کورونا سے بچنے کی دوا کب تک تیار ہوسکے گی؟

کورونا سے بچنے کی دوا کب تک تیار ہوسکے گی؟

68 views

کورونا وائرس سے بچنے کے لیے پوری دنیا میں دوائیں تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر تاحال اس مہلک مرض سے بچنے کی دوا ایجاد نہیں ہوسکی۔ کچھ ممالک کی جانب سے اس دوا کو بنانے کے دعوے سامنے آچکے ہیں مگر سبھی دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے واضح الفاظ میں یہ بیان جاری کیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کی دوا اب تک دریافت نہیں ہوسکی

تاہم اس مرض پر قابو پانے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اور طریقے اپنائے جاسکتے ہیں جس کے بعد متاثرہ مریض کو سانس لینے میں

دشواری کی تکلیف ختم کی جاسکتی ہے اور اس کے جسم کا مدافعتی نظام بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کووِڈ 19 سے بچنے کے لیے استعمال کی جانے والی دیسی ادویات کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

دنیا بھر سے موصول ہونے والے اطلاعات کے بعد اب حتمی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کووِڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین کہیں

ایجاد نہیں ہوسکی ۔ اس دوا کو بنانے کے سبھی دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں ۔ ان غلط دعوں کے باوجود بہت سے اداروں نے اس وائرس سے

بچنے کی دوا تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان اداروں میں ایران کی بقیہ اللہ یونیورسٹی بھی شامل ہے جس نے پچھلے ہفتے یہ دعویٰ کیا

تھا کہ انہوں ںے دیسی جڑی بوٹیوں کی مدد سے کورونا وائرس کا علاج دریافت کر لیا ہے اور اس وائرس سے بچنے کے لیے مزید تحقیقی کام بھی ہورہا ہے

مگر ابھی تک اس خبر کی تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔

 

اسی طرح انڈیا سے بھی ایک خبر موصول ہوئی تھی کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے یونانی ادویات کارگر ثابت ہوسکتی ہیں مگر

کچھ ہی روز بعد اس خبر کی بھی تردید کر دی گئی۔

چائنا نے بھی اس سلسلے میں جانوروں پر کچھ تجربات کیے ہیں جس کے بعد چائنا کے سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بندر کے مدافعتی

نظام میں اس وائرس کے خلاف سخت مزاحمت پائی جاتی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مزید تجربات کے بعد بندروں کے جسم میں موجود مدافعتی نظام

سے دوا تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

دوسری جانب جرمنی اور امریکا کے درمیان کورونا وائرس کے خلاف بنائی جانے والی دوا پر کشمکش کی خبریں بھی چل رہی ہیں ۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن کمپنی کیور ویک کورونا وائرس کے خلاف ایک موثر دوا تیار کر رہی ہے جس کے

مالکانہ حقوق امریکا حاصل کرنا چاہتا ہے مگر جرمن کمپنی اس بات پر راضی نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ جرمنی یہ دوا صرف امریکا کے لیے تیار کرے مگر جرمن کمپنی کیور ویک یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔

کیور ویک انتظامیہ کے مطابق یہ دوا جلد تیار کر لی جائے گی اور جون ، جولائی تک آزمائش کے لیے پیش کر دی جائے گی۔

اسی دوران امریکی شہر سیئٹل میں بھی کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ایک حفاظتی ٹیکہ تیار کرلیا گیا ہے۔ یہ نیا ٹیکہ امریکی سائنسدانوں نے

بائیو ٹیکنالوجی کمپنی کے اشتراک سے بنایا ہے ۔ اس ٹیکے کا نام آر این اے 1273 رکھا گیا ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے امید ظاہر کی جارہی ہے کہ یہ حفاظتی ٹیکہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو طاقت پہنچائے گا اور متاثرہ مریض

کو صحت مند بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے بچانے کے لیے تیار کی جانے والی سبھی دوائیں ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہیں ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کی تیاری میں کم و بیش 18 ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 183,658 ہوگئی ہے

جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 7,177 بتائی جارہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *