مصنوعی بازو کی مدد سے ہاتھ میں پکڑی چیز محسوس کی جاسکتی ہے

مصنوعی بازو کی مدد سے ہاتھ میں پکڑی چیز محسوس کی جاسکتی ہے

40 views

سائنس دانوں نے ایک ایسا مصنوعی بازو تیار کر لیا ہے جس کی مدد سے ہاتھ میں پکڑی چیزوں کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس مصنوعی بازو کی ایجاد سے دنیا بھر میں ایک ملین کے قریب وہ افراد فائدہ اُٹھا سکیں گے کہ جو کسی حادثے کے نتیجے میں اپنے اصل بازو سے محروم ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سائنس دانوں نے ایک ایسا مصنوعی بازو تیار کر لیا ہے جسے انسانی جسم سے منسلک کرنے کے بعد اس مصنوعی بازو

کی مدد سے پکڑی جانے والی اشیا کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔

اس مصنوعی بازو کو نیورومسکوولوسیکٹل پروستھیسس کہا جاتا ہے جو انسان کے اعصاب اور پٹھوں سے جڑا ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی کو دریافت کرنے کا سہرا چیمبرز یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر میکس اورٹیز کتالن نے

سویڈن کے گوٹھن برگ، ساہلگرینسکا یونیورسٹی اسپتال، یونیورسٹی آف گوٹنبرگ اور انٹگرم اے بی سمیت امریکی میساچوسٹسس

انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محقیقین کے سر جاتا ہے۔

یہ مصنوعی اعضاء کا ایک نیا تصور ہے جس میں مصنوعی ہاتھ کی مدد سے چیزوں کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق نیورومسکوولوسیکٹل مصنوعی ہاتھ کا ایک نیا اور اچھا تصور ہے جس میں مختلف خصوصیات شامل ہے جو دنیا

کی کسی بھی ٹیکنالوجی میں اس سے پیشتر ایک ساتھ کبھی نہیں پیش کی گئیں۔

اس مصنوعی بازو کا برائے راست تعلق انسان کے اعصاب ، پٹھوں اور دیگر جزیات سے ہوتا ہے۔

یہ مصنوعی بازو انسانی ذہن کو وہ احساس فراہم کرتا ہے جو اصل بازو سے پیدا ہونے والا احساس ہوتا ہے۔

اس مصنوعی بازو کے ساتھ کسی قسم کا غیر ضروری سامان نیز بیٹری وغیرہ بھی منسلک نہیں لہٰذا اسے استعمال کرنا بہت آسان ہے۔

یہ ایک طویل دورانیہ کے لیے انسانی جسم کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے جس کے بعد روزمرہ کی سرگرمیوں کو انجام دینے میں مدد

ملتی ہے اور اس کی حفاظت کے لیے کوئی خاص احتیاط بھی نہیں کرنی پڑتی۔

واضح رہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کا افتتاح ساہلگرینسکا یونیورسٹی اسپتال میں ہوا جس کی سربراہی پروفیسر ریکارڈ برنمارک اور

ڈاکٹر پاولو سسو نے کی ۔

اس مصنوعی بازو کی ایجاد سے دنیا بھر میں ایک ملین کے قریب وہ افراد فائدہ اُٹھا سکیں گے کہ جو کسی حادثے کے نتیجے میں اپنے

اصل بازو سے محروم ہوگئے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *