کے نچلے درجے کے ملازمین کی نوکری پر بحالی کی

درخواست کی سماعت کی

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ملک کے اندر قانون چلتا ہے، افسر شاہی نہیں چلنے دیں گے

یہ کوئی کھیل کود نہیں، قانون کے تحت آپ کو کام کرنا ہے

لوگوں کی 15، 15 سال کی نوکریاں ہیں ان کو کیسے اٹھا کر باہر پھینک سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *