ماضی کی طرح دوبارہ آئی ایم ایف کی طرف نہیں جائیں گے:ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ

ماضی کی طرح دوبارہ آئی ایم ایف کی طرف نہیں جائیں گے:ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ

4 views

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ عالمی ادارے معیشت کے استحکام کیلئے حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کی تعریف کر رہے ہیں، ماضی کی طرح دوبارہ آئی ایم ایف کی طرف نہیں جائیں گے

منگل کو وزیر مملکت اقتصادی امور حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر سیّد شبر زیدی کے ہمراہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر

عبدالحفیظ شیخ نے  اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ گذشتہ پانچ ماہ میں اقتصادی محاذ پر اہم کامیابیاں ملی ہیں، رواں ماہ میں برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا

حکومت نے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے اور اقدامات کئے ہیں، اداروں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خود مختاری دی گئی ہے مالی خسارہ پر قابو پایا گیا، مالی خسارہ پر نہ صرف قابو پایا بلکہ انٹرسٹ پیمنٹ کو نکال دیا جائے

تو یہ سرپلس میں آ جاتا ہے، ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے۔ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے صدر یہاں آئے، انہوں نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی کارکردگی کو

بہتر جان کر پاکستان میں مزید 3 ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری دی جو پاکستان کیلئے اہمیت کا حامل ہے

، آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان آئی، انہوں نے  کہا کہ پاکستان نے جو وعدے اور جو معاہدے کئے تھے وہ بخوبی پورے کئے گئے ہیں

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موڈیز نے کل جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں پاکستان کی ریٹنگ کو منفی سے مستحکم قرار دیا گیا ہے

اس رپورٹ سے پوری دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں

جسے عالمی ادارے سراہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں ایک ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا

براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں گذشتہ سال کی نسبت 236 فیصد اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ 40 ہزار کی نفسیاتی سطح عبور کر گئی ہے

بلومبرگ جیسے اداروں نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سٹاک مارکیٹ بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریونیو میں 16 فیصد اضافہ خوش آئند ہے، اس کے ساتھ حکومتی اخراجات پر موثر طریقہ سے قابو پایا گیا

کوئی ضمنی گرانٹ نہیں دی جا رہی ہے، یہی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پرائمری بیلنس سرپلس میں ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے

اسی طرح پچھلے سال کے مقابلہ میں گذشتہ پانچ ماہ میں نان ٹیکس ریونیو میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  امید ہے کہ ہم نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 1200 ارب روپے کے ہدف کو نہ صرف حاصل کریں گے

بلکہ اس سے اضافی ریونیو اکٹھا کریں گے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی، معیشت کے اندر مواقع میں اضافہ  حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں

اس مقصد کیلئے حکومت نے بڑے فیصلے کئے ہیں جن میں برآمدات میں اضافہ، تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لانا اور اقتصادی سرگرمیوں کو

فروغ دینا شامل ہے، برآمدی شعبہ کیلئے بجلی اور گیس کی قیمت میں سبسڈی دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ اس شعبہ کیلئے کم شرح سود پر 300 ارب روپے کے اضافی قرضے بھی دیئے جا رہے ہیں

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت تمام کوششوں کو یقینی بنا رہی ہے

گذشتہ پانچ ماہ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں کوئی

اضافہ نہیں کیا گیا، پٹرول کی قیمت میں اگرچہ معمولی کمی کی گئی لیکن ڈیزل کی قیمت میں زیادہ کمی کی گئی ہے

انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اگر اضافہ ہو رہا ہے تو 75 فیصد صارفین کیلئے سبسڈی بھی دی جا رہی ہے

اسی طرح سوشل سیفٹی نیٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، لوگوں کو صحت کارڈ مل رہے ہیں، کیش ٹرانسفر کی سہولت بھی دی جا رہی ہے

طلباءکو ہر ماہ پیسے بھی دیئے جاتے ہیں، آج کابینہ نے یوٹیلٹی سٹورز کیلئے 6 ارب روپے اضافی رکھے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ ابھرتی ہوئی معیشت ہے

ماضی کی طرح دوبارہ آئی ایم ایف کی طرف نہیں جائیں گے کیونکہ حکومت نے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے اور اقدامات کئے ہیں

وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے اس موقع پر کہا کہ حکومت نے ملکی معیشت کو ڈیفالٹ کے دہانے سے بچایا اور ابھی

استحکام کی طرف سے لایا گیا ہے، اصلاحات کے نتیجہ میں مالیاتی خسارہ 13 سال کی کم ترین سطح پر ہے

فارن ریزرو میں سوا ارب کا اضافہ ہوا ہے، اگلے چند ماہ میں ہم ریکوری اور گروتھ کی طرف جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جنوری اور فروری 2020ءسے مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی آ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجوہات میں موسمیاتی عوامل اور انتظامی معاملات شامل ہیں جس پر صوبوں کے ساتھ بات کی گئی ہے

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ پرائس مجسٹریسی کے نظام کو فعال کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر سیّد شبیر زیدی نے اس موقع پر کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، اب نظام میں افراد کا عمل دخل کم کیا گیا ہے

ٹیکسٹائل کے شعبہ میں 4 ماہ کے عرصہ میں 25 ارب کے کلیمز آئے جس میں سے 5 ارب کے کلیمز ادا ہو چکے ہیں

ان میں سے 16 ارب کے ریفنڈ کلیم کئے گئے ہیں لیکن فارم ایچ جمع نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈ کے 1800 کیسز میں 1604 پر ریفنڈ دیئے گئے

ہیں، فارم ایچ میں مسائل آ رہے ہیں لیکن اس کو بھی حل کیا جا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *