طیارہ حادثہ جعلی لائنسس؟  پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ  حفیظ خان کے ساتھ

طیارہ حادثہ جعلی لائنسس؟ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کے ساتھ

35 views

پاکستان  کی قومی ائیر لائنز  کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں   ، جعلی لائنسس پائلٹس  حادثے   سیاسی وابستگیاں  خسارے طیارے 

ان سب کا  سوالوں کا جواب  دینے کے لیے ہم نے  براہ راست بات کی ہے  پی آئی اے کے ترجمان  عبداللہ حفیظ خان کے ساتھ

فہمیدہ یوسفی 

 سر سب سے پہلے تو کراچی میں جو  طیارہ حادثہ ہوا ہے  اس پر آپ کیا کہنا چاہینگے اور کیا پی آیی اے ذمہ داری لیتا ہے اس حادثے کی؟

دیکھیں حادثات کے بہت ساری  وجوہات ہوتیں ہیں اس کی ذمہ داری  اور حساسیت  پر کوئی بات آپ چھوڑ نہیں سکتے۔  یہ نہیں کہ سکتے کہ بڑی نارمل سے بات تھی

یہ کسی بھی ائیر لائن کے لیے یا اس سے منسلک لوگوں کے لیے اس سے زیادہ تکلیف کی بات ہو نہیں سکتی  یہ میری زندگی کا غمزدہ اور تاریک ترین دن تھا

جس دن یہ حادثہ ہوا یہ ہماری ائیر لائن کے لیے بھی شدید ترین تکلیف کا مقام تھا

  ایک حادثے سے آپ کی ساکھ جس کو بنانے میں سالوں لگتے ہیں ختم ہوجاتی ہے  اور جو لوگ اپنے پیاروں کو کھو دیتے ہیں ان کے خاندانوں پر کیا گزرتی ہے

ہمیں اس کا آئیڈیا  ہمیں اس وجہ سے ہوتا ہے کہ  کیونکہ حادثے کے بعد پھر ہم ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں ۔

ہم ان کے غم میں شریک ہوتے ہیں  لیکن ہم ان کا غم کم نہیں کرسکتے

پاکستان کی قومی ائیر لائن سے سفر کرنا اتنا بھیانک خواب  کیوں بن گیا  ہے  آخر حادثے کی وجوہات کیا ہوتی ہیں  

 

اس پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں  دنیا بھر میں مانا جاتا ہے کہ  سفر کے لیے  فضائی سفر دنیا کا سب سے بہتر اور  محفوظ  طریقہ کا ر ہے۔ کیونکہ فضائی حادثات کی شرح  نسبتا  کم ہوتی ہے۔

  پاکستان میں سال کے اندر کوئی سوا لاکھ فلائٹس  آپریٹ کرتی ہیں  جو صرف پی آئی اے کی ہیں جبکہ اگر باقی  تمام ائیر لائینز بھی شامل کرلی جائیں  تو تعداد ملین میں بنتی ہے۔

  اسی طرح پوری دنیا میں  ایک وقت کے اندر ہر سیکنڈ کے اندر ستر ہزار سے زائد  طیارے میں فضا میں ہوتے ہیں۔ مسلہ صرف اس کے اوپر یہ ہے کہ جب  حادثہ جب ہوجاتا ہے

تو اس کی سنگینی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ   اس میں بچنے کے چانسز کم ہوتے ہیں اسی لیے کمرشل ایوی ایشن ڈیزائن اس طرح کی جاتی ہے کہ

اس میں سیفٹی کے  ملٹپل ٹیرز  رکھے جاتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ ایک ٹیر فیل ہوجائے تو اس کی جگہ دوسرا ٹیر ٹیک اپ کرلیتا ہے۔

اگر وہ مکینیزم یا وہ سسٹم بھی فیل ہوجاتا ہے تو وہ تیسرا ہوجاتا ہے  اور وہ نہ تو چوتھا  اور ایک پوری سیریز ہے۔

اس  لیے کمرشل ایوی ایشن کی  سیفٹی کے اوپر  پوری  دنیا میں بہت زیادہ کام  ہوتا ہے

بہت زیادہ ریسرچ کی جاتی ہے اور اگر آپ ایک طریقے سے دیکھیں تو اس سے سے زیا دہ سیف اور پروفیشنل طریقہ  کوئی نہیں ہے سفر کرنے کا  پروفیشنل میں اس لیے کہہ  رہا ہوں

جو لوگ اس انڈسٹری کے ساتھ وابستہ ہیںتاہم کوئی  بھی حادثہ تب ہوتا ہے جب آپ  کے تمام سسٹم فیل ہوجاتے ہیں یا کیے جاتے ہیں

مطلب ایک فیصلہ آپ نے صحیح وقت  پر لینا تھا اور اس کے بدلے غلط فیصلہ لیا۔

  اس کے بعد جو دوسرا فیصلہ تھا وہ بھی غلط ہوا اور جب لیول پرآئے وہاں پر بھی غلط فیصلہ ہوا یہ بڑا انوکھا کیس ہوتا ہے

کیونکہ ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا  کہ سارے پراسیس یا سارے سسٹم اکھٹے فیل ہوجائیں اور زیادہ تر ائیر کریش میں ہوتا بھی یہی ہے کہ سارے کے سارے پروسیجر فیل ہوجاتے ہیں

اوراس حادثے میں   بھی یہی ہوا اور ہم ایڈمٹ کرتے ہیں کہ جس طریقے سے پروسیجر فالو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا جس کی وجہ سے ہمیں اتنا بڑا ہمیں نقصان اٹھانا پڑا

جبکہ  حقیقت پسندی سے دیکھا جائےتو  طیارہ یا ہماری ساکھ کا مسلہ نہیں ہے بلکہ اس میں جو انسانی زندگیاں گئی ہیں ہمیں اس کا افسوس ہے

کیونکہ وہ ہم واپس نہیں لاسکتے اور ہم اسکو کسی بھی طرح سے آسان نہیں لے سکتے

اس کا مطلب آپ یہ مان رہے ہیں کہ کراچی طیارہ حادثہ  پائلٹ کی غلطی سے ہوا اور  آپ کے پائلٹ کے اندازے  کی غلطی کی وجہ سے

ستانوے  مسافر اپنے پیاروں سے منٹوں کی دوری سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے 

جہاں تک آپ نے بات بولی کہ ساری چیزیں پائلٹ پر ڈالدی جاتیں ہیں ایسا نہیں ہوتا

یہی وجہ تھی کہ کریش کے بعد یہ باتیں ہونی شروع ہوئیں اور مختلف جگہوں پر یہ بات ہوئی کہ یہ پائلٹ کا قصور۔تھا یا یہ نہیں ہوا یا یہ نہیں ہوا

 حادثے کی  وجوہات ہوتیں ہیں اور ابھی تحقیقاتی رپورٹ آنی ہے  بہت زیادہ  وجوہات ہیں  جو کسی بھی ائیر کریش  کا سبب  بن سکتیں ہیں

 اس میں ایکسٹرنل فیکٹر بھی ہوتے ہی ایسے   ایلیمیںٹ بھی ہوتے ہیںجو  سبوٹاج کے زمرے میں میں آتے ہیں

پائلٹ کی یا پروسیجرل غلطی  بھی ہوسکتی ہے  اسی لیے اس کی  حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہم ہمیشہ سے   فورا سے کسی پر غلطی  یا ذمہ داری نہیں ڈالتے

آپ تحقیقات کے آنےکا  انتطار کرلیں ابھی  رپورٹ نہیں آئی حالانکہ  رہورٹس پر آیا کہ  ذمہ داری انہوں نے فکس کردی ہے جبکہ جو رپورٹ آئی ہے اس میں کسی کی ذمہ داری نہیں ہے

تاہم  پی آئی اے اس طیارہ حادثے کی ذمہ داری قبول  کرتی ہے ہمارا سسٹم  ہمارا  پروسیجر  فیل ہوئے ہیں ہم اس کی کوئی بھی کسی قسم کی بھیہ وضاحت دینے سے قاصر ہیں

 

پاکستان ائیر لائنز   کی بربادی میں سیاسی  وابستگیوں اور سیاسی مداخلت کے کردار  پر کیا کہینگے آپ اور کیا کوئی بہتری  کی امید  رکھی جائے  

آپ کی بات بلکل صحیح ہے ور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں  کہ  پی آئی اے میں سیاسی  مداخلتیں رہیں ہیں۔

جبکہ ایسے لوگوں کی بھرتیاں بھی ہوئی ہیں جو صرف اور صرف سیاسی طور کی گئی ہیں

 اور ظاہر ہے کہ ان کے مفادات  کمپنی کے ساتھ نہیں تھے تاہم سیاسی بھرتیوں کا آنا  شاید اتنی بڑی بات نہیں ہے اگر وہ ساتھ میں اپنی  جاب کے لیے دیے  گئے معیارات پر پورا اترتے ہوں

پی آئی اے کو ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب سیاسی طور پر نااہل  لوگوں کی بھرتیاں کی گئی  اور اس کی وجہ سے ہمارا اسٹینڈرڈ اور کوالٹی گری

اور ہم یہ بلکل مانتے ہیں کہ اس کا نقصان ہم  نے اٹھایا ہے

پی آئی اے کمرشل ادارہ ہے اسکے فیصلے بھی کمرشل بنیادوں پر ہونا چاہیے لیکن جب آپ اس کے فیصلے  کہیں اور لیتے ہیں  اور پی آئی اے کے فیصلے وہاں ہوتے ہیں

جن کا پی آئی اے سے کوئی  لینا دینا نہیں تو ظاہر یے پھر پی آئی اے اس حالت میں آئیگی جس میں ابھی ہے

اور اگر ہمیں پتہ ہے کہ محنت کے بعد بھی ایک فیصلہ ہم پر مسلط کیا جائیگا تو ہم میں سے کوئی بھی محنت نہیں کریگا

چاہے پھر وہ کوئی بھی ہو اس لیے پی آئی اے  کو کمرشل بنیادوں پر چلنے دیں

اور حکومت پاکستان کو پی آئی اے کی ملکیت لینا ہوگی  جبھی یہ ائیر لائن  میں بہتری  ہوگی

دنیا کی بہت ساری ائیر لائینز ارتقا کے عمل سے گزر کر بترین حالت میں ہیں اور دنیا کی بہترین ائیر لاینز میں شامل ہوگئی

جیسا کہ ٹرکش ائیر لائینز  انڈونیشیا کی ائیر لائن  اور ملائیشیا ائیر لائنز اس کی واضح مثال ہیں

اگر حکومت آج پی آئی اے کو پرائیویٹائز کردے  یا آج وہ کہیں کہ  آپ کے جو پائلٹس ہیں 

ان کو گراؤنڈ کرکے  وہ پاکستان ائیر فورس کے پائلٹس جن کو دنیا مانتی ہے

تو یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہوگا کیونکہ آپ کے اپنے پائلٹس تو مشکوک ہیں  تو کم از کم حادثے تو کم ہوں

پی آئی اے کی مالک حکومت ہے اگر ان کو لگتا ہے کہ وہ  پی آئی اے کو پرائیویٹائز کرنا حل ہے تو ضرور کریں

تاہم  یہ بتاتاچلوں کہ  پچھلے سال ہم نے گراس پرافٹ اٹھایا  اور  اگر  یہ کورونا نہیں آتا

اور ہوائی سفر پر پابدی نہیں لگتی تو ہماری تو پوری تیاری تھی کہ ہم اس  کپمنی کو  فناشنلی گرین کردیتے۔

  جہاں تک رہ گئی بات پی اے ایف کے پائلٹس کی تو  اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ دنیا بھر میں  اپنی مشاقی کے لیے مایہ ناز ہیں

لیکن  کمرشل ایوی ایشین کے اندر ٹرینینگ بڑی مختلف ہوتی ہیں۔

  اس طرح نہیں ہوسکتا کہ ایک پائلٹ آج فائٹر  پلین اڑارہا ہواور اگلے دن آکر وہ کمرشل فلایٹ  اڑالے

  کیونکہ کمرشل فلائی کرنے کے لیے ٹرینینگ الگ ہوتیں ہیں اور جو بھی پائلٹ آئے گا اس کو شروع سے شروع کرنا  ہوگا

 ہمارے پاس کچھ ایکس ائیر فورس کے پائلٹس  ہیں لیکن وہ بہت شروع  میں ہمارے پاس آگئے تھے  ابھی بھی ہمارے پاس پائلٹس کی کمی نہیں ہے  بہرحال ابھی یہ بات  بہت دور ہے

 

لگتا نہیں سول ایوی ایشن پی آئی اے  حکومت اور آپ کی پالپا ایک پیچ پر ہیں

 

نہیں ایسا نہیں  ے سوال ایوی ایشین اور پی آئی اے الگ الگ ادارے ہیں  ہمارے فریم ورک الگ ہییں

پاکستان میں  ایک ریگولیٹر ہے جو کمرشل ایوی ایشن  کے قوانین بناتا ہے  ان پر عمل در آمد کراتا ہے  وہ لائنسز ایشو کرتا ہے  وہی انکی مانیٹرنگ اور رینیول بھی کرتا ہے

  تو وہ ائیر اسپیس کے نگران یں  جبکہ پی آئی اے آپریٹر ہے   یہاں ہم ایک ائیر لائن ہیں  ہم اکلوتی ائیر لاین نہیں ہیں ہمارے ساتھ دو اور ائیر لاینز بھی آپریٹ کررہی ہیں

اور غیر ملکی ائیر لائں بھی کام کرتی ہیں  ہم سب ہر ایک ہی قوانین لگتے ہیں

پالپا سے متعلق میں صرف یہ کہنا چاہونگا  کہ پی آئی اے کے اندر زیرو ٹالرینس پالیسی ہے  چھوٹی   سےچھوٹی  غلطی پر بھی حساب ہوتا ہے

سیفٹی پر ہم کوئی رسک  لے نہیں سکتے  ایکشن ہمیں لینا پڑتا ہے  اس کے اوپر اگر کسی طرف سے تنقید ہے  تو اس لیے

کیونکہ وہ اپنے آئینی طریقے سے باہر نکل کر ہم پر پریشر ڈالنا چاہتے ہیں  لیکن ہم یہ پریشر برداشت کرینگے

اور جعلی  لاینسس والا کیس کیا ان کو پتہ نہین ہوگا  اس میں کوئی سیاسی یا نظریاتی نہیں ہے ہم سیفٹی پر کمروپائیز نہیں کرینگے چاپے  وہ بندہ سیاسی طور پرکتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو

آپ کے اپنے پائلٹس پر تو سوال اٹھا   ہوا ہے اور اب شاید وقت آگیا ہے کہ پی آئی اے کی انتظامیہ کو سخت لیکن باعمل فیصلے کرنا چاہیے کیا کوئی بہتری کی  امید رکھی جائے 

 

ٓ میں آپ کی بات کے جواب میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں  کہ آپ  گر تو قمست سے سکتے ہیں لیکن اٹھنا آپ  کے اپنے  اپنے اختیار میں ہے

ہم ان تمام چیزوں سے سیکھ کر ہم  ضرور کھڑے ہونگے ابھی آپ  کو دنیا کو یہ لگتا ہے کہ ہم  کہیں نہیں ہیں لیکن وقت دیں  ہم بہتری لاکر دکھا دینگے

  ہم نے اپنا مینڈیٹ طے کیا  ہے  جبکہ ہم کسی بھی صورت میں کوئی بھی کسی قسم کا مسافروں کی سیفٹی کو لیکر پریشر نہیں برداشت کرینگے

چاہے اس کے لیے ہم کو کتنے سخت فیصلے  لینا پڑیں

  

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *