تیزاب گردی  کا سدباب کیسے ممکن ہے

تیزاب گردی  کا سدباب کیسے ممکن ہے

31 views

ہمارا تعلق ایسے معاشرے سے ہے  جہاں عدم برداشت اور عدم مساوات اپنے عروج پر ہے۔ معاشرے میں  اس عدم توازن اور بےحسی  کی بنیادی وجوہات  میں  غربت، ناخواندگی ، وسائل کی کمی، جذبات کی گھٹن  اور ناانصافی ہے۔

تحریر : فہمیدہ یوسفی

 جبکہ یہی وجوہات  آگے چل کر انسانی المیوں میں تبدیل ہوتیں ہیں۔   بدقسمتی سے اس کا زیادہ تر شکار  ہمارے معاشرے کی عورت ہی ہوتی  ہے۔

کبھی غیرت کے نام پر ،  کبھی انا  کے نام  پر تو کبھی خاندانی جھگڑے کے نام پر یا کبھی کسی ناکام جنسی ہوس کے نام  پر یا

پھرتشدد کے نام پر بھینٹ عورت  کی  ہی دیجاتی ہے۔

آج ہم آپ کی توجہ  معاشرے  کے ایک ایسے ناسور کی جانب مبذول  کررہے ہیں جس کے باعث  پلک جھپکتے ہی ایک ہنستی کھیلتی

زندگی  جیتی جاگتی  زندہ لاش میں تبدیل ہوکررہ جاتی ہے ۔ اس ناسور کو عرف عام میں  تیزاب گردی کہا جاتا ہے ۔

   عقل حیران اورشرمندہ رہ جاتی ہے کہ  کسطرح  کوئی  بھی انسان وحشت  کی اس منزل کو پار کرلیتا ہے جہاں  اس کو  کسی معصوم کی

زندگی کو  جہنم بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں  ہوتا۔ کہنے کو تو  بظاہر   تیزاب  ایک عام سا کیمیکل ہے جو  ہر دکان  پر  دستیاب ہے۔

اس عام  لیکن  جان لیوا  کیمیکل کا صنعتی استعمال  تو ہوتا  ہی ہے  لیکن  یہ گھریلو  استعمال کے لیے بھی  ہمارے گھروں میں عام پایا جاتاہے۔

اس  کے معمولی  چھینٹے محض چند سیکنڈ میں کسی کی زندگی کو تباہ  اور  برباد کرنے کے لیے کافی ہیں۔

یہ کسی بھی عورت پر  تشدد  کے لیے استعمال  ہونےوالا  انتہائی خوفناک ہتھیار ہے۔

جس کے نتائج متاثرہ عورت کے  لیے تاعمر  تباہ کن اور ہولناک  ہوتے ہیں

خواتین کے اوپر تیزاب پھینکنے کی مکروہ  اور سنگدلانہ وارداتوں کی خبریں آئے دن اخبارات لیکٹرونک میڈیا اور

سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بنتی رہتیں ہیں بنیادی طور پر ان  سفاکانہ واقعات کا مرکزی نشانہ زیادہ تر خواتین ہی ہوتی ہیں

تشویش کی بات یہ ہے کہ ان واقعات میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے حیران کن طور پر حکومتی سطح پر انسدادی

اقدامات قطعی غیر اطمینان بخش اور روایتی بے حسی کا شکا ر ہیں ۔

اس معاملے پر بات کرنے کے لیے جب ہم نے پاکستان کی ممتاز بیوٹیشن مسرت مصباح کے ادارے  اسماٰیل اگین فاونڈیشن سے رابطہ کیا تو

کراچی میں موجود  اسمایل فاونڈیشن کے ریجنل ہیڈ  وسیم صاحب نے ہم کو بتایا کہ یہ ادارہ 2003ء میں شروع کیا گیا۔

اس ادارے کا بنیادی  مقصد ایسی بے بس خواتین کو مفت  علاج کی سہولیات کی فراہمی کرنا تھا جو اپنے

یا غیر اوباش اور عیاش مردوں کے انتقام کا نشانہ بنتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس پاکستان بھر سے کم از کم ساڑھے سات سو سے زیادہ کیس آچکے ہیں جس میں کسی

طبقاتی صنفی اور مذہبی فرق کے بغیر متاثرہ مریض کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جاتیں ہیں۔

 جبکہ اس ادراے کے تحت  علاج کے لیے بیرون ملک سے ڈاکٹرز بھی آکر اپنی خدمات مفت میں متاثرہ مریضوں کو فراہم کرتے ہیں۔

 تیزاب پھینکنے کامحرک  ان کے مطابق زیادہ تر عورت کاحصول ہے

  جس میں رشتے یا رابطے سے انکاراس جرم کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔

دوسری جانب گھریلو تشدد، میاں بیوی میں ناچاقی اور خاندانی جھگڑے بھی اس سفاکانہ عمل کے محرکات میں شامل ہیں۔

 ایک ایسے ہی سفاکانہ واقعے کا تذکرہ کرتے ہوے انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون کے دوسرے شوہر نے اسکو صرف اس لیے تیزاب کا نشانہ بناکر

جلا ڈالا کیونکہ وہ ان کی کمسن بیٹی پر نظر رکھتا تھا اور اندازہ ہونے پر جب خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کا ارادہ کیا تو

اس پر شوہر نے تیزاب سے جلا ڈالا  متاثرہ خاتون نے ادارے سے رابطہ کیا تو نہ صرف انکا علاج کیا گیا بلکہ

انکو روزگار کی فراہمی میں بھی ادارے نے ان کی مدد کی۔

متاثرہ خواتین کی ذہنی حالت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون عمومی طور پر زندگی سے بیزار مایوس اور چڑچڑی ہوتیں ہیں۔

وہ اپنے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتیں نہ وہ کسی پر بھروسہ کرتیں ہیں۔

دوسری جانب ہمارے معاشرے کارویہ بھی بدقسمتی سے ایسی خواتین کی طرف  زیادہ تر منفی ہوتا ہے۔ جبکہ

ان کو محبت  اعتماد اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے ۔

علاج کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ تیزاب سے متاثرہ خاتون کاعلاج عمر بھر ہی جاری رہتا ہے کیونکہ

یہ ایک بہت طویل اور پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے اور صرف ڈارموں اور فلموں  کی حد تک ہی پٹی کھلنے کے بعد ایک حسین چہرہ وجود

میں آجاتا ہے  انہوں نے بتایا کچھ کیسز میں سرجریز کا عمل تیس سے بھی اوپر جاتا ہے۔اپنے ادارے کی بات کرتے ہوے

انہوں نے بتایا کہ ہمارے ادارے کی پوری کوشش ہوتی ہت کہ ہم متاثرہ خاتون کا نہ صرف اعتماد اور

اعتبار بحال کریں بلکہ اس کے مستقبل کے لیے کچھ انتظام بھی کردیں جبکہ متاثرہ مریض کے لیے ہم مفت علاج کی سہولیات دیتے ہیں۔

جس کی وجہ سے متاثرہ خواتین بلاجھجھک ہم سے رابطے میں رہتیں ہیں اور ہم سے اپنے ذاتی معاملات پر بھی کھل کر بات کرتیں ہیں

واضح رہے کہ پاکستان  بھر کے طول و عرض میں  تیزاب گردی کے درجنوں واقعات ہوتے ہیں جن میں سے زیادہ تر تو رپورٹ ہی

نہیں کیے جاتے  ایک اندازے  کے مطابق ملک بھر سے سال میں کم از کم دو سو کے قریب تشدد کے واقعات میں تیزاب کا استعمال کیا جاتا ہے۔

تیزاب گردی کے واقعات سے متاثرہ خواتین کی تعداد اسی فیصد سے بھی زیادہ ہے جبکہ

اسی فیصد کی اس تعداد میں بھی بدقسمتی سے ستر فیصد تعداد  ایسی خواتین کی ہے جو اٹھارہ سال سے بھی کم عمر ہیں۔

صاف ظاہر ہے کہ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک اور چشم کشا ہے مگر اس کے باوجود ہمارے ارباب اختیار کی آنکھیں کھل نہیں سکیں۔

 اس سلسلے میں جب ہم نے ملک کے معوف قانون دان ضیا احمد اعوان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتا یا کہ پاکستان میں

ایسڈ کنٹرول اینڈ ایسڈ پریوینشن بل موجود ہے۔ جس کے تحت تیزاب پھینکنے والے مجرموں کے لیے14 سال کی قید اور 10 لاکھ روپے

تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہےجبکہ غیر قانونی طور پر تیزاب کی  فروخت پر ایک سال کی سزا اور ایک لاکھ جرمانہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قانونی طور پر تیزاب گردی کی کیسز میں  راضی نامہ ممکن نہیں ہے۔

اس قانون سازی کے باوجود پاکستان میں ہر سال تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ کیوں دیکھنے میں آرہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں  ضیا اعوان کا کہنا تھا کہ قانون موجود ہونا اور اس پر عمل درآمد ہونا دو مختلف باتیں ہیں ۔

ہمارے معاشرے میں قانون کی عملداری اور انصاف کا حصول متاثرہ شخص کے لیے بہت پیچیدہ ہے  جس میں متاثرہ خاتون

پولیس کو اطلاع سے یا پھر  تھانے جاکر رپورٹ کرے اس کے بعد اس کا میڈیکو لیگل ہو  تاکہ شواہد محفوظ ہوسکیں

لیکن ظاہر ہے کہ ایک تیزاب سے جھلسی خاتون کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے کہ وہ ان مراحل سے گزرسکے

دوسری جانب یہ سرکاری اداروں کی ڈیوٹی ہے کہ وہ ایسے کیسز کی امداد کے لیے آگے بڑھیں  لیکن ہمارے اداروں میں بےحسی

کا یہ عالم ہے کہ متاثرہ خاتون ایڑیاں رگڑ کر دم توڑ دیگی لیکن اس کی انصاف تک فراہمی مشکل ہے جبکہ

اگر ان اداروں سے سوال کیا جاٰے تو ان کا روایتی جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی جانب سے مدد کے لیے تیار ہیں اگر کیس رپورٹ ہو ۔

جبکہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تیازب گردی کے کیسز میں بھی میڈیکولیگل میں اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ شواہد ختم ہوجاتے ہیں۔

اس کی مثال دیتے ہوے انہوں نے بتایا کہ تیزاب کے حملے میں ستر فیصد جلنے والی خاتون کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ

وہ اپنا بیان ریکارڈ کرواسکے کیونکہ اس کا  ڈائنگ ڈیکلیریشن لینے میں دیر ہوجاتی ہے اور مجرم صاف بچ نکلتے ہیں۔

جب کہ  انکا کہنا تھا کہ ایسے نہ جانے کتنے واقعات ہوتے ہیں جو منظر عام پر نہیں آتے اور مجرموں کی جانب سے

استعمال کیے جانے والے تاخیری اور تادیبی  ہتھکنڈوں کی وجہ سے رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ تیزاب گردی سے متعلق قانون سے معاشرے کی لاعلمی بھی انصاف کی فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جبکہ

ہماری پولیس کا رویہ بھی متاثرہ خواتین کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوتا۔

تیزاب گردی کے روک تھام کو کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے؟ اسکے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کہ خواتین پر تشدد کے

خلاف ضلعی سطح پر فاسٹ ٹریک کورٹ کا قیام ممکن بنایا جانا چاہیے تیزاب پھینکنے کے مکروہ جرم کے

انسداد کے لیے قانون کے شکنجے کو بھی زیادہ سے زیادہ کسا جائے اور اس نوعیت کے مقدمات کی کارروائی کم سے کم وقت میں

تکمیل کے لیے جوڈیشل پروسیس کو آسان اور فعال بنایاجائے ساتھ ہی اس طرح کی کیسز کے متاثرہ خاتون کی حفاظت کا اور

دیکھ بھال اور عالج معالجے کی سہولیات کی فراہمی  کا انتظام بھی کیا جانا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں  قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی  سخت سے سخت ہدایات جاری کی جائیں ۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تیزاب گردی کے  مجرمان کو سزا ہونی چاہیے اورانصاف پر عمل ہوتا دکھنا چاہیے ۔

خواتین پر تیزاب پھینکنے والے ان سفاک مردوں کا یہ رویہ ان کے اخلاقی دیوالیہ پن کی کھلی عکاسی کرتا ہے

ان حملوں کا نشانہ بنانے والے مجرموں کو قرار طواقعی ساز دیجانی چاہیے کیونکہ اس المیے کا شکار مظلوم خواتین زندہ درگور ہوجاتی ہیں۔

جبکہ اس تیزاب گردی کے منفی   معاشرتی اور نفسیاتی اثرات بے شمار ہیں۔ ان حملوں کا نشانہ بننے والی  اکثر ذہنی الجھنوں کا شکار رہتیں ہیں ۔

اس سلسلے میں عورت فاؤنڈیشن کی پرونشیل پروگرام منیجرملکہ خان  کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سول سوسائٹی اور

این جی اوز اپنی حد تک متاثرہ خواتین کی مدد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لیکن ہماری وفاقی اور

صوبائی حکومتوں کا طرز عمل تشدد کا شکار خواتین کے حوالے سے بے حسی پر مبنی ہے۔ جبکہ

متاثرہ خواتین  کے لیے امداد اور علاج بھی  حکومتی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیزاب سے متاثرہ خواتین کے لیے  2011ء کے  ایسڈ پروٹیکشن بل میں  بحالی  کے حوالے سے  کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

عورت فاؤنڈیشن نے سول سوسائٹی، پارلیمینٹرینز اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ  ملک کر اس سلسلے  میں ایک ڈرافٹ تیار کیا  اور

اس کو سندھ اسمبلی بھیجا گیا جو تا حال توجہ کا منتظر ہے۔ تیزاب سے متاثرہ خواتین  کی ہم کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔

اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ  کسی بھی حادثے سے  جلنے والے  شخص پر دودھ کا فوری استعمال کرنا چاہیے اور

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ  متاثرہ خواتین کے حوالے سے ڈاکٹررز اور نرسز کو اپنا رویہ  بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ 2011ء کے

ایک واقعے کا تذکرہ  کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ  چھ خواتین پر تیزاب پھینکا گیا جس کے ملزمان کو سزا دلوائی گئی جبکہ

متاثرہ خواتین کی  ہر ممکن مالی اور قانونی امداد کی گئی۔

اب تبدیلی کے بعد نیا پاکستان میں وفاقی  سطح پر تیزاب گردی کی مہلک  وارداتوں کے سدباب کے لیے فوری اور ٹھوس  اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *