عورت مارچ کا دشمن کون؟

عورت مارچ کا دشمن کون؟

56 views

کسی بھی جنگ یا لڑائی کے وقت یہ بات تو اہم ہوتی ہی ہے کہ آپ کا ساتھ کون دے رہا ہے لیکن اس حقیقت کا تعین بھی بہت ضروری ہوتا ہے کہ آپ کا دشمن کون ہے۔

تحریر : عدنان حسن سید

عالمی یوم خواتین کے موقع پر گزشتہ چند سال سے عورت مارچ کا انعقاد واقعی حقوق نسواں

کے حصول کے لئے جدو جہد ہے یا اس کے پیچھے کوئی بین الاقوامی سازش یا سیاسی عوامل کارفرما ہیں۔

یہ بحث عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر زور شور سے جاری ہے

  اس بحث میں پڑنے کے بجائے ہم اس وقت یہ جائزہ لیتے ہیں کہ عورت مارچ

کا ممکنہ دشمن کون ہوسکتا ہے اور کیا ایسا بھی ہے کہ کسی دوست کو دشمن اور

دشمن کو دوست سمجھا جارہا ہو۔ واضح رہے کہ یہ کوئی ذاتی رائے نہیں بلکہ امکانات کا جائزہ ہے۔

سب سے پہلی غور طلب بات یہ ہے کہ عورت مارچ کے دوران پلے کارڈز

کے ذریعے کیئے جانے والے مطالبات کی رینج کیا ہے؟

خواتین پر تیزاب پھینکنے، زنا بالجبر، جرگہ جسٹس کا شکار ہونے، تعلیمی مواقع کم ہونے

جائیداد میں حصہ نہ ملنے، غیرت کے نام پر قتل ہونے، زبردستی کی شادی ہونے اور

خلاف مرضی اولاد پیدا کرنے جیسے سنجیدہ مسائل سے کس کو انکار ہے؟ تاہم

کیا ان مسائل کے ساتھ ”کھانا خود گرم کرلو، موزہ خود ڈھونڈ لو“ جیسے نعروں کا شامل کرلینا

انصاف پر مبنی ہے؟

Image result for aurat march 2019 posters

کیا موزہ ڈھونڈنے اور تیزاب کا شکار ہونے کو ہم ایک جیسا مسئلہ مان سکتے ہیں؟ اگر نہیں مان سکتے

تو پھر ان کی عورت مارچ میں موجودگی کی وجہ کیا ہے؟

نہایت عزت و احترام سے کہنا پڑتا ہے کہ چند خواتین نے ظلم و ستم کے خلاف لڑائی

کو سماجی، اخلاقی، مذہبی اور باہمی ذمہ داریوں کے خلاف لڑائی بھی بنا دیا ہے۔

ہر تہذیب کچھ پابندیوں کوساتھ لے کر چلتی ہے ورنہ انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہ رہے۔

Image result for aurat march 2019 posters

اپنا بستر خود گرم کرو اور ”میں جیسے چاہوں بیٹھوں “ جیسے نعرے آزادی کے نام پر

بے لگامی کی ڈیمانڈ کرتے نظر آتے ہیں اور ایسی آزادی تو عورت مارچ کے پسندیدہ دشمن یعنی مرد

کو بھی کسی تہذیب یافتہ معاشرے میں نصیب نہیں۔

Image result for aurat march 2019 posters

مرد جو چاہے پہن کر گھر سے نہیں نکل سکتا اور نہ ہی ہر طرح کی پوز بنا کے کسی محفل میں بیٹھ سکتا ہے۔

اس لئے ایسے نعرے تو مافوق الفطرت آزادی کی مانگ لگتے ہیں۔

غیر سنجیدہ مطالبات کی موجودگی عورت مارچ کے تشخص کی نفی ہے اور

ان کے پیچھے وہ خواتین ہیں جو پہلے ہی آزاد خیال ہیں اور معاشرے میں ایک مقام رکھتی ہیں۔

عام حالات میں شاید وہ مظلوم اور غریب خواتین کو قریب بھی نہ آنے دیں لیکن

اس موقع پر ان کے سنجیدہ مسائل کے ساتھ اپنی غیر روایتی آزادی کے نعرے شامل کرکے

وہ صرف بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہیں۔ یہ راقم الحروف کی ذاتی رائے نہیں بلکہ

اس کے پیچھے کچھ حقائق ہیں جو سب کے سامنے ہیں۔

حوا کی بیٹی کے حقوق کی علمبردار بن کے ہماری ایک سینئر ٹی وی اینکر عورت مارچ

کے حق میں ٹی وی پر بولتی تھک نہیں رہی ہیں لیکن

چند سال قبل انہی کی فون ریکارڈنگز کے ذریعے یہ ثابت ہواتھا کہ

انہوں نے ایک نابالغ بچی کو گھر میں ملازمہ بنا کے گھر میں قید کیا ہوا تھا

جو بیک وقت چائلڈ لیبر، حبس بے جا اور جبری مشقت کا کیس تھا۔

انہی علمبرداروں میں کچھ ایسی خواتین بھی نظر آئیں کہ جنہوں نے شادی شدہ اور بچوں کے

باپ مردوں کو ان کی دوسری شادی کے لئے راضی کیا اور

انہوں نے پہلی بیوی سے اجازت لیئے بغیر نکاح ثانی کیا۔

بیشتر بیگمات وہ بھی ہیں جن کے بچے آج بھی نابالغ لڑکیاں آیا بن کے سنبھال رہی ہیں۔

تو جن کی اپنی زندگیاں ہی دوسری عورتوں کے لئے نا انصافی کا پیغام ہوں

کیا وہ مظلوم خواتین کو انصاف دلوانے آئی ہیں؟ ان کی زندگی بڑے مسائل سے خالی ہے تو

ایسے نعروں کے ذریعے ہی مظلوموں کی صف میں جا گھسی ہیں۔

اللہ معاف کرے لیکن اپنی شادیوں کی ناکامی کے بعد شادی کے ہی خلاف بولنے والی خواتین

کیا معاشرے کو کوئی نارمل پیغام دے رہی ہیں۔

اس کے پیچھے کوئی ایجنڈا ہے یا نہیں یہ خدا بہتر جانتا ہے

لیکن عورت مارچ کے دشمنوں میں ایسی خواتین کی موجودگی کسی دشمنی سے کم نہیں۔

عورت کی دشمن عورتوں کا با اختیار ہونا ضروری نہیں۔

ہر طبقے میں خواتین دوسری خواتین سے زیادتی کا ارتکاب کرتی یا ان کا ساتھ نہ دیتی نظر آئیں گی۔

وہ جاگیردارانہ کر و فروالی وہ خواتین ہوں جو خادماؤں کو کولہو میں پلوادیں یا لڑکے کی

خواہش میں بیٹے کی کئی شادیاں یا کئی بیٹیاں پیدا کروادیں۔

وہ چاند سی گوری بہو ڈھونڈنے والی مڈل کلاس ساس ہو یا جہیز نہ لانے پر بہو کو زندہ

جلانے والی غریب ساس یہ سب ہی اس بات کی غماضی کرتی نظر آتی ہیں کہ

عورت کا دشمن صرف مرد نہیں بلکہ عورت بھی ہوتی ہے۔

اگر عورتوں پر اپنی مرضی چلانے والے مرد غلط ہیں تو عورتوں کے منہ میں اپنے الفاظ ڈالنے

والی عورتیں بھی تو غلط ہیں۔

گھر میں برتن کون دھوئے گا یا کھانا کون گرم کرے گا یہ انتہائی ذاتی نوعیت کے مسائل ہیں۔

ضروری نہیں کہ شوہر کا موزہ ڈھونڈ کے دینا بیوی پر کوئی ظلم ہو

ممکن ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے رومانوی لمحہ ہو۔

یہ بھی ممکن ہے کہ شوہر پہلے سے ہی برتن دھونے اور چائے بنانے میں خوشی تلاش کررہا ہو اور

اپنی محبت کا اظہار کھانا پکا کے بھی کررہا ہو۔

Image result for aurat march 2019 posters

ایسے میں ان کاموں کوبلا وجہ قابل اعتراض بنا کے پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟

کیا یہ پہلے سے خوشگوار زندگی گزارنے والوں کے لئے زبردستی کا شاک نہیں ہے؟

گھر کی گاڑی محبت سے چلتی ہے، کسی ایک فریق کے دوسرے پر بالا تر ہونے سے نہیں اور

نہ ہی کسی گھریلو کام کا انجام دینا باعث شرم یا بے عزتی ہے۔

دوسری جانب عورت مارچ نے ہر طرح کے مردوں کو حقوق نسواں کا

سب سے بڑا دشمن بنا کے پیش کیا ہوا ہے جو کہ من حیث القوم بالکل غلط ہے۔

دشمن صرف ظالم مرد ہیں ورنہ کیا ہر باپ، بھائی اور شوہر کی زندگی کا مقصد اپنی بیٹی، بہن اور

بیوی کو پریشان کرنا ہے؟ کیا کامیاب خواتین کی کامیابی کے پیچھے کسی مرد کی سپورٹ کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا؟

کیا گھر سے نکلنے پر واقعی خواتین کو صرف بری نظر والے مردوں کا سامنا ہوتا ہے یا

ان کو ان دیکھے انجانے مردوں کی سپورٹ کا یقین ہوتا ہے جن کی موجودگی میں کوئی بری نیت والا بدمعاش

ان کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا؟ کیا کام کاج کے دوران ان کا واسطہ ایسے مردوں سے نہیں پڑتا

جن سے ان کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا لیکن ان کی موجودگی میں تحفظ کا احساس ہوتا ہے؟

کیا ایسے مرد کبھی نہیں ملے جو کسی بھی غیر عورت کی کار خراب ہونے کی صورت میں یا

ٹائر پنکچر ہونے کی صورت میں اس کی ذمہ داری اپنے سر پر لے لیتے ہیں؟

کیا سارے مرد لیڈیز فرسٹ پر عمل نہیں کرتے اور دروازے پر ان کو راستہ نہیں دیتے؟

کیا سارے مرد اپنی نشست خواتین کے لئے خالی نہیں کرتے؟ یقینا ایسا نہیں ہے۔

یہ وہ مراعات ہیں جو خواتین ہر تہذیب یافتہ معاشرے میں حاصل کرتی آئی ہیں۔

مذہب اور آئین سے ملنے والی مراعات اس کے علاوہ ہیں۔

اگر آج ان مراعات کے ساتھ وہ مساوات کی اپیل بھی کرتی ہیں

تو سمجھ نہیں آتا کہ یہ حقوق میں اضافے کا مطالبہ ہے یا کمی کا؟

قصہ مختصر عورت مارچ کے دوران سنجیدہ مسائل اور مظالم اور ان کے سد باب کی کوششیں حق بجانب ہیں۔

ہر پڑھا لکھا باشعور مرد اور عورت ان آوازوں کے ساتھ آواز ملائے گا لیکن

خواتین کو سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ نہ تو ہر مرد ان کا دشمن ہے اور نہ ہر عورت ان کی دوست۔

یہ اچھائی اور برائی کی جنگ ہے، تذکیر و تانیث کی لڑائی نہیں ہے۔

ایسا تو نہیں کہ مردوں کو مسلسل دشمن کے طور پر پیش کرتے رہنے سے وہ اپنے دوست مردوں

کی محبت اور تحفظ کے ساتھ زیادتی کی مرتکب ہورہی ہوں؟

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *