کیماڑی میں پراسرار گیس ، ہلاکتوں کی تعداد 11 ، شہری شدید پریشان

کیماڑی میں پراسرار گیس ، ہلاکتوں کی تعداد 11 ، شہری شدید پریشان

9 views

کراچی کے علاقے کیماڑی میں پھیلی زہریلی گیس نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی، پراسرار گیس سے اب تک 11 افراد ہلاک جبکہ 300 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق زہریلی گیس نے کیماڑی کے بعد کھارادر اور

رنچھوڑ لائن کیجانب رخ کرلیا ہے۔

 پراسرار گیس سے 70 سے زائد افراد کو اسپتال لایا گیا ۔

اسووقت مجموعی طور پر گیس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 300 کے قریب ہیں۔

جبکہ گیس کے اخراج کے باعث 11 افراد اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق زہریلی گیس سے سگریٹ پینے والے اور

سانس کے مرض میں مبتلا افراد زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

تعلیمی ادارے بند ، کاروبار بھی متاثر

کراچی کے علاقے کیماڑی میں اتوار کے روز سے پھیلنے والی زہریلی گیس نے

شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی۔

شہری سانس لینے میں دشواری کیساتھ ساتھ دیگر طبی مسائل میں بھی مبتلا ہوگئے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب فضاء میں پھیلی زہریلی گیس کے باعث کیماڑی اور

اسکے اطراف کے علاقوں میں اسکول غیرمعینہ مدت تک کیلئے بند کردیئے گئے ہیں۔

ساتھ ہی کسی بھی قسم کے جانی نقصان کے بچنے کیلئے فیکڑیز اور دکانوں کو بھی بند کروادیا گیا ہیں۔

سندھ حکومت کا خصوصی اجلاس

مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ رات ہنگامی طور پر اجلاس طلب کیا۔

جس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا فوری طور

پر نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی۔

ساتھ ہی انہوں نے متاثرہ افراد کا بہترین علاج کرنے کا حکم دیا ہے

اور ڈاکٹرز کی اسپتال میں موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

گیس کا اخراج کیسےہوا،معمہ بن گیا

واقعے کی ممکنہ وجہ تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔

کیماڑی بندرگاہ پر بحری جہاز سے سویابین کی آف لوڈنگ روک دی گئی ہے۔

جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ بندرگاہ پر کسی کنٹینر سے زہریلی گیس کا اخراج ہوا ہے۔

دوسری جانب چیئرمین کے پی ٹی جمیل اختر کا کہنا تھا کہ کے پی ٹی کی حدود

میں کوئی گیس لیکیج نہیں ہے، تمام ٹرمینل کو چیک کیا ہے کہیں گیس کا اخراج نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *