جب موت کا سناٹا چھائے گا ، تب گھر بیٹھو گے؟

جب موت کا سناٹا چھائے گا ، تب گھر بیٹھو گے؟

48 views

  گھر میں بیٹھیں، سیرسپاٹے، کھانے چلتے رہیں گے۔ سب ہوتا رہے گا،لیکن جن کا اپنا جاتا ہے ناں وہی جانتے ہیں۔۔میرا دل چاہتا ہے ایک ایک کو پکڑ کر بولوں۔ خدا کے لیے باہر نہ نکلیں۔گھر میں رہیں۔

تحریر : شبانہ سید

یہ الفاظ اس روتی بلکتی بیٹی کے تھے جس کے والد کرونا وا ئرس کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس بیٹی کو کسی لمحے قرار نہیں ہے

جو اپنے باپ کا آخری دیدار بھی نہ کرسکی۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ بقول نازیہ کے، ابو کو بخار تھا۔ اور وہ خود ہنس کر کہتے تھے کہ مجھے کچھ نہیں ہوا۔

آس پاس دیکھا ہے کسی کو کرونا ہوا ہو؟ اور پھر جب ٹیسٹ مثبت آیا تو اس کے اگلے ہی روز وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

میرے پاس الفاظ نہیں تھے کہ میں اپنی اس پیاری سی اسٹوڈنٹ کو تسلی بھی دے سکوں۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ چند دن پہلے تک جس

شفیق باپ کے ساتھ ہنسی خوشی دن گذر رہے تھے، کرونا وائرس آنا فانا موت کا پیغام لائے گا اور سب ختم ہوجائے گا۔

ایک عرصہ ہوگیا ، کرونا کی صورتحال ، خطرات، احتیاط، اندیشے، کیسز کی بڑھتی تعداد۔۔سب کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، پڑھ رہے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ بھی ہے۔ لیکن جب کرونا سے انتقال کرنے والے ایک باپ کی بیٹی کو خود روتے بلکتے سنا ہے تو یوں لگتا ہے کہ کسی نے دل

چیر کے رکھ دیا ہو۔ واقعی جو دکھ خود سہتے ہیں، پھر ان کا بس نہیں چلتا کہ ایک ایک شخص کو پکڑ کر بتائیں کہ خدا کے لیے یہ غلطی نہ کرنا۔۔

لاک ڈاون میں نرمی کے بعد بازاروں کی جو صورتحال دیکھی ،اور پھر ایک بیٹی کی آہ و بقا سنی ، خدا کی قسم دل چاہا کہ ان مارکیٹس کو ہی آگ لگادوں ،

جہاں عید کی تیاریوں میں مگن بے حس قوم کو خود نہیں پتہ کہ اگلی باری کس کی ہے؟ کہیں کسی اپنے کی باری تو نہیں؟یا ہوسکتا ہے خود کی باری ہو۔

لاک ڈاون کے دنوں میں اچھے خاصے مڈل کلاس کے کھاتے پیتے خاندانوں کو راشن کے لیے پریشان دیکھا ۔۔ اور آج جب وہی مڈل کلاسیے برانڈڈ کپڑوں کی

شاپس کے بار منڈلاتے نظر آئے تو دل نے کہا کہ ایسی بے حس قوم بھوکی ہی مر جائے تو اچھا ہے۔

ہم وہ خود غرض ہیں کہ ہمارے نہ زبان کے چٹخارے جاتے ہیں نہ کپڑوں کی لت ختم ہوتی ہے۔ نہ تفریح کے مواقع ہاتھ سے جانے دیتے ہیں۔

اس وقت ہم ان لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو صرف ہماری لاپرواہیوں کو بھگت رہے ہیں۔ پھر وہ ڈاکٹر ہوں، قانون نافذ کرنے والے ادارے،میڈیا میں فرائض

انجام دینے والے ،  صفائی کا عملہ یا ہر وہ شخص جو ان وبا کے دنوں میں صرف آپ کی خدمت کو نکلا ہے۔ اور اب خود بھی اس وبا کا شکار ہونے لگا ہے۔  کوئی عقل کے ان اندھوں سے پوچھے ، جنازے اٹھ رہے ہیں، اسپتالوں میں طبی سہولیات کم پڑ رہی ہیں۔ کون سی عیدیں منانے نکلے ہو؟؟؟

کپڑے بدل کر کدھر جاوگے؟ لیکن آپ کا بھی کوئی بھروسہ نہیں۔ عید ملن پارٹیاں بھی آپ جیسے لوگوں نے ہی کرنی ہے۔ اور پھر کرونا کا ایک نہ ختم ہونے

والا سلسلہ شروع کرنا ہے۔ سدھر جاو لوگوں۔۔ اللہ نہ کرے کہ آُ پ کا کوئی پیارا چلا جائے اور آپ کو اس کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہو۔ خدانخواستہ

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *