پاکستان میں 262 پائلٹس کے لائسنس جعلی: کتنا سچ کتنا جھوٹ؟؟؟

پاکستان میں 262 پائلٹس کے لائسنس جعلی: کتنا سچ کتنا جھوٹ؟؟؟

13 views

پاکستان کے وزیر ہوا بازی غلام سرور نے چوبیس جون کو پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والے آٹھ سوساٹھ کمرشل پائلٹس میں سے دوسو باسٹھ ایسے ہیں جن کے لائنس جعلی ہیں ۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ تمام پائلٹس جعلی ڈگری پر غیر قانونی طریقے سے تعینات ہوئے اور لوگوں کی جانیں خطرے

میں ڈال کر پروازیں چلاتے رہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا باقی ہے کیا حقیقت میں دو سو باسٹھ پائلٹس کی ڈگری جعلی ہے

سب سے پہلے اس عمل پر نظر ڈالتے ہیں ۔

جس کے ذریعے کوئی شخص پائلٹ بنتا ہے کیا یہ اتنا آسان ہے کہ آپ کسی بھی ائر لائن کے اندر آسانی کے ساتھ داخل ہوسکیں

پندر سو فلائنگ آورز مکمل کرے اور جہاز اڑانا شروع کردے۔

دوسری جانب پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ، حسن ناصر جیمی نے واضح کیا ہے کہ سول

ایوی ایشن حکام مختلف سی اے اے اور غیر ملکی ایئر لائنز سے موصولہ 104 ناموں میں سے 96 پاکستانی پائلٹوں کی تصدیق کر چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی سی اے اے کے قائم مقام ڈائریکٹر اور ہوا بازی کے سکریٹری حسن ناصر جیمی نے

پائلٹوں کے مشکوک لائسنسوں کے معاملے سے متعلق عمان کے خدشات کا جواب دینے کے لئے ، پبلک اتھارٹی

برائے سول ایوی ایشن (پی اے سی اے) عمان کو ایک خط بھیجا۔

حسن ناصر جیمی نے عمان ایوی ایشن اتھارٹی کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ ایوی ایشن ڈویژن اور

پی سی اے اے نے احتساب اور اصلاحات کے ایجنڈے پر پاکستانی حکومت کے عزم کے مطابق مسافروں کی حفاطت اور

ایئر لائنز آپریشن محفوط بنانے اور یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدام تمام شعبوں میں شفافیت ، میرٹ اور قابلیت کو یقینی بنانے کا تسلسل ہے۔

اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہوائی سفر میں زیادہ سے زیادہ حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے پائلٹوں کے لائسنسوں کے

بارے میں کچھ خدشات اٹھائے گئے تھے تاہم ان خدشات کو دور کرنے کے لیے فرانزک اسکروٹنی کے ذریعے

اسناد کی تصدیق کا عمل وفاقی حکومت نے شروع کیا تھا۔

پی سی اے اے کے قائم مقام ڈائریکٹر اور ہوا بازی کے سکریٹری نے واضح کیا کہ پی سی اے اے کے جاری کردہ

تمام سی پی ایل اور اے ٹی پی ایل پائلٹ لائسنس ‘حقیقی اور درست طور پر جاری’ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لائسنسوں میں سے کوئی بھی جعلی نہیں ہے بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں اس معاملے

کو غلط سمجھا گیا ہے اور غلط طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

خط میں ان حقائق کو اجاگر کیا گیا ہے کہ 104 میں سے 96 پاکستانی پائلٹوں کو پہلے ہی کلئیر کردیا ہے

جن کے لئے مختلف غیر ملکی ایئر لائنز اور ہوابازی حکام نے ان کی اسناد کی تصدیق کے لئے سوالات اٹھائے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *