کے الیکٹرک مافیا ہیں کیا؟؟ دینگی جواب کے الیکٹرک کی ترجمان

کے الیکٹرک مافیا ہیں کیا؟؟ دینگی جواب کے الیکٹرک کی ترجمان

7 views

 بجلی چوری  کنڈا سسٹم  لوڈ شیڈنگ   آخر کے الیکٹرک مافیا ہیں کیا؟؟

فہمیدہ  یوسفی

نور سب سے پہلے تو اپ مجھے یہ بتادیں کہ  کے الیکٹرک ہے کیا  لوگ آپ پر اعتبار کیوں نہیں کرتے ؟

اگر ہم کے الیکٹرک کی تاریخ دیکھیں تو  کے الیکٹرک  1913   میں  قائم کی گئی  تھی  اور اگر دیکھا جائے  تو اس کی تاریخ  107 سال پرانی ہے ۔

جبکہ اس کی ہرائیوٹایزیشن    کا  وقت دیکھیں تو نئی مینجمنٹ کو آئے ابھی صرف دس سال ہوئے ہیں

تو جیسا کہ ہم بچوں کو بھی ٹائم دیتے ہیں  کہ وہ  آگے بڑھیں پھلیں پھولیں میچور ہوں  اور بہتری  کی طرف جائیں  اسی طرح  اداروں کو بھی  مناسب وقت کی ضرورت ہوتی ہ

ے  تاکہ وہ بہتری لا سکیں اگر  میں آپ کو صرف  یہاں ایک مثال دونگی  کہ جس ٹائم  پر نئی مینجمینٹ آئی تھی  اسوقت  تو کراچی کا صرف  تئیس فیصد حصہ لوڈ شیڈنگ سے

مستشنی تھا  آج کراچی کا  ستتر  سے زائد   لوڈشیڈنگ سے اب  مستشنی ہے  اس وقت  کے الیکٹرک کا اپنا حال یہ تھا  کہ اس میں بہت عرصے سے انویسمنٹ نہیں ہوئی تھی

  جبکہ سپلائی ڈیمانڈ  کا تناسب  بہت بڑھ گیا تھا  گھنٹوں کے حساب سے بجلی جاتی تھی  مجھے اپنا یا د ہے کہ ہم فون کرتے تھے

لیکن   فون  کوئی نہیں اٹینڈ کرتا تھا  اگر آج وہی کے الیکٹرک آپ دیکھیں تو آج ہماری ایک موبائل ایپ ہے ایس ایم ایس ہے  کال سینٹر ہے

 تیس ہمارے کسٹمر کئیر سینٹر ہیں  ہمارے کسٹمر بہت سارے طریقوں سے ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں  کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہم سے رابطہ کریں

 اور  ہمیں بتادیں  کہ ہم ان کو بہتر کس طرح کرسکتے ہیں  یہ بہت ضروری ہے کہ  کسی ایک وقت کو اٹھا کر  ہماری کارکردگی پر سوالیہ نشان نہ کھڑا کیا جائے

 اگر میں آپ کو صرف دو تین مہینے   پہلے  کا بتادوں  تو  جب لاک ڈاون شروع ہوا تو  ہم نے  کراچی کے کسی بھی حصے میں  لوڈشیڈنگ  نہیں  کی

وہ علاقے  جہاں  اسی اسی  فیصد بجلی چوری ہوتی تھی وہاں بھی ہم نے بجلی  کی لوڈ شیڈنگ  نہیں کی  نقصان  برداشت کرتے ہوئے بجلی دی

  کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے  اب یہ ایک مشکل صورتحال ہے ہمارے صارفین  کے لیے بھی مشکل صورتحال ہے  ہمارے لیے بھی مشکل ہے

کیونکہ ہمیں  بھی  تو مینیج کرنا ہے  لیکن اگر ہم تھوڑا سا تحمل سے کام لیں تو یہ وقت گزر جائیگا لیکن تھوڑی  سے سپورٹ ہمیں چاہیے ہوگی  تاکہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں

  اس وقت سپلائی ڈیمانڈ کا شارٹ ٹرم پرابلم ہے  لیکن یہ وقت گزر جائیگا

کراچی کی ڈیمانڈ  چھتیس سو  میگا واٹ ہے جبکہ  آپ لوگ  بتیس سو  میگا واٹ  ہی سپلائی کرپارہے ہیں  تو دس سال میں کیا  آپ لوگوں نے اپنی سپلائی بڑھائی

جب ہم آئے تھے  تو  سپلائی ڈیمانڈ شارٹ فال بہت زیادہ تھا  تقریبا دو اعشاریہ چار  ارب ڈالرز کی ہم نے سرمایہ کاری کی  جس سے ہزار میگا واٹ  کے لگ بھگ سسٹم میں ایڈیشن ہوا

  تین نئے  پلا نٹ  ایڈ ہوئے تاکہ ہم جنریشن کی   استدداد بڑھاسکیں  جس کی وجہ سے کراچی گزشتہ کچھ سالوں سے  سرپلس پوزیشن میں تھا

جبکہ لوڈ مینیجمنٹ ختم ہوگئی تھی  جبکہ کراچی کا ستتر فیصد ھصہ لوڈ شیڈنگ سے مستشنی تھا جبکہ انڈستڑیز کو بھی  ہم نے سو فیصدی

بجلی دی

بجلی کی پلاننگ میں ٹاٗئم لگتا ہے  ہم آٗئسولیشن میں پلاںٹ نہیں لگاسکتے  کوئی ٹرانسمیشن کا نیٹ ورک نہیں  لگاسکتے

 کسی بھی بجلی کے منصوبے کو دو سے تین سال لگ سکتے ہیں اس کے لیے وفاق کی منظوری بھی ضروری ہے

جون 2020 میں ہم سے کہا گیا کہ   سات سو میگا واٹ کے پلانٹ  کو  نہیں آگے  بڑھائینگے

اگر اپروول کے مسائل ہونگے تو  ہم کیا کریں  جو ہمارے دائرہ اختیار سے باہرر  ہیں کیونکہ ہمارا کام یہ ہے  کہ  ہم کہیں ہم یہ پاور پلانٹ لگانا چاہتے ہیں

اور اس کا  فنانس  کیسے کرنا ہے  لیکن اس کے اپروول کا  پراسس ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے  اگر ہمارا پاور پلانٹ ٹائم سے اپرور ہوجاتا  تو شاید آج یہ  حالات نہ ہوتے

  تو ہم نے اپنے منصوبے بنائے ہیں  ایک نو سو میگا واٹ کا پلانٹ ان پراسس ہے

جبکہ 2021 میں وہ کام کرنا شروع کردیگا  اور اگلی گرمیوں سے پہلے  تو اگلے سال حالات بہت بہتر ہونگے

جبکہ ہمیں  اکیس سو میگا واٹ مل رہا ہے  نیشنل گڑ ڈ سے  اس کے لیے بھی ہم  کام کررہے ہیں  اس کا پراسس  بھی  شروع ہوگیا

 اور اگلے  ایک  سے تین سال تک  کراچی  کی پاور شارٹ فال سے پاور سر پلس پر جائے گی

دو ارب ڈالر کا ہمارا روبسٹ پلان ہے  جو اگلے تین سال میں سرمایہ کاری آئیگی  ہم نے دس سال میں  دو اعشاریہ چار ارپ  کی تھی

اور ہم  تین سال میں دو ارب کے لگ بھگ دوبارہ سرمایہ کاری کرینگے

تو ہم بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں

لیکن  لوگ آپ پر اعتبار نہیں کرتے  چاہے حکومت  ہو یا اپوزیشن  سبھی آ پ کی خلاف احتجاج کرتے ہیں 

بلکہ   احتجااج اتنا  شدید ہوتا ہے کہ   لوگ سڑکوں پر آجاتے ہیں شاہراہ فیصل بلاک  کردیتے ہیںتو کیسے دیکھتی ہیں آپ

 میں یہاں یہ کہنا  چاہونگی کہ ہم بجلی بیچنے  کا  ادارہ  ہیں  یہ تو کہا ہی  نہیں جاسکتا کہ ہم جان بوجھ کر بجلی نہیں بیچنا چاہتے

کیونکہ ہم اگر یہ کرینگے تو ہمیں نقصان ہوگا  اور کچھ چیزیں اختیار میں ہوتی ہیں کچھ نہیں ہوتی ہیں  اختیار میں کیا ہے  کہ ہم  اپنے کسٹمرز کے لیے موجود ہوں

 فالٹ دور کریں  پلانٹس آپریٹ  کرتے رہیں  ہمارے کسٹمر کئیر سینٹر چل رہے ہوں  فعال ہوں  اپنا سسٹم اپ گریڈ کریں یہ ہم کررہے ہیں  جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے

  وہ  اگر سڑکوں پر پانی ہے  تو ہم بجلی نہیں دے سکتے  تو یہ کسی اور ادارے کا کام ہے  اگر ہمیں ٹائم سے اپروول مل جائیں

تو ہمارا کام آسان ہوجائے  تو جو کام کے الیکٹرک کا ہے

وہ وہ کرے اور وہ نہ کرے تو آپ  احتجاج کریں  لیکن دوسرے اداروں کا ملبہ ہم پر نہیں ڈالا جائے

اچھا جب  بارش  کے بعد یہ بجلی کے تار گرتے ہیں اور کرنٹ آتا ہے  جس سے بہت نقصان  ہوتا ہے تو آپ لوگوں کا  پورے  شہر کے کیبل سسٹم کرنے کا پلان کہا تک پہنچا

 دکھیں ہمارے  کھمبوں پر دوسری  وائرز  لگادی جاتی ہیں  اسٹریٹ  لائٹس لگادی جاتی ہیں  اگر اس طرح کی تجاوازات کی جائینگی   تو  سیفٹی پروٹووکول بائے پاس ہونگے

  ٹی وی اور انٹر نیٹ کے کیبل لگے ہوئے ہیں  اور بارش میں  ہمارے تاروں کو ان کی وجہ سے آگ  لگتی ہے  توظاہر ہے جب  بارش یا ہوائیں چلتی ہیں

یہ گرتی ہیں  تو اس میں بھی بجلی ہوتی ہے  تو پانی میں کیا صورتحال ہوگی  اسٹریٹ لائٹ سوئچ کی تاریں ناقص ہوتی ہیں   دو سے تین لاکھ کنڈے ہٹاتے ہیں

ننگی تاریں ہیں   ان سے حادثات ہوتے ہیں  اور کیسے کیسے  حادثات ہوتے ہیں آپ کو پتہ ہے لیکن یہ سوسائٹل ایشو ہے  لیکن آپ کا سپورٹ چاہیے  جو بھی کنڈا گرے گا

بچے کی ہلاکت ہوگی تو کون  ذمہ دار ہوگا   جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں  ہے وہ کس  کی ذمہ داری ہے

اچھا کنڈا سسٹم  کی بات ہے  تو کے الیکٹرک  کے  اپنے لوگ شامل ہوتے ہیں  تو کیا کررہے ہیں آپ لوگ

 

 کنڈا لگانا بہت آسان ہے  بچے تک لگاتے ہیں  لیکن یہ بچوں سے گھر کے کنڈے لگواتے ہیں تو یہ جان لیوا ہیں اور تو کالی بھیڑیں ہوتی ہیں

لیکن ہم کوئی پیسہ نہیں لیتے اور  اگر کوئی  اس میں شامل ہے تو اس کےلیے آپ شکایت کریں  تو اس سے  ہم کو  نقصان ہورہا ہے   جہاں جہاں ہم کو  شکایت ملی ہم نے ایکشن   لیا ہے

کراچی کی اوور بلنگ کا ایشو  کیا ہے

 

اوور بلنگ کا جو  لفظ ہے یہ بہت کامن  ہوگیا ہے  اور ایک ہمارے لیے  بھی معمہ بن گیا ہے   بجلی کا بل دو چیزوں پر بنتا ہے بجلی کا ریٹ  اور  دوسرا بجلی کا یونٹ

بجلی کاریٹ نیپرا سیٹ کرتی ہے  وہ تمام ڈسٹری بیوشن کمنی کے لیے سیٹ کرتی ہے  اور بجلی کا ریٹ پورے ملک میں یکساں ہونا چاہیے  اور ددوسری چیز ہے ریٹ

جتنی   بجلی آپ استعمال کرتے ہیں  وہ میٹر ریڈنگ سے پتہ  چل جاتی ہے  ان دونوں نمبرز  کا حاصل  اور اس پر کچھ ٹیکسز لگاکر ہم  بل بھیجتے ہیں

  کے  الیکٹرک بجلی کے بل میں  نہ ٹیرف میں  کسی قسم کی ردو بدل  نہیں کرسکتا  تو اوور بلنگ تو تکنیکی طور پر نہیں ہو سکتی اور

اگر کہیں  غلطی ہوئی ہے تو ہم اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش  کررہے ہیں  ہمارے تیس کسٹمر کئیر سینٹر موجود ہیں  ہمارا کال سینٹر موجود ہے

  اس کے ساتھ ساتھ نیپرا  کا ریجنل آفس موجود ہے  وفاقی محتسب کا دروازہ بھی ہے

بل  جب زیادہ آتا ہے تو یونٹ زیادہ استعمال کیے ہوتے ہیں  اور یونٹ میٹر میں ریکارڈ کیے ہوتے ہیں  اور میٹر بھی کے الیکٹرک نہیں بناتا ہے

 

نیپرا نے پھر آپ کو نوٹس ایشو کیا ہے جبکہ میرا  خیال ہے  کہ آپ لوگ وزیر اعظم کی بھی نہیں سنتے

 

نہیں ایسا نہیں ہے ہم سب اداروں کا احترام  کرتے ہیں نیپرا کے نوٹس کا ہم تفصیلی جواب دینگے  لیکن بات وہیں آگئی کہ ہمیں ایسی چیزوں کا ذمہ دار ٹہرایا جائے

جس کے ہم ذمہ دار نہیں  ہیں  تو ہم اس کا کچھ نہیں کرسکتے  آپ ذمہ داری دے دیں لیکن اس کا حل ہمارے پاس نہیں یے تو ہم کیا کریں  فرنس آئل کی شارٹیج ہوئی تو

نہ ہم   فرنس آئل بناتے ہیں نہ بیچتے ہیں  وہ فرنس آئل ہمارے ٹینک میں ہوگا تو  ہم ضرور اس سے بجلی    کی پیداوار کرینگے

لیکن اس کی  پیداوار  کے لیے بھی ہم  کو قصور وار ٹہرانا ہے تو یہ نا انصافی ہے

 

مگر یہ لوڈشیڈنگ کا  کا ایشو کیسے حل ہوگا  ہم صارفین جو بل دیتے ہیں  ہمارا قصور کیا ہے

 

 اس میں دو چیزیں سمجھنے کی ہیں ایک  ہے لوڈ شیڈنگ ایک ہے لوڈ مینجمنٹ لوڈ شیڈنگ کا تعلق صرف بجلی چوری سے  ہے  اور یہ وہاں کی جاتی ہے

جہاں بجلی چوری ہوتی ہے دوسری ہے  لوڈ مینجمنٹ  جن علاقوں میں ریکوری ریٹ  مکمل ہے ہم وہاں لوڈ شیدںگ نہیں کرتے

  کچھ عرصے کے لیے شہر میں  3600 میگا واٹ  کی ڈیمانڈ آتی ہے

جو ایک سے دو گھنٹے ہر ہوتی ہے  تو لوڈمینجمنٹ کرنا پڑتی ہے

اور ہمیں وقت دیں ہم چیزوں کو بہتر اور بتری کی طرف لیکرجائینگے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *