ایران سعودی عرب جنگ پاکستان کیلئے تباہ کن ہوگی وزیراعظم کا جرمن ٹی وی کو انٹرویو

ایران سعودی عرب جنگ پاکستان کیلئے تباہ کن ہوگی وزیراعظم کا جرمن ٹی وی کو انٹرویو

3 views

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، کوشش ہے ایران اور سعودی کے مابین تعلقات خراب نہ ہوں، خطہ ایک اور تنازعے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

جرمن ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی

قسم کا فوجی تنازع تباہ کن ہو گا اور یہ خطہ ایک اور تنازعے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی پوری کوشش کررہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب نہ ہوں۔

وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب پر بھارت سے متعلق کہا کہ پہلا لیڈر ہوں جس نے خبردار کیا تھا کہ

بھارت میں کیا ہو رہا ہے، بھارت پر ایک خاص انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ ہندووتواغالب آچکی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آرایس ایس 1925 میں جرمن نازیوں سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔

آر ایس ایس کی بنیاد مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں سے نفرت ہے۔

بھارت اور ہمسایوں کے لیے المیہ ہے کہ آرایس ایس نے ملک پر قبضہ کرلیا۔

بھارتی عوام یاد رکھیں آرایس ایس نے مہاتما گاندھی کو قتل کرایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بنا تو نریندرمودی کے ساتھ مکالمت کی کوشش کی۔

پہلی تقریر میں کہا تھا بھارت ایک قدم بڑھے گا تو ہم دو قدم بڑھیں گے۔

بھارت نے آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کی وجہ سے اچھا ردعمل نہیں دیا۔

کشمیر سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیرکو اپنے

ریاستی علاقے میں ضم کر لیا ،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق خطہ متنازع علاقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے سے کسی کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں۔

کوئی بھی آئے پہلے آزاد کشمیر کا دورہ کرے پھرمقبوضہ کشمیر بھی جائے۔

دنیا کو معلوم ہو جائے گا آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیرمیں کیا فرق ہے۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت عالمی مبصرین کو جانے نہیں دیتا۔

پاکستان کسی بھی ریفرنڈم یا استصواب رائے کے لیے تیار ہے۔

فیصلہ کشمیریوں کو کرنا ہے بھارت کی ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزادی چاپتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ہانگ کانگ میں مظاہروں کو میڈیا توجہ دیتا ہے لیکن کشمیر پر نہیں ہے۔

بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لیے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں۔

کشمیریوں اوربھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر دنیا خاموش ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کے بارے میں کہا کہ افغانستان میں قیام امن سے تجارت

کے نئے امکانات پیدا ہوں گے، افغانستان ہمارے لیے بھی ایک اقتصادی راہداری بن سکتا ہے۔

پاکستان نے افغان امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ہمارا جتنا بھی اثرور سوخ ہے ہم نے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں فائربندی کی طرف پیشرفت جاری ہے۔

اشرف غنی کے انتخاب کے بعد افغانستان میں نئی حکومت آچکی ہے۔

امید ہے امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کامیاب ہوں گے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *