پاکستان کورونا وائرس کی جنگ جیت گیا

پاکستان کورونا وائرس کی جنگ جیت گیا

22 views

کورونا وائرس کے آگے امریکا ، بھارت ، برازیل اور فرانس سمیت کئی ممالک بے بس ہوگئے وہیں پاکستان کورونا جنگ میں سرخرو رہا،اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی پاکستان کیلئے مثبت ثابت ہوئی۔

صبحین عماد

جہاں پوری دنیا ہی کورونا جیسی عالمی وبا کی زد میں آئی وہیں پاکستان میں بھی کرونا نے اپنے پنجے گاڑ لیے ۔

کورونا کی صورت میں عالمی سطح پرحکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج سامنے آیا، وبا کا پھیلاؤ روکنا اور معاشی سرگرمیاں بحال رکھنا

حکومتوں کی اولین ترجیحی تھی۔

کورونا نے جہاں مضبوط معیشتوں کو متاثر کیا وہیں ترقی پذیرممالک کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

اس وبا نے پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، پاکستان میں بھی کورونا کے کیسسز میں بڑھتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے

حکومت کو پریشانی نے آن گھیرا تھا ۔

دنیا بھر میں اس پھیلتی وبا کی وجہ سے ہر طرف سے ایک لفظ کی سدا گونج رہی تھی اور وہ تھا “لاک ڈاوٗن” دنیا بھر میں جنوری 2020 کے

وسط میں اس وقت تیزی آئی جب چین نے کورونا وائرس کے پھیلنے کے پیش نظر شہروں کو بند کرنا شروع کیا۔

چین نے کم سے کم اپنے 30 شہر کو مکمل یا جزوی طور پر لاک ڈاؤن کیا اور اسی وجہ سے ہی چین نے وبا پر قابو پایا ۔

دوسری جانب جنوبی کوریا اور پھر ایران میں تیزی سے کورونا وائرس پھیلنے لگا۔

ایران کے بعد جب کورونا وائرس اٹلی پہنچا اور انسانی جانوں کے نقصان پر اٹلی کی حکومت نے وائرس کے دوسرے ہی ہفتے

لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کردیا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور وہاں پر مریض حد سے زیادہ رپورٹ ہونے لگے اور

اسی وجہ سے اٹلی میں سب سے زیداہ اموات دیکھنے میں آئی ۔

اٹلی سے سبق سیکھتے ہوئے دنیا بھر سمیت پاکستان نے بھی لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ لیا ۔ حلانکہ یہ فیصلہ کئی ممالک کی

طرح دیر سے کیا گیا لیکن بر وقت فیصلے نے اتنا نقصان نہ کیا پاکستان کا جتنا تصور کیا جارہا تھا۔

پاکسستان میں لاک ڈاؤن 23 مارچ سے شروع کیا گیا، صوبے میں لاک ڈاؤن کا اعلان وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کیا

جنہوں نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران سارے دفاتر،اجتماع گاہیں اور عوامی ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گی۔

لاک ڈاؤن کے دوران اگرچہ شہر میں نقل و حرکت بند ہوگی تاہم شہر بھر کے علاقوں میں موجود میڈیکل اسٹورز، بیکری، دودھ فروش

سبزی و پھل فروش اور گوشت فروش سمیت اشیائے خورونوش کی دکانیں کھلی رہیں گی جبکہ صوبے بھر کی تمام بڑی مارکیٹیں بھی بند رہیں گی۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق غیر ضروری طور پر کسی بھی شخص کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی اور انتہائی مجبوری

کی حالت میں اگر کوئی گھر سے نکلے تو اپنا شناختی کارڈ ساتھ رکھے۔

صوبے سندھ کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی کورونا کے کیسسز میں اضافہ کی وجہ سے مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ۔

اس فیصلے کے بعد پوری دنیاسمیت پاکستان میں بھی میں تعلیمی ادارے، کاروباری ادارے، کمپنیاں، عوامی مقامات، سینما گھر

ریسٹورنٹس اور یہاں تک مذہبی عبادت گاہیں بھی بالکل بند کردی گئی یا پھر اگر کہیں کچھ مذہبی عبادت گاہیں کھلی بھی ہیں

تو وہاں پر بہت زیادہ لوگوں کے آنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی ۔

اس فیصلے کے بعد حکومت کو کئے چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا پورے ملک کو بند کردینا اور لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنا

آسان نہیں کیونکہ پاکستان میں آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ غربت کے نیچے دبا ہوا ہے۔

 محنت کش انسان جو روز کما کے کھانے والا ہے اس کے لیے ایسے حالات کا مقابلہ کرنا نا ممکن ہوتا جارہا تھا ۔

ونہی مذہبی عبادت گاہیں بند کرنے پر بھی بحث چھیڑ گئی تھی ایسے حالات میں حکومت پاکستان نے 24 اپریل کو اسمارٹ

لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے متعدد صنعتوں اور مختلف شعبوں کو احتیاطی تدابیر اور خصوصی ضابطہ کار کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود درست فیصلے کیے، انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی پر عملدرآمد کا دلیرانہ قدم اٹھایا۔

جس سے نہ صرف وبا کے پھیلاؤ میں واضح کمی آئی بلکہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور بے روزگار طبقے کو حوصلہ ملا۔

وزیراعظم عمران خان نے کورونا سے نمٹنے کا واحد حل اسمارٹ لاک ڈاؤن کو قرار دیا اور احتیاطی تدابیرکے ساتھ معاشی سرگرمیوں کی اجازت دی۔

وقت کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کے بڑے فیصلے نے اپنی اہمیت ثابت کی اور دنیا بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو گ

، بیشتر ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے عمران خان کی صحت اور ذرائع معاش میں توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی کی حمایت کی۔

جس کامقصد غربت اوربھوک سے زیادہ اموات کے خطرات سے بچانا تھا۔

ملک میں نادار اور مستحق طبقے کےلئے نقد رقوم کی صورت میں بروقت اور شفاف ریلیف پیکج کوبھی اقوام عالم نے ایک بڑا اقدام قراردیا۔

جس کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائدمتاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کی گئی۔

کورونا کے باعث درپیش سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی متوازن حکمت عملی کو دنیا بھرکے میڈیا اور

معروف سائنسدانوں نے بھی سراہا۔

ملک میں کوروناکیسز میں نمایاں کمی اس بات کی غماز ہے کہ حکومت کے بروقت فیصلے نے جہاں وبا کے پھیلاؤ کو کم کیا وہیں

معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے متاثرہ طبقےکو بڑی حدتک ریلیف ملاہے۔

 حلایہ رپوٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کہ کیسز میں واضح کمی سامنے آئی ہے جس کی بناء پر پاکستان میں لاک ڈاؤن ختم کرنا

کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن یہ بھی واضح رہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرنا لازم ہوگا ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *