پانچ ہزار نوٹ کی قدر و قیمت

پانچ ہزار نوٹ کی قدر و قیمت

33 views

دنیا بھر میں لین دین، کاروبار، خرید و فروخت کرنے کے لیے کرنسی نوٹ سکوں گا استعمال کیا جاتا ہے ہر ملک کی اپنی ایک کرنسی ہے ہر ملک کی معشیت کا اندازا اس ملک کی کرنسی سے با آسانی لگایا جاسکتا ہے کرنسی ملک کی معیشت بہتر بنانے میں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہے۔

صبحین عماد

اب اگر ہم پاکستانی کرنسی کی بات کریں تو یکم اپریل 1948 ہی کو حکومت نے ایک پائی، آدھا آنہ، دو آنہ، پاؤ روپیہ، نصف روپیہ اور

ایک روپیہ کے سات سکوں کا ایک سیٹ جاری کیا اور اس وقت کے وزیر خزانہ غلام محمد نے ایک خوبصورت تقریب میں یہ

سیٹ قائداعظمؒ کی خدمت میں پیش کیا۔ پاکستان میں مالیاتی نظام کا باقاعدہ آغاز جولائی 1948 میں کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح سے ہوا۔

اس کے بعد ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری اور اپنے سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے قیام کے لیے کوششیں تیز کردی گئیں

ان کوششوں کے نتیجے میں درج ترتیب سے سکوں اور نوٹوں کا اب تک کا اجرا ہوتا رہا ہے۔

یکم اکتوبر 1948 کو حکومت پاکستان نے پانچ روپے، دس روپے اور سو روپے کے کرنسی نوٹ جاری کیے۔

سال 1987 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک ہزار روپے کا کرنسی نوٹ جاری کیا جو مالیت کے اعتبار سے اُس وقت پاکستان کا

سب سے بڑا کرنسی نوٹ تھا لیکن مئی 2006 کو اسٹیٹ بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے ملکی تاریخ کے سب سے

بڑے پانچ ہزار مالیت کے کرنسی کے اجرا کا اعلان کیا،  یہ پاکستان کاآخریسب سے بڑا پانچ ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ہے ۔

جِس کے بعد ابھی تک اِس سے زیادہ مالِیّت کا نوٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانِب سے جاری نہیں کیا گیا جبکہ

اِس کرنسی نوٹ کے عقب پر جِس جگہ کی تصویر شائع کی گئی ھے وہ اسلام آباد میں واقع پاکستان کی سب سے بڑی مسجد “فیصل مسجد” کی تصویر ھے ۔

فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ایک عظیم الشان مسجد ھے جِسے جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی مسجد ھونے کا اعزاز حاصل ھے۔

یہ عظیم مسجد اپنے انوکھے طرزِ تعمیر کے باعث تمام مُسلم دُنیا میں معروف ھے ، مسجد کا سنگِ بُنیاد اکتوبر 1976ء کو رکھا گیا اور تکمیل 1987ء میں ھوئی۔

شاہ فیصل مسجد کی تعمیر کی تحریک سعودی فرمانروا شاہ فیصل بِن عبدالعزیز نے 1966 کے اپنے دورہِ اِسلام آباد میں دی ۔

سال 1969 میں ایک بین الاقوامی مقابلہ منعقد کرایا گیا جس میں 17 ممالک کے 43 ماہرِفنِ تعمیر نے اپنے نمونے پیش کِیے

چار روزہ مباحثہ کے بعد تُرکی کے ویدت دالوکے کا پیش کردہ نمونہ مُنتخب کِیا گیا ، پہلے پہل نمونے کو روایتی مسجدی محرابوں اور

گُنبدوں سے مُختلف ھونے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

پرتنقید کے باوجود نوٹ جاری کردیاگیا.. جس کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، الٹا پانچ ہزار کے نوٹ نے کرپشن کو

آسان کردیا ہے، 20 نوٹوں کی شکل میں ایک لاکھ روپے سے کسی کی بھی مٹھی گرم کی جاسکتی ہے اور بڑے سے بڑا کالا دھن

اک چھوٹے سے بریف کیس میں ڈال کر ایک سے دوسری جگہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

امریکا جیسی سپرپاور نے اسی ممکنہ کرپشن کے پیش نظر آج تک اپنی کرنسی کو نہیں بڑھایا۔

کسی بھی ملک میں سب سے بڑے کرنسی نوٹ اور سب سے کم سکے کو دیکھ کر ہی اس کی معیشت اور کرنسی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

پاکستانی معیشت کی کہانی بھی اس کی کرنسی سے واضح ہورہی ہے۔ سب سے بڑا کرنسی نوٹ تو پانچ ہزار روپے کا تھا

اب سکّہ بھی 10 روپے کا، حالانکہ دنیا بھر میں کم ترین کرنسی کو سکّوں کی شکل میں جاری کیا جاتا ہے۔

ایسا لگتا ہے حکومت کا یہ اقدام کالے دھن کو باہر لانے  یا کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ

شاید اس سے یہ ہوگا کہ جن لوگوں کے پاس کالا دھن ہے، انہیں لامحالہ یہ رقم باہر نکالنی پڑے گی

اگر وہ یہ رقم بینکوں سے تبدیل کرانے کے لیے منظرعام پہ لاتے ہیں یا کھاتوں میں جمع کراتے ہیں تو انہیں ایف بی آر کو جواب دینا ہوگا کہ

یہ رقم ان کے پاس کہاں سے آئی، مزید اس اقدام سے کوئی بھی ایمنسٹی سکیم دیے بغیر ٹیکس چوروں کی بھی نشان دہی ممکن ہوپائے گی اور

ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جا سکے گا، جس سے بلاواسطہ ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور مہنگائی کی

چکی میں پستے عوام راحت کا سانس لے پائیں گے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *