توہین عدالت کیس: فردوس عاشق اور غلام سرور کی معافی قبول

توہین عدالت کیس: فردوس عاشق اور غلام سرور کی معافی قبول

1 views

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فردوس عاشق اعوان اور غلام سرور خان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے دیا تاہم ان کی معافی قبول کرتے ہوئے دونوں کے خلاف توہین عدالت کے شوکاز نوٹس واپس لے لئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان

اور وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

وکلا نے بتایا کہ دونوں ارکان نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی کابینہ کے دونوں ارکان سے کہا کہ آپ دونوں ذمہ دار پوزیشن پر ہیں اور کابینہ کی نمائندگی کرتے ہیں

خامیاں ہر جگہ پر ہیں کوئی بھی مکمل نہیں، عدالت توقع رکھتی ہے آئندہ آپ عوامی سطح پر زیر التوا کیسز کے حوالے سے رائے نہیں دیں گے

عدالت آپ کو اس عمل کو نظر انداز کررہی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اداروں کو متنازع کرنا اور لوگوں کا اداروں پر اعتماد خراب کرنا ٹھیک نہیں ہے

آزاد عدلیہ کے لیے اور بھی چیلنجز موجود ہیں، عدالت کو اچھا نہیں لگتا کہ وہ کسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے

 صرف اْس وقت بلاتے ہیں جب انصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ بنے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فردوس عاشق اعوان اور غلام سرور خان کے خلاف توہین عدالت شوکاز نوٹس واپس لے لئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمیں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ دونوں نے توہین عدالت کی ضرور ہے

اس سب کے باوجود فیصلہ کیاہے آپ کے شوکاز نوٹس واپس لے لئے، لوگ اس وقت حکومت اور پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں

بدقسمتی سے ہم سیاسی عدم استحکام کے دور سے گزر رہے ہیں، لیکن سیاسی عدم استحکام کا اثر عدالتی نظام پر نہیں پڑنا چاہیے۔

عدالت کی جانب سے شوکاز نوٹس واپس لینے پر فردوس عاشق اعوان کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ وہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لینے پر

عدالت کے شکرگزار ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *