نمرتا کیس: قتل یا خودکشی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ تعین

نمرتا کیس: قتل یا خودکشی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ تعین

9 views

لاڑکانہ کے آصفہ ڈینٹل کالج کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ ویمن میڈیکل افسر ڈاکٹر امرتا نے سیشن جج لاڑکانہ کی عدالت میں جمع کرادی  ہے۔

رپورٹ میں نمرتا کی موت کی وجہ دم گھٹنا قرار دی گئی ہے

تاہم قتل یا خودکشی کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔

لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشوروکی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق

نمرتا کے کپڑوں سے نامعلوم شخص کے نمونے ملے ہیں

لیکن برآمد اجزاء نمرتا کے گرفتار ساتھی طلبہ مہران ابڑو اور شان میمن سے مماثلث نہیں رکھتے۔

نمرتا کیس کب کیا ہوا؟

 

 رواں سال 16 ستمبر 2019 کو نمرتا کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی

جس پر کہا گیا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی ہے جب کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی

موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی تھی۔

واقعے کے بعد  آصفہ ڈینٹل کالج کے طالب علم مہران ابڑو اور ان کے دوست شان علی میمن

کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

تفتیشی اداروں کے مطابق نمرتا اپنے دوست مہران ابڑو سے شادی کی خواہش مند تھی اور

دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی تھے لیکن قتل سے چند ماہ قبل مہران ابڑو نے شادی سے

انکار کر دیا تھا اور یہ جواز پیش کیا کہ ’دونوں کے بیچ اسٹیٹس کا ایک بہت بڑا فرق ہے

مذہب تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں، مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا

شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئی تھی‘۔

پولیس کو دیے گئے بیان میں مہران ابڑو کا کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے

لیکن میں شادی کیلئے راضی نہ تھا۔بیان کے مطابق ایک دوسرے کو پسند کیے جانے کا معاملہ

نمرتا کے گھر والوں کے علم میں بھی تھا۔

نمرتا کے ہاسٹل میں اس کے ساتھ دو روم میٹس بھی رہتی تھیں

واقعے کی رات وہ تقریباً 12 سے ایک کے درمیان سوگئی تھیں

صبح 6 بجے کے قریب دونوں سہیلیاں مندر جانے کے بعد اپنی کلاس میں چلی گئیں۔

دوپہر 2 بجے جب دونوں لڑکیاں واپس کمرے میں آئیں تو کمرہ اندر سے لاک تھا۔

بارہا دستک کے باوجود دروازہ نہ کھلنے پراندر جھانکا تو لائٹ آن تھی۔

دونوں پریشان ہوئیں اور وارڈن کی مدد سے دروازے کا لاک توڑا گیا تو اندر کا منظر دل ہلادینے والا تھا۔

نمرتا دونوں چارپائیوں کے بیچ پڑی تھی اور اس کے گلے میں دوپٹہ جکڑاہوا تھا

دونوں سہیلیوں نے گلے سے دوپٹہ کو آزادکرنےکی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ قتل تھا تو دروازہ اندر سے کس طرح بند تھا؟

قاتل نمرتا کو قتل کرنے کے بعد باہرکیسے گیا؟ تفتیشی حلقوں کے مطابق جس کمرے سے نمرتا کی لاش

ملی اس کمرے کی چھت کی اونچائی تقریبا 13 سے 14 فٹ تھی

جبکہ نمرتا کا قد تقریباً پانچ فٹ کے قریب تھا۔اگر اس نے اپنے بیڈ یا کرسی سے

اوپر خود کو لٹکانے کی کوشش کی تو پنکھے تک اس کا دوپٹہ کیسے پہنچا؟

یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس نے اپنے دوپٹے کو اونچا اچھال کر پنکھے کے اوپر سے گزارا ہو گا

اور پھر اپنے گلے کے گرد لپیٹنے میں کامیاب ہو گئی اور کمرے میں پڑی کرسی کو دھکا دیا

اور جھول گئی جب کہ نمرتا کے بھائی کے مطابق اگر اس نے خودکشی کی ہے

تو پنکھا سیدھا کیسے رہ گیا؟

تفتیشی اداروں کے مطابق نمرتا کا وزن تقریباً پچاس کلو کے لگ بھگ تھا ۔50کلو کے وزن سے

پنکھے کا ایک پر اوپری سطح سےکچھ متاثر ہوا ہے

جو غور سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے۔ البتہ نمرتا نےجب کرسی کو دھکا دیا ہوگا

تو دوپٹہ پھسل کر  پروں کے درمیان آگیا اور وہ نیچے لٹکی اور گرگئی ہوگی

جس سے اس کی آنکھ کے قریب آنے والی چوٹ کے نشان واضح ہیں۔

نمرتا کی ہلاکت خودکشی ہے یا قتل، اس کاتعین کرنے کے لیے  سندھ حکومت کی

درخواست پر عدالتی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *