یورپی یونین نے 32 ممالک میں پاکستانی لائسنس والے پائلٹس کو پروازوں سے روک دیا

یورپی یونین نے 32 ممالک میں پاکستانی لائسنس والے پائلٹس کو پروازوں سے روک دیا

16 views

یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے اپنے 32 رکن ممالک کی اتھارٹیز کو پاکستانی لائسنس کے حامل پائلٹس کو فلائنگ کرنے سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق  یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے اپنے تمام رکن ممالک سے سفارش کی

ہے کہ پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹس کو جہاز اڑانے سے روکا جائے۔

ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے تمام پاکستانی پائلٹس کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے اپنے رکن ممالک سے کہاہے کہ جیسا کہ آپ کے علم ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی

جانب سے جاری کیے گئے 40 فیصد لائسنسز میں بہت زیادہ بے ضابطگیوں کی شکایات منظرعام پر آئی ہیں جو باعث تشویش ہے۔

خط میں متعلقہ رکن ممالک کی اتھارٹیز کو پاکستانی لائسنس کے حامل پائلٹس کی فلائنگ معطلی کے حوالے سے آگاہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

ایاسا نے اس تناظر میں اپنے 32 اراکین کو اس سنجیدہ معاملے پر توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی اے اے

پاکستان کی طرف سے جاری کردہ لائسنسوں کے حامل پائلٹس کو معطل کیا جائے۔

ہدایت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹ کام کر رہا ہے تو اس حوالے سے ممکنہ اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

ساتھ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فی الحال کسی پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹ کو فلائٹ آپریشن میں کام کرنے سے روکا جائے۔

دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی کے پرسنل لائسنس ڈیپارٹمنٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جعلی لائسنس کے

معاملے پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے 35 پائلٹس کے لائسنس معطل کردیئے گئے، جن میں 2 خواتین پائلٹ بھی شامل ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد پائلٹس کے لائسنس معطل کئے۔

اس سے قبل 2019ء میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن نے 17 پائلٹس کو مشکوک لائسنس پر گراؤنڈ کرکے معطل کیا تھا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *