inam ghani

آئی جی پنجاب کی تبدیلی پر پولیس ناخوش

192 views

جونیئر افسر کو آئی جی پنجاب تعینات کرکے پنجاب حکومت نے نئی مثال قائم کردی پنجاب حکومت نے اپنے تیسرے سال کی ابتداء میں ہی آئی جی پولیس تبدیل کرنے کی ڈبل ہیٹرک مکمل کرلی ۔

صبحین عماد

 ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب پولیس کی کمانڈ سنبھالنے والے چھٹے آئی جی انعام غنی کی تعیناتی تنازعات کا شکار ہوگئی ہے،جس کے باعث پنجاب میں

انعام غنی سے سینئر ایڈیشنل آئی جیز غیریقینی صورتحال کا شکار ہوگئے جبکہ ایک افسر نے ان کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر دیا۔

چین آف کمانڈ کے حوالے سے ڈاکٹر شعیب دستگیر اور صوبے کی ایک اعلی شخصیت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد شعیب دستگیر کو

عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ موجودہ حکومت کے دوران دو سالوں میں ڈاکٹر کلیم امام، محمد طاہر، امجد جاوید سلیمی، کیپٹن (ر) عارف نواز خان بھی

حکومت اور پولیس کی مبینہ سرد جنگ کا شکار ہوئے۔

نجی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس ڈاکٹر طارق مسعود یاسین نے گزشتہ روز ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر کے ذریعے پنجاب حکومت

کو ایک خط لکھ دیا ہے۔

inam bari I G Punjab 2

جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سنیارٹی کے لحاظ سے میں نئے تعینات ہونے والے آئی جی انعام غنی سے سینئر ہوں اس لیے میں ان کے ماتحت کام نہیں کر

سکتا مجھے تبدیل کر دیا جائے اگر تبدیلی فوری ممکن نہیں تو مجھے رخصت دیدی جائے۔

اس کے برعکس دیگر دو ایڈیشنل آئی جیز نے حکومت کو باضابطہ طو رپر حکومت کو اپنے تحفظات سے تو آگاہ نہیں کیا تاہم انہوں نے بھی نئے تعینات ہونے

والے آئی جی کے ماتحت کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ پنجاب پولیس کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی پولیس آفیسر نے حکومت کو خط لکھ کر خود کو

تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔

دوسری جانب نئے آئی جی کی تعیناتی کے بعد آئندہ چند یوم میں پولیس میں بڑے پیمانے پر ’’ری شفل ‘‘ ہوگا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایڈیشنل

آئی جی و مینیجنگ ڈائریکٹر پنجاب سیف سٹی راؤ سردار علی خان، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی آپریشنز سہیل اختر سکھیرا سمیت دیگر

افسران کو صوبہ بدر کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ افسران نے نہ صرف چین آف کمانڈ کو توڑا بلکہ سابق آئی جی

شعیب دستگیر کی ممکنہ تبدیلی مزاحمت کی ہے۔

خیال رہے کہ نئے تعینات ہونے والی آئی جی انعام غنی کا کہنا ہے کہ کسی بھی آفیسر کے لیے ٹیم ورک بہت اہم ہوتا ہے، میں جہاں سمجھوں گا اپنی ٹیم میں

تبدیلیاں لاؤں گا۔

دوسری جانب سبک دوش ہونے والے آئی جی ڈاکٹر شعیب دستگیر کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کی اصلاح کے لیے بہت کام کیا ہے، بعض امور پر حکومت اور

بیورو کریسی ایک پیج پر نہیں ہوتے جس کے باعث افسران کی تبدیلی عمل میں لائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں اصلاحات کے نظام کو جاری رکھا

ہوا تھا، گراس روٹ لیول پولیس ڈھانچے کی ری اسٹرکچرنگ جاری تھی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *