پاکستانی جیلوں میں قید قیدیوں کیلئے کورونا وائرس ایک خوفناک خواب

پاکستانی جیلوں میں قید قیدیوں کیلئے کورونا وائرس ایک خوفناک خواب

39 views

دنیا بھر سے انسانی جانیں نگلنے بعد کورونا وائرس کی پاکستان میں بھی تباہ کاریاں جاری ہیں، سماجی دور اور احتیاط کورونا کا علاج ہے مگر جیل جیسی ہجوم والی جگہ میں قید قیدیوں کی زندگی اور ان کی وجہ سے  دوسروں کی زندگیوں کو  بھی  شدید  خطرات لاحق ہیں۔

روا نیوز کے شعبے ڈیجیٹل میڈیا کی ہیڈ فہمیدہ یوسفی کے مطابق جان لیوا وائرس کے خطرے  کے پیش نظر برطانیہ میں  چار ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ترکی میں موجود  نوے  ہزار قیدیوں میں اس وبا کا  شدید ترین خطرہ موجود ہے۔

جبکہ مختلف یورپی ممالک میں  جیلوں میں موجود قیدیوں کے اہل خانہ ان کی رہائی کے حق میں  احتجاجی  مظاہرے بھی کررہے ہیں۔

مگر اس کے برعکس پاکستان کی جیلوں کی حالت زیادہ سنگین ہے، جہاں قیدیوں کو ایڈز ، ہیپاٹائٹس اور دیگر موذی بیماریوں کا سامنا تھا ہی تاہم اب انہیں عالمی وباء کا بھی خطرہ ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ برس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کی 114 جیلوں میں 77 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں جہاں ان جیلوں کی قیدیوں کی گنجائش 50 ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔

سب سے زیادہ قیدی صوبہ پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں جن کی مجموعی تعداد 45 ہزار سے زیادہ ہے۔

جبکہ سندھ کی بات کی جائے تو سندھ کی جیلوں میں 16 ہزار قیدی ہیں جن میں سے بہت بڑی تعداد انڈر ٹرائل قیدیوں کی ہے جو پیشی کے لیے عدالتوں میں جاتے ہیں اور وہاں دیگر افراد سے ان کا رابطہ ہوتا ہے۔

جیل خانہ جات سندھ کی جانب سے انتظامی طور پر صوبے کی جیلوں کو تین ریجنوں بشمول کراچی ریجن، حیدرآباد ریجن اور سکھر ریجن میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تینوں ریجنوں میں 27 جیلیں ہیں۔

جیلوں اور پیشی کے دوران عدالت اور انتظامیہ کی جانب سے اقدامات سے متعلق روا نیوز کی ڈیجیٹل میڈیا ہیڈ فہمیدہ یوسفی نے بتایا کہ کرونا کے خدشے کے پیش نظر جیل حکام نے تاحال  تمام قیدیوں کی رپورٹ منفی آنے پر  احتیاطی تدابیر جاری رکھنے کی ہدایت جاری کیں ہیں۔

جبکہ جیل اسپتال میں بھی آئیسولیشن وارڈ قائم کردیا گیا ،  قیدیوں کو ماسک کے بغیر جیل کے اندر نقل و حرکت پر پابندی عائد  کرتے ہوئے سنیٹائزر کے استعمال پر پابند کردیا گیا ہے ذرائع نے بتایا کہ  عدالتوں کی جانب سے جن ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا جارہا ہے  ان کی کورونا وائرس ٹیسٹ کی  رپورٹ اور متعلقہ ڈاکٹر کے لیٹر کے بغیر جیل میں داخل ہونے نہیں دیا جارہا ہے ۔ جبکہ جو نئے قیدی کورونا وائرس ٹیسٹ کرانے کے بعد جیل لائے جارہے ہیں ان کو بیرک میں داخلے سے قبل 3 مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ، نئے آنے والے قیدی کی پہلے رپورٹ اور متعلقہ ڈاکٹر کا لیٹر دیکھا جاتا ہے ، اس کے بعد جیل ڈاکٹرز کی جانب سے قیدی کی دوبارہ اسکریننگ کی جاتی ہے  پھر وزٹ پر آئے ہوئے  ڈاکٹرزاس قیدی کا چیک اپ کرتے ہیں تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کلیئر قرار دیئے جانے والے  قیدی کو بیرک منتقل کردیا  جاتا ہے۔

دوسری جانب سینٹرل جیل کراچی میں قیدیوں کو اہلخانہ سے سماجی دوری پر ملنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم ملک بڑھتے کیسز کے پیش نظر ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *