افغانستان کی اوپرا ، خوبصورت اور باکمال مژدہ جمال

افغانستان کی اوپرا ، خوبصورت اور باکمال مژدہ جمال

34 views

عورت دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو، خوبصورتی ، محبت اور وفا کی علامت ہے۔ان تمام وجوہات کی بناء پر دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اپنی خواتین کی نہ صرف یہ کہ عزت کرتی ہیں بلکہ اُنہیں برابری کے حقوق بھی دیتی ہیں ۔ مگر جب ترقی پذیر ممالک کی بات کی جائے تو ان ممالک میں خواتین کو بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں ۔

ان ترقی پذیر ممالک میں ایک ملک افغانستان بھی ہے کہ جہاں رہنے والی عورت ابھی تک

قبائلی رسوم اور غیر ضروری پابندیوں سے آزاد نہیں ہوسکی ہے۔

افغان خواتین پر ہونے والے مظالم کی یہ داستان نہایت طویل ہے اور اس داستان کو

منطقی انجام تک پہچانے والے افراد کی فہرست بھی طویل ہے ۔

ان ہی خواتین و حضرات میں ایک نام افغانستان کی بہادر عورت “مژدہ جمال” کا بھی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر انہیں بھی بہت سی خواتین کی طرح اپنا آبائی

شہرچھوڑنا پڑا مگر مژدہ جمال نے ہمت نہ ہاری کیوں کہ ان کے لیے یہ کوئی نیا تجربہ نہ تھا۔

بلکہ ماضی میں بھی ان کا خاندان اس قسم کے واقعات کا سامنا کرتا رہا تھا ۔

ایسے ہی ایک موقع پر ان کے والد اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آکر آباد ہوگئے تھے

پھر کچھ ہی روز بعد ان کے خاندان کو کینیڈا میں پناہ بھی مل گئی تھی

مژدہ جمال کو چونکہ موسیقی سے لگاؤ تھا اسی لیے انہوں نے اس فن کی باقاعدہ تربیت حاصل کی

اور پھر یوٹیوب کے ذریعے اپنے نغمات نشر کرنا شروع کیے۔

ان نغمات میں ایک نغمہ “افغان گرل” بھی تھا جو بے حد مقبول ہوا اور اسی ایک نغمے

نے انہیں شہرت کی بلندی پر پہچانے کا سامان پیدا کیا ۔

اس نغمے کے نشر ہونے کے کچھ عرصے بعد مژدہ جمال اپنے والدہ کے ہمراہ پھر سے اپنے

آبائی ملک افغانستان پہنچی تو انہیں ایک ٹی وی چینل پر “دی مژدہ شو” کی میزبانی کا موقع ملا ۔

بنیادی طور پر اس شو میں بچوں اور عورتوں کے حقوق کی بات کی جاتی تھی

جس میں شامل شرکاء سے تفصیلی گفتگو کے بعد سوال جواب کا سلسلہ بھی ہوتا تھا۔

یہ شو تقریباً دو سال تک جاری رہا اور اسی شو کی بدولت مژدہ جمال کو افغانستان کی “اوپرا” کا خطاب بھی ملا۔

اس شو کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی وجہ سے افغانستان میں خواتین کو اپنے جائز حقوق سے آگاہی نصیب ہوئی

اور افغان مردوں کو پہلی بار اس پروگرام کے ذریعے اپنے وحشی روپ کا احساس بھی ہوا۔

جس کے بعد افغان معاشرے میں تیزی سے مثبت تبدیلیاں پھیلنا شروع ہوئی

اورخواتین کے جائز حقوق کو احترام کی نظر سے دیکھا جانے لگا مگر یہ سلسلہ زیادہ دن تک جاری نہ رہ سکا۔

اور اس شو کے خلاف منفی پروپیگینڈا شروع کردیا گیا نیز قبائل جرگوں میں بھی اس شو کے خلاف آوزیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔

“دی مژدہ شو” ایک کامیاب شو تھا کہ جس نے افغانستان میں کم سن لڑکیوں کی شادیوں کے خلاف آواز بلند کی

اور جہاں جہاں تک یہ آواز پہنچی ، وہاں کے لوگوں نے بھی کم عمر لڑکیوں کی شادیوں

کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کی نیز شادی شدہ خواتین پر ظلم و زیادتی کا سلسلہ بھی ختم ہونا شروع ہوا۔

اس شو کی کامیابی کے بعد عورت مخالف گروہ نے مژدہ جمال کو قتل کرنے کی عملی کوشش بھی کی مگر وہ محفوظ رہیں ۔

7 دسمبر 1985ء کو کابل میں پیدا ہونے والی مژدہ جمال نے کم عمری میں ہی بہت سی کامیابیاں سمیٹ لی ہیں

اور ابھی ان کی کامیابیوں کا یہ سفر جاری ہے ۔

چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر اب ان کا شو “دی مژدہ شو” آن ائیر نہیں ہوتا

مگر پھر بھی مژدہ جمال کا نشر کردہ یہ پیغام کڑوروں افغان خواتین کی زندگیوں میں مثبنت تبدیلی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔

مژدہ جمال سیکیورٹی خدشات کے باوجود اب بھی اپنے آبائی شہر کابل کا رُخ کرتی ہیں

اور اپنے مثبت پیغامات کی مدد سے غلط رسوم و رواج میں جکڑی خواتین کو ان کے جائز

حقوق کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ فراہم کرتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *