کورونا کے نفسیاتی اثرات

کورونا کے نفسیاتی اثرات

101 views

کورونا کے باعث سسک سسک کے کون مرنا چاہے گا ؟ شاید کوئی بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کورونا سے بچنے کی احتیاطی تدابیر اپنائی جارہی ہیں۔

ماسک پہنے جارہے ہیں ، سینیٹائزر استعمال کیئے جارہیے ہیں اور نہ جانے کیا کیا ہورہا ہے۔

مجھے یہ بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ کورونا سےبچنے کے لیے دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا گیا ہے

اور جو ممالک ایسا کرنے سے رہ گئے ہیں وہاں بھی لاک ڈاؤن کی تیاریاںکی جارہی ہیں۔

اگر کورونا وائرس کی علامات پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ یہ علامات 14 روز میں ظاہر ہوتی ہیں

جب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے مگرخوش قسمتی سے بہت سے افراد اس وائرس کو ہرانے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔

مگر کیوں ؟ کیوں کہ یہ ایک نفسیاتی دباؤ ہے جو انسان کے قوتِ ارادی سے جُڑا ہے جو انسان اس نفسیاتی دباؤ

سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہی انسان کورونا جیسی خطرناک بیماریوں کو ہرانے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

اگر دنیا میں ہونے والے آئے دن کے جھگڑوں پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ آئے دن کے ان جھگڑوں میں جیت اُسی شخص کی ہوتی ہے

جو مضبوط قوتِ ارادی کا مالک ہو بلکل اسی طرح کورونا وائرس کی جنگ بھی وہی شخص جیت پاتا ہے

جس کی قوتِ مدافعت مضبوط ہو وگرنہ خوف انسان کی جان لینے میں ذرا دیر نہیں کرتا۔

ایک بار ایک تندرست و توانا شخص دل کا دورا پڑنے سے اچانک ہلاک ہوگیا۔

تفتیش کرنے پر پتا چلا کہ موت سے قبل اُس کی قمیض کا پچھلا حصہ کسی کیل میں پھنس گیا تھا

ہلاک ہونے والا شخص صرف اس خوف سے ہلاک ہوگیا کہ اُسے کسی ماورائی مخلوق نے جکڑ لیا ہے۔

یہ سچ ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی علاج اب تک دریافت نہیں ہوسکا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ

محض احتیاط کی بدولت اس مرض سے بچا جاسکتا ہے۔چائنا کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔

چائنا نے اس مرض پر قابو پانے کے لیے کسی ویکسین کا سہارا نہیں لیا بلکہ اپنی قوتِ ارادی اور احتیاطی تدابیر کی بدولت

اس بیماری کو شکست دی ہے۔ دوسری جانب وہ ممالک جنہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں دیر کی وہاں اس وائرس نے تباہی مچا دی۔

صرف اٹلی میں یہ وائرس 6 ہزار سے زائد نفوس کی جان لے چکا ہے جبکہ چائنا سے شروع ہونے

والا یہ مرض پوری دنیا کے 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد نفوس کو متاثر کر چکا ہے۔

اس مرض سے دنیا بھر کی معیشت بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور پاکستان جیسے ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

پاکستان میں اس وائرس کے نفسیاتی اثرات کا جائزہ لینا ہو تو پچھلے 10 روز کے

دوران سپر اسٹورز میں کی جانے والی شاپنگ کا حال دیکھ لیجےآپ کو اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ یہ

قوم کس نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ پاکسانی قوم کے لیے یہ ایک عالمی وباء ہرگز نہیں بلکہ

ایک ایسی انٹرٹینمنٹ ہے جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بنی ہے۔

اگر آپ کو یقین نہ آئے تو کسی بھی کچی آبادی میں چلے جائیے آپ کو ایسا لگے گا جیسے کسی میلے میں آگئے ہوں۔

کچی بستی کے بچے کھیل کود رہے ہیں، بزرگوں کی نشستیں لگ رہی ہیں اور جوان عورتوں نے بھی

گلی میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور وہ لوگ جو شہر میں مزدوری کے لیے آئے ہوئے تھے وہ بھی اب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں ۔

کیوں؟ کیوں کہ یہ سب ایک نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ان کے نزدیک مر جانا ، ان آئے دن کے جھگڑوں

بجلی ، گیس کے خرچوں سے کئی گنا بہتر ہے۔

اگر غور کریں تو اندازہ ہو کہ کورونا کی آفتان غریب افراد کے لیے ایک خوشی کا پیغام بھی لے کے آئی ہے۔

یہ سبھی افراد بے روزگار ہونے پر پریشان ہیں تو اس بات پر خوش بھی ہیں کہ اب انہیں

بیٹھے بٹھائے کھانے کو مل جائے گا مگر آنے والا کل ان کے لیے کتنی مشکلات لے کے آئے گا ؟

اس بات کا جواب تو شاید آنے والا کل ہی دے پائے گا۔

ان حالات میں ضرورت اس با ت کی ہے کہ بحیثیت قوم ہم سب کو اس نفسیاتی دباؤ سے نجات دلائی جائے

جس کا ہم سب شکار ہیں اور یقین جانئیے! اس کا علاج بھی ہمارے ہی پاس ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *