ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت

ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت

23 views

ہیومن رائٹس واچ کا کہناہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹ ڈاؤن کرکے تباہی چھپانے کی کوشش کی ہے جبکہ سیاسی رہنماؤں ، وزراء ، وکلاء اور صحافیوں کو بےقصور گرفتار کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت نے وادی میں مکمل شٹ ڈاؤن کے ذریعے تباہی کو چھپانے کی کوشش کی اور

سخت محاصرہ کرکے اضافی فوجی تعینات کئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزرائے اعلیٰ ، سیاسی رہنماؤں ، کارکنوں ، وکلا،صحافیوں کو بغیر الزام

کے نظربند کردیا گیا جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بدستور معطل ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے یک طرفہ اقدامات کی وجہ

سے کشمیریوں کو بے حد تکلیف پہنچی، فوجی محاصرے کے باعث کشمیری بدستور مشکلات کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ اگست میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے

کا اعلان اور مقبوضہ کشمیرکو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔

جس کے بعد مقبوضہ وادی میں غم  و غصہ کی لہر دور گئی، گاؤں گاؤں، شہر شہر مودی سرکار کے

اس بہیمانہ اور ظالمانہ اقدام کے خلاف زبردست مظاہرے اور احتجاج تاحال جاری ہے۔

وادی میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن اور موبائل سروس معطل ہونے سےکشمیریوں کو گھروں میں محصور کردیا۔

آرٹیکل 370 کیا ہے ؟

آرٹیکل 370 کے مطابق مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے

بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کرسکتی تھی، یہ حق دفاع ، مواصلات اور خارجہ امور کو حاصل تھے۔

بھارتی آئین کے تحت حکومت کسی ریاست یا پورے ملک میں کوئی دفعات یا قوانین لاگو کرسکتی ہیں۔

لیکن آرٹیکل 370 کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر میں نافذ نہیں ہوسکتے تھے۔

آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں مقبوضہ کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے۔اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔

آرٹیکل 35 اے کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر کے باہر کسی شہری سے شادی کرنے والی خواتین

جائیداد کے حقوق سے محروم رہتی ہیں جب کہ آئین کے تحت کسی اور ریاست کا شہری

مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی حکومت کسی اور ریاست کے

شہری کو اپنی ریاست میں ملازمت بھی نہیں دے سکتی۔

جبکہ اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد کوئی بھی بھارتی شہری وادی میں جائیداد خرید سکتا اور ہمیشہ کیلئے

قیام کرسکتا  ہے جبکہ شہریت بھی حاصل کرسکتا ہے۔

بھارتی حکومت کے اس ناپاک عمل کے بعد مقبوضہ وادی میں تاریخ کا سب سے طویل المدت کرفیو نافذ کردیا گیا۔

جس سے کشمیری عوام گھروں میں محصور ہوگئیں، غذائی قلت، اسپتالوں کی بندش، تعلیمی اداروں کے غیر فعال ہونے

کی وجہ سے ایک بھیانک صورتحال پیدا ہوگئی، مگر پھر بھی قابض حکومت کشمیریوں کے لہو سے

حق خودداریت کے مطالبے کو نہ مٹا پائے اور نہ مٹا سکے گے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *