پب جی گیم:نوجوانوں میں ذہنی دباؤاورخودکشی کا بڑھتاہوا رحجان

پب جی گیم:نوجوانوں میں ذہنی دباؤاورخودکشی کا بڑھتاہوا رحجان

55 views

نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور خودکشی کے بڑھتے رحجانات کے باعث پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ’پلیئرز ان نون بیٹل گراؤنڈز‘ (پب جی) کے خلاف متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد اس گیم پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تحریر : غانیہ خالد

پی ٹی اے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے آن لائن گیم پلیئرز ان نون

بیٹل گراؤنڈز (پب جی) کے خلاف متعدد شکایات کو مد نظر رکھتے ہوئے گیم پر عارضی طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

PUBG mobile game temporarily banned in Pakistan - Technology ...

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے کو ’پب جی‘ کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوئیں جن کے مطابق یہ گیم وقت کے ضیاع اور

عادی بنانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی اس کھیل کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ’پب جی‘ گیم سے منسوب خودکشی کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔

اِس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور شکایت کرنے والوں کی سماعت کے

بعد اس معاملے کا فیصلہ کریں لہٰذا اس معاملے پر  9 جولائی 2020 کو سماعت کی جارہی ہے۔

اتھارٹی نے مذکورہ آن لائن گیم کے حوالے سے عوام کی جانب سے آراء کی طلبی کا بھی فیصلہ کیا۔

مشہور ترین ویڈیو گیم پب جی دسمبر 2017 میں آئیر لینڈ کے گیم ڈیزائنر یرینڈہ گرین نے متعارف کروایا تھا ، اس وقت دنیا بھر کے

لاکھوں افراد یہ گیم کھیل رہے ہیں۔

مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس گیم کے کھیلنے والے نوجوانوں کے جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

یہ گیم نوجوان کے ذہن پر اس قدر حاوی ہوتا جارہا ہے کہ اس شکست کو قبول نہیں کر پاتے اور اپنے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں ایک ہفتے کے دوران پب جی گیم میں شکست کے باعث دو نوجوانوں نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی۔

جبکہ خود کشی کا تیسرا واقعہ بھی لاہور میں پیش آیا جب 20 سالہ نوجوان نے کے والدین نے مسلسل گیم کھیلنے سے منع کیا

جس پر اس نے خود کشی کرلی تھی۔

اس سے قبل بھی پب جی گیم کے باعث نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے لاتعداد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں

جس پر گیم کو بند کروانے کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

جس پر لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ہدایت نامہ جاری کیا تھا کہ وہ اس گیم سے متعلق نقصانات کا اندازہ کر کے کوئی پالیسی مرتب کرے۔

دوسری جانب پی ٹی اے کی اس اقدام کے بعد سوشل میڈیا پر ٹوئٹس کا تاندہ باندھ گیا اور بین پب جی ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا۔

صارفین نے جہاں پی ٹی اے کے اس اقدام کو سہرایا وہیں سوشل میڈیا یوزرز نے اس گیم کیساتھ ساتھ دوسری انسانی صحت اور

معاشرتی پہلوؤں کیلئے نامناسب ایپس پر بھی پابندی کا مطالبہ کیاکی۔

خیال رہے کہ مشہور ترین ویڈیو گیم پب جی دسمبر 2017 میں آئیر لینڈ کے گیم ڈیزائنر یرینڈہ گرین نے متعارف کروایا تھا ، اس وقت دنیا بھر کے

کڑوروں افراد یہ گیم کھیل رہے ہیں۔

اس گیم میں دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے اور ایک کھلاڑی سے لے کر سو کھلاڑیوں تک کی ٹیم ہوتی ہے جو انٹرنیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے

سے جڑتی ہے، دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل آکر فائرنگ کرکے مخالف ٹیم کو مارتے ہیں۔

پرتشدد  ، اسلحہ ، لڑائی جیسے مناظر کی وجہ سے بچوں اور نوجوانوں پر منفی اثرات کے باعث گیم کو اکثر تنقید کا سامنا رہتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *