پاکستان میں پولیو پروگرام  دینے کا عمل سیاسی فٹ بال بن چکا ہے:آئی ایم بی

پاکستان میں پولیو پروگرام دینے کا عمل سیاسی فٹ بال بن چکا ہے:آئی ایم بی

30 views

بین الاقوامی مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں پولیو پروگرام اور انسداد پولیو ویکسین دینے کا عمل سیاسی فٹ بال بن چکا ہے‘۔

واضح رہے کہ آئی ایم بی وہ ادارہ ہے جو عالمی سطح پر پولیو کا پھیلاؤ روکنے کے لیے گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو(جی پی ای آئی) کی

کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیتا ہے۔

آئی ایم بی کے مطابق پاکستان میں بدقسمتی سے  پولیو میں اضافے کے پسِ پردہ سیاسی نا اتفاقی ہے۔

آئی ایم بی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’2018 کے اوائل میں پاکستان کا پولیو پروگرام پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے دہانے پر تھا‘۔

تاہم صرف ایک سال کے عرصے کے دوران ملک میں اس بیماری کی صورتحال نے پولیو کا پھیلاؤ روکنے والے عالمی پروگرام کے

اندازوں کو الٹ کر رکھ دیا۔

آئی ایم بی نے ستمبر 2019 کی انسداد پولیو مہم پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا

جس میں بچوں کی سب سے بڑی تعداد ویکسینیشن سے محروم رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں پولیو نے 2018 کی تیسری سہ ماہی میں دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا

جبکہ صورتحال 2019 کی دوسری سہ ماہی میں مزید سنگین ہوگئی جب صرف 3 ماہ کے عرصے میں 38 کیسز سامنے آئے۔

آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وبا کی صورتحال انتہائی سنگین اور تشویشناک ہے، دنیا بھر میں سامنے آنے والے 80 فیصد پولیو کیسز پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں 90 فیصد روایتی بنیادی ذخائر سے باہر پائے گئے۔

خیال رہے کہ ادارے  نے اب تک پاکستان کے لیے کارآمد اور مثبت تنقید کی ہے تا کہ تکنیکی خامیوں کو دور کیا جائے جبکہ  اس پروگرام کو مضبوط بنایا جائے

تاہم کمیٹی کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ کی صورتحال پر انتہائی سخت مذمت اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں پولیو پروگرام ملک کے لیے ایک مثال کے بجائے موجودہ بحران کی علامت کی صورت اختیار کرگیا

اوریہی صوبہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی میں پولیو کا پھیلاؤ ہر جگہ موجود ہے

جبکہ پنجاب میں بھی ہر مقام پر انسداد پولیو پروگرام کی خرابی کے آثار موجود ہیں۔

آئی ایم بی کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ گزشتہ 8 برسوں میں پولیو سے معذوری کے 89 فیصد کیسز پشتو بولنے والے خاندانوں میں سامنے آئے

رپورٹ میں یہ سوال بھی کیا گیا کہ ’اگر سیاسی رہنما متضاد بیانات دیں گے تو پاکستانی عوام کس طرح اس بات پر یقین کریں گے

کہ انسداد پولیو پروگرام ان کے مفاد میں ہے۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ اکتوبر 2019 تک پاکستان میں 77 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں

جبکہ افغانستان میں صرف 19 کیسز سامنے آئے جبکہ گزشتہ برس پاکستان میں یہ تعداد 6 تھی اور افغانستان میں 19 بچے اس سے متاثر ہوئے تھے۔

یاد رہے  کہ اب تک ملک میں 88 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں، گزشتہ برس 12 جبکہ 2017 میں صرف 8 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

ان 88 کیسز میں سے 64 خیبرپختونخوا، 10 سندھ، 7 بلوچستان اور 5 کیسز کا تعلق پنجاب سے ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *