کرونا وائرس اور پاکستانی معیشت

کرونا وائرس اور پاکستانی معیشت

70 views

-موجودہ حکومت نے سال 2020 کو معاشی استحکام کا سال قرار دیا تھا مگر کرونا وائرس نے نہ صرف ان تمام امکانات کو مخدوش کردیا ہے بلکہ اس مہلک وائرس کی وجہ سے پاکستان کی معاشی زبوں حالی تشویشناک حد تک بڑھنے کے خدشات پیش کیے جا رہے ہیں – کرونا وائرس سے دنیا کے امیر ترین ممالک کی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور پاکستان کے بارے میں معاشی ماہرین بد ترین اثرات کی پیشین گوئیاں کر رہے ہیں۔

تحریر،،یاسمین طہٰ

پاکستان کے مالیاتی اور منصوبہ بندی کے اداروں کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان کو دوکھرب 50 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑیگا۔

کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کیلئے پاکستان بھر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملکی معیشت انتہائی دباؤکا شکار ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں معطل ہونے کی وجہ سے حکومتی ریونیو میں کمی آئیگی مشرق وسطیٰ میں

کام کرنیوالے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد روزگار سے محروم ہو کروطن واپسی کی منتظر ہے اور ان کے آنے کے بعد پاکستانی معیشت

پر منفی اثرات مرتب ہوں گے-پاکستان کو معاشی بدحالی سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت موثر منصوبہ بندی کرے دنیا بھر میں

کورونا کوڈ 19 نے نہ صرف لاکھوں انسانوں کو ہلاک کردیا، بلکہ چھوٹے بڑے سب ہی متاثرہ ملکوں کی معیشتوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے

کیا چھوٹے کیا بڑے، سب سے تاجر، صنعت کار، سرمایہ کار خوفناک وائرس سے پریشان اور متاثر ہیں۔پاکستان میں بھی کورونا وائرس نے

جہاں انسانی زندگیوں کو متاثر کیا، وہیں پہلے سے لڑکھڑاتی معیشت کے اہم شعبوں پر بھی بڑے منفی اثرات مرتب کیے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے وفاق اور صوبوں نے لاک ڈاؤن کیا۔ اس فیصلے سے کورونا کا پھیلاؤ تو یقینا کم ہوا لیکن

تاجروں اور صنعت کاروں کا دیوالیہ نکل گیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرعی پالیسی اسٹیٹمینٹ میں اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس سے

معاشی شعبوں کو دھچکا لگے گا۔ معاشی ترقی کی رفتار1.5 فیصد منفی رہنے کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔

تاہم ان حالات پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں مرکزی بینک کی جانب سے ایک ماہ میں دو بار

پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 4.25فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔

اس سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک بھی کورونا وائرس کے تناظر میں پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار میں

کمی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ دونوں ہی اداروں کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال معاشی ترقی منفی رہے گی۔

سابق مشیر وزیر اعلی ٰ سندھ اور معروف اقتصادی تجزیہ نگار ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کرونا کے بعد پاکستان کی معاشی صورت حال

کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کویوڈ۔19 نے بڑے پیمانے پر عوام، صنعت اور حکومت کے لئے ایک بہت بڑا معاشی بحران پیدا کیا ہے۔

عوام کے لئے، پیداواری سرگرمیوں کی معطلی کا مطلب بیروزگاری اور آمدنی میں کمی ہے جس کی وجہ سے انھیں زندگی کی

بنیادی ضرورتوں کا حصول دشوار ہوگا۔ برآمدات میں کمی سے برآمدی صنعتیں بند ہونے کا امکان ہے

جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا حکومت کے لئے اس کا مطلب،ریوینیو میں کمی ہے،جس سے مالی اخراجات متاثر ہوں گے

پاکستانی برآمدات میں کمی کی وجہ سے زرمبادلہ میں کمی واقع ہوگی اور برآمدات میں کمی کی وجہ عالمی کساد بازی ہے۔

مشرق وسطی کے ممالک میں کساد بازاری کے نتیجے میں پاکستانی افرادی قوت کی واپسی شروع ہوگئی ہے جو ملکی زرمبادلہ کے

ذخائر پر اثر انداز ہوگی۔ اور ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔اس صورت حال میں حکومت کو محدود زرمبادلہ اور

کم ٹیکس محصولات کے ساتھ گذارا کرنا ہوگا۔ مذکورہ منظرنامے سے نمٹنے کے لئے ہمیں ایک مکمل نئے معاشی مینیجمینٹ ماڈل کی ضرورت ہے۔

حکومت کو گھریلو استعمال کی بنیادی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے معیشت کی تنظیم نو کرنا ہوگی۔

زراعت کو بڑے پیمانے پر کیش کروپس سے فوڈ کروپس پر منتقل کرنا ہوگا۔ملکی صنعتوں کو برآمدات کی بجائے بنیادی

گھریلو طلب پر توجہ دینی ہوگی۔اس کے علاوہ غیر ضروری اشیاء کی درآمد پر ململ پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کو اپنے ریوینیو کو دیکھتے ہوئے غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ کا

دائرہ کار ملک کی آدھی آبادی تک بڑھانا ضروری ہے

کرونا کے بعد پاکستانی معیشت پر سابق وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنا لوجی سند ھ،سابق چیئر مین کورنگی ایسو سی

ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م

وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ 2020 کے سال سے ہماری بہت سے امیدیں وابستہ تھیں

جس کی بہت سے وجوہات تھیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی 2019 کے آخر میں نئے سال کو کئی بار ترقی کا سال قرار دیا تھا

جسکی وجہ سے سالہا سال سے پریشانی میں مبتلا کاروباری برادری کو حالات بہتر ہونے کی امید تھی۔پاکستان کی کاروباری برادری

جو مرکزی بینک کی سخت پالیسیوں، ایف بی آر کے غیر حقیقی ٹارگٹس، درآمدات کی حوصلہ شکنی اور سیاسی عدم استحکام سے

پریشان تھی سوچ رہی تھی کہ اسے کچھ ریلیف ملے گا مگر انھیں علم نہ تھا کہ قدرت کی طرف سے پاکستان اور دنیا کے بارے میں کیا

فیصلہ ہو چکا ہے۔نئے سال میں ترقی تو کیا ہونا تھی ساری دنیا کوکرونا وائرس کی وباء کی وجہ سے جان کے لالے پڑ گئے اور

آج بھی دنیا اس بحران کی زد میں ہے۔اب تک لاکھوں افراد کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں اموات ہو چکی ہیں۔

امیدوں کے برخلاف اس وباء نے ترقی یافتہ ممالک کو ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ میں زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

اب مغرب میں اس بحران میں کچھ کمی آئی ہے اور بہت سے ممالک لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہے ہیں مگر ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا پرانی

ڈگر پر نہیں آ سکے گی اور اگر ایسا ہوا بھی تو اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ہر بڑی آفت اور وباء میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے کہ

اس سے لوگ بہت کم سیکھتے ہیں۔ کرونا وائرس کی عالمی وباء سے بھی صرف وہی لوگ سیکھیں گے جو سیکھنے کے خواہشمند ہیں اور

شاید ان میں سے بھی بہت سے موثر ثابت نہ ہوں۔ایک انتہائی دشوار اور پیچیدہ معاشی صورتحال ہماری منتظر ہے جو ہمارے رہنماؤں

کی بصیرت کا امتحان بھی ہے۔ عالمی وباء کے خاتمے کے بعدبھی کم آمدن والے طبقے کے لئے مسائل پیدا ہونگے

جبکہ با حیثیت اور اثر و رسوخ رکھنے والے اس موقعے سے ہر ممکن فائدہ اٹھائیں گے۔

یہ بحران بہت سے لوگوں کو بہتر انسان بنائے گا اور ہم اپنے آپ کو اپنے رویوں کو بہتر بنا سکیں گے۔کرونا وائرس کی وباء نے

انسانیت کو ’گلوبل ویلیج‘ کی حقیقت سے پوری طرح آگاہی دی ہے۔ یہ نظریہ محض باہمی رابطوں ہی کی بات نہیں بلکہ

اس حقیقت سے آگاہی بھی ہے کہ کسی ایک جگہ پر واقع ہونے والا المیہ یا پھر اس نوعیت کی وباء اور اس کے اثرات دنیا بھر کو متاثر کر سکتے ہیں

اور کرہ ارض کے ہر حصے میں اس کی شدت محسوس کر سکتے ہیں اس لئے کسی مسئلہ کو کسی ایک ملک یا خطے تک

محدود سمجھنے کی غلطی دہرانے کا امکان کم ہو جائے گا۔کرونا وائرس سے دنیا کے بہتر ہو جانے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا

بھر میں صحت کے ادارے اور حکام اپنے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے اور بہت ممکن ہے کہ بیشتر صاحب اقتدار اور

اختیا ر یہ سوچیں کہ سپر پاور وہ ہے جس کے پاس جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں ٹیسٹ کٹس اور وینٹی لیٹرز زیادہ ہیں۔

پاکستان میں وبا ء کے پھیلنے کے درمیان معاشی استحکام کی باتیں کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص جلتے گھر میں

نیا فرنیچر ڈالنے کا مشورہ دے۔ ہم بحیثیت قوم نہ تو مکمل لاک ڈاون برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی ہمارا صحت کا نظام مریضوں

کو سنبھالنے کا متحمل ہوسکتا ہے۔ہم کبھی سوئیڈن کے ماڈل کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی ووہان کا ماڈل۔مسجدیں تو بندہیں

مگر سیاسی پارٹیاں، لوگوں کا میل جول سب چل رہا ہے۔ کاروبار کے بند ہوجانے سے غربت اور معاشی بحران نے الگ سر اٹھالیا ہے۔

پاکستان کے 70فیصد ایکسپورٹ آرڈرز کینسل ہوچکے ہیں اور بڑے پیمانے پر فیکٹریوں میں لے آف کا اندیشہ ہے جبکہ پاکستان کا جی

ڈی پی منفی 1.5فیصد ہونے کی توقع ہے جوکہ ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔ جس کے حل کیلئے وزیر اعظم عمران خان

صوبائی حکومتیں اور اسٹیٹ بینک مستعدی کا مظا ہرہ کر رہے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سالانہ 900 ملین ڈالر اور

احساس پروگرام میں 200 ملین ڈالر ویسے ہی خرچ کر رہا ہے اور اب 12 ہزار فی کس الگ بانٹ رہا ہے

جس کا فائدہ غریب لوگوں کو ضرور ہوگا مگر چھوٹے کاروبار اور کمپنیوں کے لیے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔

اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی، ملک بھر کے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز بھی اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں

ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار اور فیڈریشن کے عہدیداران بھی بز نس کمیونٹی اور حکومت کے مابین پل کا کردار ادا کررہے ہیں

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *