پاکستان اسٹاک ایکس چینج  حملہ: شہید گارڈ افتخار  واحد کی کہانی

پاکستان اسٹاک ایکس چینج حملہ: شہید گارڈ افتخار واحد کی کہانی

34 views

پیر  کا روز ویسے  تو  اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا پہلا  دن ہوتا ہے  اور سب کاروبار کرنے والوں کی نظریں  اسٹاک ایکس چینج کی جانب ہوتی ہیں ۔

لیکن  جون  کا  آخری پیر  تو نہ صرف  کاروباری حلقں کے لیے بلکہ  پورے پاکستان کے لیے  اس ہولناک خبر کے ساتھ شروع ہوا کہ  کراچی شہر  میں 

 پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش کی تاہم  نجی  سیکیورٹی گارڈز اور کراچی   پولیس  کی بہادری نے  اس حملے کو ناکام بنادیا

فہمیدہ یوسفی

 انتیس جون  پیر  صبح  دس بجے  شہر قائد میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج  کو  دہشت گردوں کی جانب سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی

 لیکن دہشت گردوں کے عزائم ایک بار پھر  ناکام ہوگئے کیونکہ اس قوم کے بہادر پولیس والوں اور  پرائیوٹ محافظوں نے اپنی جان پر کھیل کر دشمن کو  شکست فاش دی

اور ثابت کردیا  کہ جب تک اس قوم  کی  غیرت زندہ ہے کوئی سازش اس پاک سرزمین کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکتی

ان دہشت گردوں کی جانب سے اس حملے کو پسپا  کرنے میں  پولیس کے نوجوانوں کے ساتھ  ان دو سیکورٹی گارڈز  کی  جان کی قربانیوں کو  سراہا جانا چاہیے

  کیونکہ ان کے خون سے  ایک بار پھر وطن  کے لیے  وفا کی  کہانی  لکھی جو قوم کی تاریخ میں  بہادری کی مثال کے طور  پر یاد رکھی جائیگی

قوم کے ان ہیروز کو یاد رکھنے  کے لیے  راوا نیوز  کی ٹیم  اس حملے میں شہید ہونے والے  سکیورٹی  گارڈ  شہید افتخار احمد   کے گھر پہنچی

ریلوے کالونی کی کچی پکی  تنگ گلیوں سے  گزر کر  ہم  پاؤس نمبر  ڈی چھیالیس   تک بلا آخر پہنچ گئے  خستہ حال  گھر کے دروازے پر ٹاٹ کا پردہ  گھر کے مکینوں  کی  غربت کی

داستان  بیان کرتا نظر آیا  گھر کے اندر داخل ہوئے  تو اندازہ ہوا  کہ  اس یہاں  کے مکین  کس طرح سے دو وقت کی روٹی  کے حصول  کے لیے   جدو جہد کرتے ہونگے

آڑھی ترچھی  سیڑھیوں  سے ہوکر پہلی منزل پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ  ایک  چھوٹا سا کمرا  شہید گارڈ  افتخار واحد کی کل کائنات  تھا  جہاں وہ اپنے پانچ بچوں کے ساتھ رہتے تھے

سولہ سے اٹھارہ ہزار پانے والے ایک معمولی سے گارڈ کی کہانی  اور اس  سے کیا مختلف ہوسکتی  تھی  جو  روز  صبح ساڑھے چھ بجے سے شام کے ساڑھے چھ  بجے تک

سکیورٹی ایکس  چینج کے دروازے  پر کھڑے  رہ کر    اپنے  گھر والوں کے لیے رزق حلال کماتا تھا۔

شہید  گارڈ افتخار  احمد  کے پانچ بچوں میں سے  بدقسمتی سے ایک بیٹا  معذور ہے جبکہ  اٹھارہ سال کا بیٹا  بھی دل کا مریض ہے

  جبکہ  ایک بیٹی شادی شدہ ہ  ہے  جبکہ دوسری بیٹی  ماسٹرز  کررہی ہے  اور سب سے  چھوٹی    تیرہ سال کی  کلاس  سیونتھ میں پڑھتی ہے

بیٹی  نیلم  کا کہنا تھا  کہ اس کے والد بہت شریف اور  نیک انسان تھے اہنے کام سے کام رکھتے تھے ان کی زندگی نوکری اور گھر تھا

جبکہ پیر کے روز وہ اپنے وقت سے بھی پہلے  چلے گئے تھے اور ہم ان کو خدا حافط بھی نہیں کہہ سکے

  شہید  گارڈ کی بھتیجی  ارم نے بتایا کہ اس کے چچا بہت شریف النفس   لیکن بہادر انسان تھے  اور انکو اپنے وطن سے بہت محبت تھی  اور ہم سبکو ان کی شہادت پر فخر ہے

تاہم ارباب اختیار سے گزارش یے کہ وہ مرحوم کے  پسماندگان  کے لیے  مستقل بنیادوں  پر  انتظام کریں

دوسری جانب ہمارے ذرائع  کے مطابق  شہید گارڈز   کے خاندان کو ملک ریاض اور جے ڈی سی کی جانب سے  چیک دیے گئے ہیں۔

جبکہ سندھ حکومت اور دوسرے مخیر حضرات کی جانب سے   بھی اعلانات کیے گئے ہیں

دہشت گردوں   سے بے جگری سے لڑنے والے ان تمام شہیدوں کو ٹیم راوا کا سلام  اور امید  کرتے ہیں کہ ارباب اختیار اپنے وعدوں  کو ایفا کرینگے

 

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *