ایف اے ٹی ایف ۔ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے خارج کرنے کا فیصلہ قریب

ایف اے ٹی ایف ۔ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے خارج کرنے کا فیصلہ قریب

12 views

 فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا نیا اجلاس پیرس میں جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کے ہمراہ ایک بار پھر پیرس پہنچ گیا ہے۔

اس اجلاس میں پاکستان کو دیئے گئے نکات کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی اور پاکستان کا نام

بلیک لسٹ سے خارج کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا جائے گا۔

اس بات کی قوی امید ظاہر کی جارہی ہے کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے

اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کا نام بلیک لسٹ کی فہرست میں جانے سے روک لیا جائے گا ۔

واضح رہے کہ اس سلسلے میں چین، ملائیشیا اور ترکی پاکستان کو بلیک لسٹ میں جانے سے روکنے کے لیے

ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کیا ہے؟

ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) سرمائے کو غلط استعمال سے روکنے کی غرض سے بنائی گئی فورس ہے

منی لانڈرنگ پر قابو پانا اور دہشت گردوں کو فراہم کیئے جانے والے فنڈ کی روک تھام اس فورس کے خاص اغراض و مقاصد ہیں ۔

ان دونوں معاملات پر قابو پانے کی ذمہ داری فنانشل مانیٹری یونٹ (ایف ایم یو) کی ہے اور ایف ایم یو اسٹیٹ بینک کا حصہ ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے تحت پاکستان کے مالیاتی اداروں سے ڈیمانڈ کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر منتقل کی جانے والی رقوم پر

نظر رکھیں اور اس کام میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کاروائی بھی کریں۔ ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ

حکومتِ پاکستان نے ان شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کے واقعات پر تو بڑی حد تک قابو پالیا ہے

مگر دہشت گردوں کو فراہم کیے جانے والے فنڈز کی روک تھام میں اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

واضح رہے کہ پیرس میں ہونے والا یہ اجلاس 21 فروری تک جاری رہے گا ۔

اس اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے یا پھر اسے ستمبر 2020 تک مزید مہلت دیے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *