پاکستان کا امن پسندانہ بھارتی رویہ ناکام ہوگیا ہے

پاکستان کا امن پسندانہ بھارتی رویہ ناکام ہوگیا ہے

11 views

عام  طور پر سیاسی سماجی  معاشی  اور  عسکری حلقوں میں زیادہ تر  یہ  متنازعہ  خیال پایا جاتا ہے کہ  مشرق میں پاکستان کی  پڑوسی ممالک کے لیے پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔ 

یہ استدلال  مدلل اور عسکری حلقوں   میں پچھلے ستر سالوں سے  ہیش کیا جارہا  ہے۔ 

جبکہ اس استدلال کو گہرائی میں جاکر غور سے  دیکھیں گے تو جو اعداد و شمار آپ کے سامنے آئینگے تو  پاکستان میں مداخلت کے لیے بھارتی حکمت عملی ہے وہ انتہائی حیران کن ہے

راوا ایڈیٹوریل بورڈ

گزشتہ  برسوں میں جہاں پاکستان نے اپنے  پڑوسی کے لیے  مثبت پالیسی اپنائی ہے کشمیر پر مصلحت پسندانہ پالیسی جبکہ انتہائی غلط وقت پر اپنائی جانے والی امن کی آشا  ہے۔

تو دوسری جانب بھارت  کے آزادی کے بعد سے ہی خارجہ پالیسی کے اہداف طے شدہ ہیں

اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ہندوستانی پالیسی سازوں نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین مختلف قومی جیو سیاسی حالات کے باوجود اپنے پالیسی اہداف کو

مستقل طور پر  واضح طور پر استعمال کیا۔

تقسیم کے بعد سے ہی وہ واضح طور پر سمجھ چکے تھے کہ ہندوستانی تجربے کو زندہ رکھنے کے لئے پاکستانی تجربہ ناکام ہونا چاہئے

ہندوستانی پالیسی سازوں کو شروعات سے اندازہ تھا کہ  کہ وہ پاکستان کے ساتھ موت کےکھیل  میں ہیں

اور اس  موت کے کھیل  کے آخر میں صرف ایک قومی وجود زندہ رہے گا

اس طرح کے ثنائی نقطہ نظر کی وجوہات یہ ہیں کہ ہندوستان نے کثیر الثقافتی ، سیکولر اور آئینی ریاست کی پرزم  کے اندر ہمیشہ اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے

تاہم   (مودی شاید اس میں تبدیلی لائیں)کہ  ہندوستان کا یہ وعدہ پاکستان کی  اسلامی بنیادوں پر قائم  نظریئے سے زیادہ مضبوط ہے اور یہ  کہ پاکستان کی  اندرونی ناکامی

اور انتشار اس امر کی گواہی ہے کہ پاکستان نے اپنایا ہوا راستہ خطرے سے بھر پور ہے جس سے  اسے ہر قیمت پر  گریز کرنا چاہئے۔

جبکہ  ہندوستان کی اپنی قدرتی  کمزوریاں اور خامیاں   جو اس کی ذات پات کے نظام ، اس کی دولت میں فرق ، اس کی شمالی اور جنوبی ثقافتی علیحدگی ،آسام کی علیحدگی

اس کا کشمیر چیلنج ، سکھ خودمختاری کی خواہش اور آخر کار میں سب سے بڑا اس کا مسلم مسئلہ  جسکو  صرف اور صرف مغرب کے ایک ناکام تجربے کو  طاقت  کے زریعے

ہی پرسکون  کیا جاسکتا ہے یہی  وجہ ہے کہ ہندوستانی پالیسی اسٹیبلشمنٹ ، طاقت کے دلال پاکستان کو خیالی اور حقیقی دونوں لحاظ سے ایک خطرناک ناکامی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں

جبکہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ روا سلوک  اور  مشرقی پاکستان جیسے  قومی سانحہ کے ساتھ ہندوستان کی طرف سے

پاکستان کے خلاف  بیانیے کو چلانے میں بہت  آسانی سے فائدہ اٹھایا گیا۔

دوسری جانب  بڑی دھونس اور خطے  کے چوہدری کے طور پر  ہندوستان  نے  پاکستان معاشرتی انصاف اور ترقی کے شعبوں میں کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا ہے

جبکہ   انہی  شعبوں  میں اپنی ناکامیوں کو پاکستان پر ڈال کر  اپنی خامیوں کو چھپالیا ہے

جہاں پاکستان کو  بنیادی طور پر ایک  ناکام ریاست  یا ناکام تجربہ کے طور پر سمجھا جاتا ہے، وہیں  بھارت کی ناکامیوں کو ایک جمہوری عمل کی بڑھتے ہوئے تسلسل میں

درپیش چیلنجز اور تکلیف کو  وجوہات بناکر بڑی  سے آسانی سے خارج کردیا جاتا ہے۔

پاکستانی پالیسی سازوں اور قومی سامعین کو اس مساوات کو سمجھنا چاہئے اور اسی کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔

پاکستان میں استحکام لانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تمام محاذوں (معاشرتی ، معاشی ، سیاسی اور عسکری) پر بھارت کے خلاف زبردست پوری طاقت سے حملہ کیا جائے۔

کسی بھی طرح کی بات چیت یا توجہ دلانے کے بارے میں خیال رکھنا بے معنی اور پاکستان کے مفادات کے منافی ہے۔

ہماری توانائیاں مضبوط داخلی اداروں کی تعمیر ، بین الاقوامی معیار کے گرد ہماری تعلیم کو بڑھانے ، قومی بیانیہ کو ترقی دینے اور تقویت دینے

(جس میں معاشرے کے تمام طبقات پر مشتمل ہے)

ہمارے انٹیلیجنس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور معاونت ، اور نوکریوں سے جاگنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ یہ بیانیہ ہندوستان کے بارے میں ہماری پالیسی کا متمنی ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *