جوکر نے “کوائین فیونکس” کو بالآخرآسکر ایوارڈ دلوا دیا

جوکر نے “کوائین فیونکس” کو بالآخرآسکر ایوارڈ دلوا دیا

7 views

جوکر کا متنازع  مگر شاندار کردار نبھانے والے کوائین فیونکس نے 10 فروری 2020 کو آسکر ایوارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔  انہیں ملنے والے اس ایوارڈ نے جوکر پر کی جانے والی ہر قسم کی تنقید کا منہ توڑ جواب بھی دے دیا ہے۔

جوکر پر کی جانے والی تنقید کے باوجود جوکر کا یہ کردار پوری دنیا میں

اس قدر مشہورہوا ہے کہ اب تک متعدد نوجوان اس کردار کی نقل کر چکے ہیں

لیکن کیا آپ کو جانتے ہیں کہ جوکر کا یہ کردار فیونکس سے پہلے کس اداکار کو آفر کیا گیا تھا؟

جوکر کا یہ کردار فیونکس سے پہلے مشہور اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو کو آفر کیا گیا تھا

مگر اس فلم کے ہدایت کار ٹوڈ فلپس نے فیونکس کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا

جس کے بعد فیونکس کے لیے ایک نیا امتحان شروع ہوا تھا۔

اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انہیں 50 پونڈ وزن کم کرنا پڑا

جس کے بعد ان کی ذہنی حالت اچھی نہ رہی اور وہ شدید ذہنی کرب میں بھی مبتلا رہے۔

فیونکس نے اس اذیت میں مبتلا ہونے کے دوران “نیورولوجیکل ڈس آرڈر” کے

شکار مریضوں کا معائنہ شروع کیا اور دھیرے دھیرے ان مریضوں کی

حرکات و سکنات بھی اپنانا شروع کیں۔ اس طرح فیونکس کو ایک ایسا کردار کرنے کا موقع ملا

جو انہیں پوری دنیا میں مشہور کرانے کا سبب بنا نیز ان کے ہنسنے کا انداز بھی پوری دنیا میں زیرِ بحث آیا۔

 فیونکس سمیت “جوکر” نے بہت سے افراد کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا ہے ۔

ان افراد میں سے ایک نام فلم کے ڈائریکٹر ٹوڈ فلپس کا بھی ہے۔

جوکر کا کردار کس نے تخلیق کیا؟

جوکر کا یہ تاریخی کردار تخلیق کرنے والے ادارے کا نام “ڈی سی کامکس” ہے۔

ڈی سی کامکس کے تخلیق کردہ اس کردار پر اب تک 10 سے زائد فلمیں بن چکیں ہیں۔

ان تمام فلموں میں “اسکارٹ سلور” کی تحریر کردہ فلم “جوکر” کو بڑی اہمیت حاصل ہوئی۔

اس اہمیت کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک خاص وجہ یہ تھی کہ 2012ء میں

امریکی ریاست کولوراڈو میں بیٹ مین سیریز کی فلم “دی نائٹ رائزز” کے شو کے

دوران “جیک جومز” نامی شخص نے فائرنگ کرکے 12 افراد کو قتل کر دیا تھا

جبکہ 70 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

ماضی میں ہونے والے اس واقع کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امریکی حکام کو یہ تشویش لاحق ہوئی

کہ کہیں پھرسے ایسا ہی کوئی واقع رونما نہ ہوجائے۔

اسی خطرے کے پیشِ نظر سارے امریکہ میں اس فلم کی نمائش سے پہلے ہی

بہت سی باتیں شروع کردی گئیں تھیں اور سارے امریکہ میں ہائی الرٹ بھی جاری کردیا گیا تھا۔

سات کڑور امریکی ڈالر سے تیار ہونے والی اس فلم کی ریکارڈنگ کے دوران

فیونکس نے “جوکر کا کردار” اس حد تک اپنا لیا تھا کہ ان کی اپنی شخصیت کہیں نظر نہ آتی تھی۔

فلم کی ریکارڈنگ کے دوران فیونکس اپنے ساتھی اداکاروں سے جوکر کے

انداز میں ہی بات چیت کیا کرتے تھے۔

جب ان کے ساتھی اداکار انہیں حیرت کی نگاہ سے دیکھتے تو فیونکس ان سب

سے ناراض ہوکر دور چلے جاتے تھے۔

ان حالات میں یہ فلم ہزاروں جونئیر اداکاروں کے تعاون سے امریکہ کے مختلف مقامات پر ریکارڈ ہوئی

اور بالآخر 4 اکتوبر 2019ء کو یہ فلم دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ۔

فلم کی نمائش کے بعد 3 دنوں میں ہی فلم پر لگایا سارا سرمایا وصول ہوگیا۔

اس فلم کو کامیاب بنانے کے لیے جہاں اداکاری اور ہدایت کاری نے کام کیا

وہیں اس فلم کی موسیقی اور مکالموں نے بھی اس فلم کو کامیاب بنانے میں عملی کردار ادا کیا۔

فلم کی موسیقی ” لدور گووناڈوتیر” نے ترتیب دی تھی۔

اس موسیقی نے شائقین کی سماعتوں کو اسکرین پر چلنے والے مناظر سے ہم آہنگ کیا

اور اسی کی بدولت فلم کی تاثیر میں بھی اضافہ ہوا۔

ہنسی ، خوشی ، غم اور فلم میں پیش کیے گئے مناظر کی مناسبت سے مرتب کی گئی یہ موسیقی ترتیب دیتے

وقت اگر فن کی باریکیوں کا خیال نہ رکھا جاتا تو عین ممکن تھا کہ فلم اتنی کامیاب نہ ہوتی۔

اسی طرح اس فلم کے متعدد مکالمے بھی مشہور ہوئے ۔ ان ہی مکالموں میں جوکر کا یہ

مکالمہ ” میری زندگی دکھ سے بھری ہے مگر دنیا کے لیے یہ محض ایک مذاق ہے” نہایت مشہور ہوا

جوکر کا تاریخی کردار نبھانے والے فیونکس کی محنت اور قربانیاں رنگ لے آئیں ہیں

اور انہیں فلمی دنیا کی جانب سے ایک بڑے اعزاز “آسکر ایوارڈ” سے نواز کر ان کی خدمات کا اعتراف بھی کر لیا گیا ہے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *