پی ایس ایل سیزن فائیو ،کیا کھویا ؟؟ کیا پایا؟؟

پی ایس ایل سیزن فائیو ،کیا کھویا ؟؟ کیا پایا؟؟

31 views

پی ایس ایل جیسے گرینڈ ایونٹ کو مکمل طور پر پاکستان میں آرگنائز کروانا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کو بلاشبہ گزشتہ دس سال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔  افسوس یہ ہے کہ اس کامیابی کو ممکن بنانے میں نجم سیٹھی اور بورڈ کے سابق ارکان نے جو کردار ادا کیا،  سرکاری طور پر اس کو پذیرائی نہیں ملی۔  بہر حال ہمارے معاشرے کی یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔  فی الوقت یہ جائزہ لیتے ہیں کہ پی ایس ایل کے اس پانچویں سیزن کے دوران ہم کیا کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور کہاں کہاں یہ ایونٹ توقعات پر پورا نہ اتر پایا۔

فوری طور پر اتنے سارے میچز کا انعقاد محض چار شہروں میں کروانا ایک ایسا چیلنج تھا جس سے کافی حد تک بخوبی نمٹ لیا گیا۔

عوام نے بھی حاضری کے معاملے میں بورڈ کو مایوس نہیں اور زیادہ تر میچز میں اسٹیڈیم بھرے رہے۔

سفر کے ٹف شیڈول کے باعث کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو تھکن اور کوفت کا سامنا کرنا پڑا

اور یقینی طور پر ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی  تاہم آنے والے ایڈیشنز میں اس کا خیال رکھا جاسکتا ہے۔

کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کھیلوں کے ایونٹس یا تو منسوخ ہوئے یا نامکمل رہ گئے

  اسی لئے ہم پی ایس ایل سیزن فائیو کے حتمی ونر کا نام جاننے سے آج بھی محروم ہیں۔

  ٹورنامنٹ سیمی فائنل اسٹیج پر رکا ہوا ہے اور یادرہے کہ یہ سیمی فائنل بھی

جلدی جلدی فارمیٹ تبدیل کرکے تین کوالیفائرز کی جگہ تخلیق کیے گئے تھے۔

تادم تحریر اس امر کا فیصلہ نہیں ہوا کہ سیمی فائنلز اور فائنل کو ری شیڈول کرکے کھیلا جائے گا

یا ٹیبل ٹاپ کرنے پر ملتان کو ونر قراردیا جائے گا۔ ری شیڈول سے متعلق کچھ نا قابل عمل تواریخ کا ذکر ہورہا ہے

جیسے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ سے پہلے یا اگلے پی ایس ایل سیزن سے پہلے وغیرہ۔

عالمی کپ سے پہلے غیر ملکی کھلاڑیوں کی موجودگی یقینی نہیں بنائی جاسکتی جبکہ

اگلے سیزن سے پہلے اس کا ڈرافٹ ہوجائے گا۔ کچھ پتہ نہیں کہ موجودہ ٹیموں کی یہ شکل رہتی بھی ہے کہ نہیں۔

مقامی اور غیر ملکی کھلاڑی اپنی ٹیموں کا  یا پی ایس ایل کا ہی حصہ رہتے ہیں کہ نہیں۔

ایسے میں یہ میچز کیسے کھیلے جائیں گے؟  یہ غیر یقینی محض اس لئے ہے کہ ٹورنامنٹ کی پہلے سے طے شدہ پلئینگ کنڈیشنز

میں یا تو کسی قدرتی  یا  بین الاقوامی آفت کا ذکر نہیں،  یا اگر ہے تو اس پر عمل کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

یہ کنفیوژن پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد پر ایک سوالیہ نشان لگارہی ہے۔

دوسری جانب دنیا ئے کرکٹ کی طرف سے پی ایس ایل کے پاکستان میں انعقاد کا خیر مقدم ایک نہایت خوش آئند بات ہے۔

کرکٹ کے لیجینڈز کی پی ایس ایل میں دلچسپی،  بڑی تعداد میں کھلاڑیوں،  براڈ کاسٹرز اور آفیشلز کا پاکستان آنا،  اور

دیگر عالمی فورمز پر اس کی پذیرائی پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی باقاعدہ واپسی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

رائے عامہ کا یہ کہنا کہ پاکستان کرکٹ کے لئے محفوظ ہے،  ایک حوصلہ افزاء پیغام ہے۔  اس کے لئے سڑکوں کی

بندش اور سیکیوریٹی کی سختی ایسی قربانیاں ہیں جو بحیثیت قوم ہم دے سکتے ہیں۔

ہے کہ میچز کا انعقاد آئندہ پشاور،  کوئٹہ،  فیصل آباد،  سیالکوٹ،  شیخوپورہ،  حیدرآباداور دیگر شہروں میں بھی ممکن بنایا جائے گا۔

خصوصاً سندھ اور جنوبی پاکستان کے دیگر شہروں میں کرکٹ ہونا ضروری ہے تاکہ

بے موسمی بارشیں اور خراب روشنی کھیل کو کم سے کم متاثر کرپائیں۔

 اسپانسرز کے مثبت کردار،  کراؤڈ کے جوش اور ٹورنامنٹ کی بین الاقوامی معیار کی کوریج کی بھی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

پانچ اوورز کے لئے اردو ٹی وی کمنٹر ی بھی ایک اچھا اقدام ہے لیکن امید ہے کہ آنے والے

وقتوں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہمیں پورے میچز کی اردو کمنٹری کا آپشن بھی ملے گا اور

اس سلسلے میں اردو کمنٹر ی کے تجربہ کار پروفیشنلز اور نئے ٹیلنٹ کو جوہر دکھانے کا موقع دیا جائے گا۔

تفریح اور موج مستی کے ساتھ پی ایس ایل کا مقصد پاکستانی ٹیم کے لئے ٹیلنٹ کی تلاش بھی ہوتا ہے۔

پی ایس ایل کے سابقہ ایڈیشنز سے ہمیں فخر زمان،  شاداب خان،  حسن علی اور فہیم اشرف جیسے کھلاڑی ملے تھے

جن کی موجودگی میں ہم چیمپیئنز ٹرافی بھی جیتنے میں کامیاب ہوئے۔  اس کے بعد محنت اور گیم اپروومنٹ کی کمی،  فٹنس اور

ٹریننگ کے فقدان کے باعث یہ کھلاڑی میچ ونر نہ رہ سکے۔

بد قسمتی سے ان کے علاوہ ہمیں صرف ایک میچ ونر اور ورلڈ کلاس ٹیلنٹ شاہین آفریدی کی شکل میں ملا ہے اور باقی سب سناٹا ہے۔

اس دوران ہمیں کچھ ایسے کھلاڑیوں کے سلیکشن سے بہلایا گیا جو کبھی معیاری کارکردگی نہ دکھا پائے

جیسے حسین طلعت،  آصف علی،  صاحبزادہ فرحان اور محمد موسیٰ۔

یہ سب اسلام آباد یونائیٹڈ اور مصباح الحق سے وابستگی کے باعث کھلا دئیے گئے

تاکہ تاثر یہ بنے کہ یہ فرنچائزسب سے زیادہ عالمی معیار کا ٹیلنٹ تخلیق کررہی ہے۔  حقیقت اس کے برعکس ہے۔

فرنچائز ز مقابلہ بازی کے لئے صرف فارن پلیئرز پر انحصار کررہی ہیں اور اہم پوزیشنز پر انہی کا قبضہ نظر آتا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ ٹاپ فور میں فارن پلیئرز کھلا کے ہی دو بار چیمپئین بنی ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی بھی غیر ملکیوں کی کاوشوں کے باعث چیمپیئن بنے تھے۔

اس سیزن نے بھی پاکستان کی قومی ٹیم کے لئے ہماری ضروریات کس حد تک پوری کیں۔  آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

وکٹ کیپر بیٹسمین کے لئے پاکستان کے سابق کپتان سرفراز احمد ایسے آؤٹ آف فارم ہوئے ہیں کہ اب لگتا ہے کہ

ان کی قومی ٹیم میں کیا پی ایس ایل میں بھی واپسی مشکل ہے۔

ان کا کھیل مکمل طور پر بدل چکا ہے اور ویسا نہیں رہا کہ جب آپ کہتے تھے کہ یہ بین الاقوامی معیار اور

ضرورت کے مطابق کھیلنے والا واحد کھلاڑی ہے۔

ان کے اعتماد کا یہ حال ہے کہ آج بھی قومی ٹیم کی طرح نویں نمبر پر چھپ کے بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کی

فرسٹریشن بولرز اور فیلڈرز کو گندی گالیاں دے کے نکالتے ہیں جو اسٹمپ مائک میں صاف سنی جاتی ہیں۔

نہ جانے بورڈ اس پر ان کے خلاف کارروائی سے کیوں گریز کرتا ہے۔

بہر طور قومی ٹیم میں سرفراز کی جگہ لینے والے محمد رضوان کیپر ضرور اچھے ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی کے لیول کے بیٹسمین نہیں۔

اسی لئے ان کی فرنچائز کراچی کنگز نے بھی ان کو صرف دو میچز کھلائے اور اس عدم اعتماد پر

رضوان نے کپتان عماد وسیم کی شکایت پریس کانفرنس میں بھی کی،  جو کہ زیادتی ہے۔

ان کے علاوہ پی ایس ایل فائیو میں ہمیں لیوک رونکی،  بین ڈنک،  چیڈوک والٹن اور فلپ سالٹ کیپنگ کرتے نظر آئے

جنہیں ظاہر ہے کہ قومی ٹیم میں منتخب نہیں کیا جاسکتا۔  کامران اکمل کے ساتھ مسئلہ وہی پرانا ہے۔

ایک سنچری تو انہوں نے بنا لی لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

پھر کیپنگ اتنی ناقص کی کہ اب اس عمر میں ان کی ایک اور کم بیک کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

انڈر 19 کے کپتان روہیل نذیر کو بھی ملتان سلطانز نے تب کھلایا جب فارن پلیئرز جاچکے تھے۔

وہ ٹیلنٹیڈ ہیں لیکن بغیر آزمائے تو قومی ٹیم میں نہیں آپائیں گے۔  ایسے میں عالمی کپ کے لئے تو یہی سمجھ آرہا ہے کہ

ملتان سلطانز کے لئے مستقل کیپنگ کے فرائض سر انجام دینے والے ذیشان اشرف کو ہی قومی ٹیم کا کیپر بنادیا جائے کیونکہ

انہوں نے ٹاپ آرڈر میں کچھ اچھی اننگز بھی کھیلی ہیں۔

ادھر یہ بھی طے نہیں ہوا کہ اوپننگ میں بابر اعظم کا پارٹنر کون ہوگا؟

شرجیل خان اور فخر زمان نے ٹورنامنٹ کے آخر میں کچھ ہاتھ دکھائے ہیں

لیکن ان اننگز میں ان دونوں کے کیچ بھی چھوٹے ہیں اور بولرز نے غیر معیاری بولنگ بھی کی ہے۔

بولنگ اور فیلڈنگ کا معیار عالمی کپ میں یہ نہیں ہوگا۔  بحر حال خوش آئند ہے کہ ان دونوں نے فارم میں واپسی کی نشانیاں دی ہیں۔

ان کے ساتھ ساتھ ٹاپ آرڈر میں حیدر علی نے بھی کچھ اچھی اننگز کھیلی ہیں اور چانس کے منتظر ہیں۔

ذیشان اشرف،  حیدر علی،  شرجیل خان اور فخر زمان کے علاوہ کوئی اور ٹاپ آرڈر میں جگہ بناتا نظر نہیں آرہا تاقتیکہ

امام الحق کی ایک نصف سنچری کو معیار بنا لیا جائے۔

مڈل آرڈر میں تجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ کی سمولیت تقریبا ً یقینی ہے لیکن حفیظ کو اپنی بولنگ اور

بورڈ سے ڈسپلن کی پابندی پر توجہ دینی ہوگی ادھر افتخار احمد کی ناکام پی ایس ایل بھی لمحہ ء فکریہ ہے۔

کیا ان کو پچھلے ریکارڈ پر چانس ملتا ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ حارث سہیل کو اس سیزن میں جوہر دکھانے کا موقع نہیں ملا ہے اور

عماد وسیم کے علاوہ کوئی فنشنگ آل راؤنڈر ٹیم میں نہیں ہے۔

ویسے اگر افتخار کی عمر ان کی سلیکشن کے معاملے میں آڑے نہیں آتی تو

لاہور قلندرز کے کپتان سہیل اختر کے فنشنگ رول کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

فاسٹ بولنگ آل راؤنڈرز میں بھی خانہ خالی ہے۔  فہیم اشرف اور عماد بٹ بری طرح ناکام رہے ہیں جبکہ

حماد اعظم  بھی کم بیک پر کچھ نہیں کرپائے۔  عامر یامین کو فٹنس نے چانس نہیں دیا۔

اسی طرح فاسٹ بولرز میں محمد عامر اور شاہین آفریدی کی ہی سلیکشن پہلے سے یقینی تھی

انہوں نے ہی پرفارم کیا ہے۔  وہاب ریاض اور عثمان شینواری متاثر نہیں کرپائے

رومان رئیسں کا کم بیک ناکام رہااور محمدحسنین  وکٹ لینے کے باوجود رنز بے تحاشہ دیتے رہے۔

جنید خان کو چانس نہیں ملا اور حارث رؤف آسٹریلین وکٹوں کے لئے آئیڈیل ثابت ہونے کے باوجود یہاں فٹنس اور

فارم کے لئے جدو جہد کرتے نظر آئے۔  نسیم شاہ،  راحت علی،  دلبر حسین اور عمید آصف نے

کچھ اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن کیا ان کے سلیکشن پر غور کیا جائے گا؟

اسپنرز میں بدقسمتی سے شاداب خان کا فوکس بیٹنگ پر زیادہ رہا جس میں انہوں نے کپتان ہونے کے ناتے خود کو مواقع بھی دیئے،  رنز

 روک کے وکٹ لینے والا کردار وہ بھولتے جارہے ہیں۔

اسپن بولنگ آل راؤنڈر کا کردار عماد وسیم پورا کرر ہے ہیں۔

وکٹ ٹیکنگ اسپنر کے کردار کے لئے شاید ہمیں ظفر گوہر،  عمر خان اور اسامہ میر کی طرف دیکھنا ہوگا۔

مجموعی طور پر بھی شاید پی ایس ایل کو اب ذاتی پسند اور ناپسند سے باہر آکر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ

کے لئے پاکستان کی نرسری کی طرح دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

شاہد آفریدی جیسے کھلاڑی ریٹائر ہوکے بھی فٹ ہیں اور کراؤڈ کے لئے کشش رکھتے ہیں لیکن ان کے جیسا کردار بہت لوگ ادا نہیں کرسکتے۔

فرنچائز اور بورڈز کو سوچنا ہوگا کہ کامران اکمل،  احمد شہزاد،  محمد عرفان،  اسد شفیق اور یاسر شاہ جیسے

کھلاڑی اگر پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی پکچر میں نہیں ہیں تو پی ایس ایل میں ان کا کیا کام؟  پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نئے ٹیلنٹ کی ضرورت ہے۔

اگر پی ایس ایل کی آدھی اسپاٹ لائٹ فارن کھلاڑی لے لیتے ہیں تو باقی کا فوکس ان کھلاڑیوں پر ہونا چاہئے جو قومی ٹیم کی خدمت کرسکیں

ان نیم ریٹائر کھلاڑیوں پر نہیں جن کا ٹیلنٹ اور فٹنس اب بڑھیں گے نہیں،  صرف کم ہی ہوں گے۔

تو صاحبو پی ایس ایل سیزن فائیو سے ہمیں مقامی گراؤنڈز کی رونق اور دنیائے کرکٹ کی سپورٹ تو واپس مل گئی لیکن

ٹیلنٹ کے معاملے میں ہم ابھی بھی اس ایونٹ کی طرفٖ امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ پی ایس ایل آگے جا کے نہ صرف پیسہ کمانے اور موج میلے کا ایک فیسٹیول بنے بلکہ

قومی ٹیم کو ایک مضبوط ترین یونٹ بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

تحریر ۔۔۔۔۔ عدنان حسن سید

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *