صبیحہ خانم: معصوم اور خوبصورت فنکارہ کا عہد تمام ہوا

صبیحہ خانم: معصوم اور خوبصورت فنکارہ کا عہد تمام ہوا

76 views

صبیحہ خانم نے 200 سے زائد فلموں میں کام کیا اور اپنی بہترین کارکردگی کی بدولت پانچ نگار ایوارڈ اور صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی بھی حاصل کیا۔ زندگی کے آخری لمحات امریکہ میں اپنے بچوں کے پاس گزارے اور 13 جون 2020 کو خالقِ حقیقی سے جاملیں۔ 

پاکستان فلم انڈسٹری کی مشہور خوبصورت اداکارہ صبیحہ خانم 1936-1935 ء کو گجرات میں پیدا ہوئیں ۔

ابتدائی عمر میں ان کا نام مختار بیگم تھا تاہم فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد ان کا نام صبیحہ خانم ہوگیا ۔

صبیحہ خانم کے والد کا نام محمد علی تھا اور وہ پیشے کے اعتبار سے ایک کوچوان تھے۔

محمد علی کو جوانی میں صبیحہ خانم کی والدہ سے عشق ہوا تو وہ ان سے شادی کے خواہش مند ہوئے مگر صبیحہ خانم کی والدہ کے

گھر والے اس رشتے پر آمادہ نہ ہوئے ۔

یہ بات محمد علی کے دل پر لگی اور اُنہوں نے اس غم میں ماہیے کہنا شروع کردیئے ۔

جب محمد علی کا عشق حد سے تجاوز اختیار کر گیا تو اقبال بیگم کے والدین نے ان دونوں کی شادی کرادی۔

شادی کے کچھ عرصے بعد صبیحہ خانم کی ولادت ہوئی اور کچھ ہی برس بعد اقبال بیگم کا انتقال ہوگیا۔

جب صبیحہ خانم 14 برس کی ہوئیں تو ان کے والد محمد علی انہیں لے کر لاہور کے رائل پارک آگئے تاکہ انہیں اسٹیج یا فلم میں بطور

ہیروئن کام مل جائے ۔ ابتدائی ایام میں سلطان کھوسٹ اور نفیس خلیلی نے انہیں بت شکن نامی اسٹیج ڈرامے میں کاسٹ کیا

اور پھر اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد سعادت حسن منٹو کے بھانجے مسعود پرویز نے انہیں بیلی نامی فلم میں کاسٹ کر لیا۔

فلم بیلی 1950 کو نمائش کے لیے پیش کی گئی اور بُری طرح سے ناکام ہوگئی ۔ ب

یلی کی ریکارڈنگ کے دوران ہی صبیحہ خانم کو شکور قادری کی فلم میں کام کرنے کا موقع بھی ملا اس فلم کے ہیرو بھی سنتوش کمار تھے

جبکہ ہیروئن کا کردار نجمہ نامی اداکارہ نے کیا تھا۔

بدقسمتی سے یہ فلم بھی کامیاب نہ ہوئی مگر صبیحہ خانم کی قسمت کا ستارا چمک اُٹھا۔

کچھ عرصے بعد کمال پاشا نے دو آنسو نامی فلم بنانے کا اعلان کیا تو اس فلم میں صبیحہ خانم کو مرکزی کردار کے طور پر کاسٹ کیا گیا ا

ور سنتوش کمار کو بطور ہیرو کاسٹ کر لیا گیا۔ یہ فلم کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور 25 ہفتوں تک سینما اسکرین کی زینت بنی رہی ۔

اس فلم کے بعد صبیحہ خانم کی اگلی کامیاب ترین فلم سسی تھی ۔ یہ فلم 50 ہفتوں تک سینما اسکرین کی زینت بنی رہی ۔

اس کے بعد صبیحہ خانم کی بہت سی فلمیں تواتر سے ریلیز ہوئیں جن میں رات کی بارات، حمیدہ سرفروش، حاتم، داتا، آس پاس، عشق لیلیٰ

وعدہ ، سات لاکھ ، شیخ چلی ، دربار ، مکھڑا ، تاجی ، ایاز ، موسیقار ، دامن اور دیگر فلمیں نمایاں ہیں۔

اس کے علاوہ صبیحہ خانم نے بہت سے یادگار کردار بھی نبھائے۔ ان کے یادگار کردار شکوہ ، کنیز ، دیور بھابھی، انجمن ، پاک دامن

اور اک گناہ اور سہی نامی فلموں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

صبیحہ خانم نے بنیادی طور پر 200 سے زائد فلموں میں کام کیا۔

انہیں سنتوش کمار کے بھائی درین سے محبت ہوئی مگر درین کے بھائی سنتوش کمار اس شادی پر راضی نہ ہوئے ۔

اس واقعے کے کچھ عرصے بعد سنتوش کمار خود صبیحہ خانم کے عشق میں مبتلا ہوگئے اور 1958 کو انہوں نے صبیحہ خانم سے شادی کر لی۔

سنتوش کمار اور صبیحہ خانم کی یہ کامیاب جوڑی 30 سے زائد فلموں میں ایک ساتھ بطور مرکزی کردار نظر آئی جبکہ دیگر فلموں میں بھی

اس جوڑی نے معاون کردار ادا کیئے۔

سنتوش کمار 1982 کو دنیا سے رخصت ہوئے مگر صبیحہ خانم کا فنی سفر جاری رہا ۔

صبیحہ خانم نے پاکستان ٹیلی ویژن کے احساس اور دشت نامی مشہور ڈراموں میں نمایاں نام کمایا اور جگ جگ جیوے سمیت سوہنی دھرتی جیسے

یادگار قومی نغمے بھی ریکارڈ کرائے۔

صبیحہ خانم کو ان کی بہترین کارکردگی کے بدلے پانچ نگار ایوارڈ اور صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

صبیحہ خانم زندگی کے آخری لمحات میں اپنے بچوں کے پاس امریکہ چلی گئی تھیں جہاں 13 جون 2020 کو ان کا انتقال ہوگیا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *