سال 2019 : مقبوضہ کشمیر کیلئے کیسا رہا؟؟؟

سال 2019 : مقبوضہ کشمیر کیلئے کیسا رہا؟؟؟

10 views

سال 2019 میں بھی مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی گئی ۔ کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا جبکہ قابض افواج نے چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ماؤں اور بیٹیوں کو بھی حراساں کیا۔

گزشتہ سال بھی مقبوضہ وادی مشکلات سے گھرا رہا، بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی جاری رہی۔

آنسوں گیس اور پیلٹ گنز کا بلاجواز استعمال کیا گیا، 150 دن تک طویل انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن اور موبائل سروس معطل ہونے سے

کشمیریوں کو گھروں میں محصور کردیا جبکہ طویل ترین کرفیو کی وجہ سے کشمیری بنیادی ضروریات سے بھی محروم رہے۔

سال 2019 کے اختتام پر کشمیر میڈیا سروس نے مقبوضہ وادی پر بھارتی مظالم کی ایک رپورٹ جاری کی۔

جس میں کہا گیا کہ قابض فوج کی فائرنگ سے گزشتہ سال 210 کشمیری شہید اور 2417 زخمی ہوئے ۔

شہید ہونے والوں میں 3 خواتین اور 9 لڑکے بھی شامل ہیں۔

کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق 12 ہزار 892 کو گرفتار کیا گیا، جس دوران انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

جبکہ مظاہروں کے دوران بھارتی فوج نے 827 کشمیریوں کو پیلٹ گن کا نشانہ بنایا ۔

گزشتہ سال مسئلہ کشمیر کو اتنی توجہ ملی جتنی ماضی میں نہیں ملی تھی۔جس سے 162 کشمیری بینائی سے بھی محروم ہوگئے۔

اگست میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان اور مقبوضہ کشمیر

کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، جس کے تحت پہلا حصہ لداخ اور دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

جس کے بعد مقبوضہ وادی میں غم و غصہ کی لہر دور گئی، گاؤں گاؤں، شہر شہر مودی سرکار کے

اس بہیمانہ اور ظالمانہ اقدام کے خلاف زبردست مظاہرے اور احتجاج تاحال جاری ہے۔

5 اگست 2019 میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی

خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل پیش کیا تھا، اس آرٹیکل کے تحت کشمیریوں

کو کچھ حقوق حاصل تھے اور اس دفعہ کے ختم ہونے سے اب کشمیری ان چند حقوق سے بھی محروم ہوگئے۔

 اس آئین کے تحت ریاست جموں کشمیر کو یونین میں ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی۔

اس کے تحت ریاست کو اپنا آئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا۔

جبکہ انڈیا کے صدر کے پا س ریاست کا آئین معطل کرنے حق بھی نہیں تھا۔

آرٹیکل 370 کیا ہے ؟

آرٹیکل 370 کے مطابق مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے

بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کرسکتی تھی، یہ حق دفاع ، مواصلات اور خارجہ امور کو حاصل تھے۔

بھارتی آئین کے تحت حکومت کسی ریاست یا پورے ملک میں کوئی دفعات یا قوانین لاگو کرسکتی ہیں۔

لیکن آرٹیکل 370 کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر میں نافذ نہیں ہوسکتے تھے۔

آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں مقبوضہ کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے۔اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔

آرٹیکل 35 اے کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر کے باہر کسی شہری سے شادی کرنے والی خواتین

جائیداد کے حقوق سے محروم رہتی ہیں جب کہ آئین کے تحت کسی اور ریاست کا شہری

مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی حکومت کسی اور ریاست کے

شہری کو اپنی ریاست میں ملازمت بھی نہیں دے سکتی۔

جبکہ اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد کوئی بھی بھارتی شہری وادی میں جائیداد خرید سکتا اور ہمیشہ کیلئے

قیام کرسکتا  ہے جبکہ شہریت بھی حاصل کرسکتا ہے۔

بھارتی حکومت کے اس ناپاک عمل کے بعد مقبوضہ وادی میں تاریخ کا سب سے طویل المدت کرفیو نافذ کردیا گیا۔

جس سے کشمیری عوام گھروں میں محصور ہوگئیں، غذائی قلت، اسپتالوں کی بندش، تعلیمی اداروں کے غیر فعال ہونے

کی وجہ سے ایک بھیانک صورتحال پیدا ہوگئی، مگر پھر بھی قابض حکومت کشمیریوں کے لہو سے

حق خودداریت کے مطالبے کو نہ مٹا پائے اور نہ مٹا سکے گے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *