کورونا وائرس کے سائے میں ملکی مویشی منڈیاں سج گئی ہیں لیکن؟؟

کورونا وائرس کے سائے میں ملکی مویشی منڈیاں سج گئی ہیں لیکن؟؟

70 views

پاکستان  میں عید  قربان ہو اور مویشی منڈیوں کی رونق اپنے عروج پر نہ ہو  ایسا عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتا  کیا بچے کیا بوڑھے کیا جوان  سبھی مویشی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں  خوبصورت جانوروں  کے لیے خریداروں کے مول تول اور بیوپاریوں کے بھاؤ تاؤ  سے اس عید  کے رنگ جمتے ہیں اور جب گھر پر بچوں کی پسند  کا جانور آتا ہے اس کو گھمانا  اس کو چارہ  ڈالنا  اور  اس کا خیلا رکھنا تو بچوں کیا بڑوں کے لیے بھی مصروفیت اور فرض بن جاتا ہے۔ 

فہمیدہ یوسفی

اس بار کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اس عید کے رنگ پھیکے پھکے سے ہیں ۔

 تاہم   پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں کورونا کی وبا کے باوجود قربانی کے

جانوروں کی خرید و فرخت کے لیے مویشی منڈیوں  کے قیام کا سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے   جبکہ  حکام  لگائی جانے  والی ان  مویشی

 منڈیوں میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کروانے کی یقین دہانیاں  تو کروا رہے ہیں  لیکن

ا ن منڈیوں  میں احتیاطی تدابیر کی ہونے والی خلاف ورزیوں کو ہر گز بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا  نظر ڈالتے ہیں

ملک کی چند  اہم منڈیوں میں ہونے والی پیش رفت پر

اگر بات کراچی  کی کی جائے   تو ہر سال عید الحضی کے موقع  پر لاکھوں جانوروں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے ۔

محتاط  اندازے کے مطابق صرف سپر ہائی وے پر لگنے والی منڈی میں چھ لاکھ کے قریب جانور ملک کے مختلف حصوں سے لائے جاتے ہیں۔

یہاں عید سے قبل مویشیوں کے مقامی بیوپاری حرکت میں آ جاتے ہیں اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر

سال بھر لگنے والی منڈیوں سے جانور خرید کر انہیں قربانی کی مخصوص منڈیوں میں بیچتے ہیں۔

دل چسپ بات یہ  ہے کہ ملیر  کی بکرا پیڑھی  میں سارا سال منگل کے روز منڈی لگتی ہے جس میں مختلف شہروں سے

لوگ جانور لاتے ہیں اور یہاں کے قصائی یا فارمز والے انہیں خرید لیتے ہیں۔ عید سے دو ماہ قبل اس منڈی میں بیوپاریوں کا رش بڑھ جاتا ہے

جو نسبتاً کم قیمت میں جانور خرید کر اسے قربانی کے قریب اچھی قیمت میں بیچنے کے لیے خریداری کرتے ہیں۔

تاہم ا س سال ملیر کی منڈی میں معمول سے زیادہ رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بیوپاریوں کے مطابق اس کی وجہ سپر ہائی وے

والی منڈی کے لگنے کے حوالے سے شکوک اور شبہات  ہیں۔

منڈی کے قیام کے حوالے سے ضابطہ کار کی پابندی بھی ایک سوالیہ نشان ہے اور نہ صرف بیوپاری بلکہ

عوام بھی پریشان ہیں کہ منڈی میں ایس او پیز کی پابندی کیسے ہو گی۔

 ہائی وے پر قائم ہونے والی مویشی منڈی کے ترجمان یاور چاولہ نے بتایا کے ٹینڈر ملنے کے بعد سے منڈی کے قیام کے لیے

تیاریاں تیزی سے جاری ہیں اور اس بار پہلے سے مختلف نوعیت کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

یاور چاولہ  کے مطابق  کیونکہ اس سال صورت حال مختلف ہے، ہم اضافی لوگوں کوآنے سے منع کر رہے ہیں، خواتین بچوں اور

بزرگ افراد کے منڈی میں داخلے پر پابندی ہوگی جبکہ گاڑیاں بھر بھر کے آنے والے لوگوں کو بھی روکا جائے گا۔

جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ’ہم سندھ حکومت کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ انہوں نے شہر میں جگہ جگہ مویشی منڈی لگنے

پر پابندی عائد کر دی ہے کیوں کہ ان منڈیوں سے کرونا وائرس پھیلنے کا ذیادہ خطرہ ہے۔

ایک ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی اس منڈی کو مختلف سیکٹرز میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں سے وی آئی پی سیکٹر ہمیشہ سے

لوگوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے جہاں کیٹل فارمز مالکان اعلیٰ نسل کے جانوروں کو نمائش کے لیے رکھتے ہیں۔

اس سال کورونا وائرس کے سبب مویشی منڈی میں کیٹل فیسٹیول کا انعقاد نہیں کیا جائے گا

ساتھ ہی انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وی آئی پی سیکٹر قائم تو کیا جائے گا لیکن

وہاں جانوروں کی کیٹ واک یا ایسی کسی سرگرمی کی ممانعت ہوگی جس سے بلاوجہ بھیڑ لگنے کا اندیشہ ہو۔

ملک کے دیگر شہروں میں منڈیاں نسبتاً دیر سے اور عید کے قریب لگتی ہیں ۔

 اسلام آباد میں عید الاضحٰی کے موقع پر ایک بڑی اور چار چھوٹی مویشی منڈیاں لگتی ہیں۔ بڑی منڈی سیکٹر آئی الیون جبکہ

دیگر منڈیاں ترامڑی، بہارہ کہو، سید پور اور ترنول میں لگتی ہیں۔ بڑی منڈی کا انتظام میونسپل کارپوریشن جبکہ دیگر منڈیاں مقامی یونین کونسل دیکھتی ہیں۔

اسلام آباد میں کورونا  کی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ایس او پیز کے حوالے سے حکمت عملی طے کر لی گئی ہے۔

مویشی منڈی میں عام مارکیٹ سے زیادہ سخت ایس او پیز رکھے جائیں گے جو لوگ بھی اپنے جانور لائیں گے

ان کو اپنے اسٹال پر ہینڈ سینیٹائزرز اور سماجی فاصلے کے اصول کی پاسداری کرنا ہوگی۔

 جبکہ جس بھی اسٹال پر ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوگی اس کے مالک کو جرمانہ کیا جائے گا اور بار بار کی خلاف ورزی پر اسٹال منسوخ کر دیا جائے گا۔

لاہور میں عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی  شہر میں چھ مویشی منڈیاں سج جاتی ہیں،  لیکن اس سال  کورونا کے باعث

مویشی منڈیوں کی تعداد تیرہ کر دی گئی ہے، جو پندرہ جولائی سے فعال  ہوگٰئی ہیں  ابھی تک لاہور کے نواح میں 9 مویشی منڈیاں لگائی گئی ہیں

جہاں  حکومتی دعووإں کے برعکس صفائی کے ناقص انتظامات ہیں جبکہ  کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی بھی جاری ہے۔

پشاور میں  بھی عیدالاضحیٰ کی آمد پر مویشی منڈیاں سج گئی ہیں۔

پشاور کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں کورونا کے سدباب کے لیے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے

جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر متعلقہ انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

جبکہ جانوروں کی سب بڑی منڈی کوئٹہ شہر میں مشرقی بائی پاس کے علاقے میں قائم کی گئی ہے جبکہ

اس کے ساتھ کورونا کے ایس اوپیز کے حوالے سے ایک کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا۔

کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق منڈی کے مین گیٹ پر ٹمریچر زیادہ ہونے والے 30 سے زائد بیوپاریوں اور

ان کے ساتھیوں کو ٹیسٹ کے لیے بھجوانے کے لیے کہا گیا تو وہ اس پر مشتمل ہوگئے اور

انھوں نے مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی کی۔ جس کے بعد فی الوقت منڈی کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔

ملک کے طول عرض میں چھوٹی بڑی منڈیاں لگ گئیں ہیں تاہم  اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ اور

شہری اپنی  صمی داریاں کس حد تک پوری کرتے ہیں کیونکہ کورونا کا واحد حل احتیاط ہے جس پر بد قسمتی سے عمل درااامد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *